Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 233

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنَ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِىْ حَاجَةِاَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِىْ حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِھَاكُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.( )

عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه من كان فى حاجةاخيه كان الله فى حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بھاكربة من کرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت پوری فرمائے گا اور جس نے اپنے

کسی مسلمان بھائی کی ایک مصیبت کو دُورکیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دُور فرمائے گااور جس نے کسی مسلما ن کی دنیا میں پردہ پوشی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والےکثیر آداب کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاًمسلمانوں کے درمیان حسن معاشرت ، باہمی اُلفت ، مومنوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی ترغیب اور اُن عیوب کے سننے اور انہیں مشہور کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ مسلمانوں کو آخرت میں جو جزا ملے گی وہ دنیاوی عبادات کی جنس سے ملے گی۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : “ مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا یہ مستحب ہےلیکن یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اس گناہ کو تنہائی میں کرے اور اس پر نادم بھی ہو اور اگر وہ سب کے سامنے کوئی گناہ کرے اور اس پر اصرار بھی کرے تو اس صورت میں پردہ پوشی نہیں کی جائے گی کیونکہ حدیث پاک میں حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کیا تم فاجر کے عیب کو بیان کرنے میں رعایت کرتے ہو ؟ اس میں جوعیب ہے ، اسے لوگوں میں بیان کرو تاکہ لوگ اس کو پہچان لیں اور اس کے فتنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ‘‘( )
اللہ
نے پردہ رکھا تو خود بھی پردہ رکھو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : علامہ ابن المنذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’جو اپنے مسلمان بھائی کے کسی ایسے عیب یا غلطی پر مطلع ہو جو حد یا تعزیر کولازم کرتی ہویا اس کے ظاہر ہونے سے اس پر عیب لگتا ہو یا اس کی بے عزتی ہوتی ہو تواس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس کے عیب کو چھپائے اور جو خود کسی ایسے کام میں مبتلا ہوتو اس پر لازم ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھا ہے تو وہ بھی اپنا پردہ رکھےاور جو ایسانہ کرے بلکہ قاضی اسلام کے سامنے اس (گناہ) کا اظہار

کرکے حد کا اقرار کرلے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا اور کسی حدیث میں اس سے ممانعت نہیں ہے ۔ ‘‘ ( )
حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بھائی کہنے کا حکم:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مسلمان مسلمان کا دینی بھائی و اسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لئے سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا اور مسلمان کو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بھائی بنایا۔ حضور سے رشتہ غلامی قوی ہے ، ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ حضورمسلمانوں کے بھائی نہیں ، حضور تو مثل والد کے ہیں ، اس لئے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ، بھاوج نہیں ۔ یہ بھی معلوم ہواکہ مومن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرانِ کریم نے مومنوں کو بھائی قرار دیا اورحضور نے یہاں مسلمانوں کو ۔ خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اَحکام کے اعتبار سے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : “ سبحٰن اللہ کیسا پیارا وعدہ ہے مسلمان بھائی کی تم مدد کرو ، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ مسلمان کی حاجت روائی تم کرو اللہ تمہاری حاجت روائی کرے گا۔ معلوم ہواکہ بندہ بندے کی حاجت روائی کر سکتا ہے ، یہ شرک نہیں۔ بندہ بندے کا حاجت روا مشکل کشا ہے ۔ اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھادوکہ اس کی اصلاح ہوجائے ، اسے بدنام نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہتعالیٰ قیامت کے دن تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لےگا ، تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ہاں جو کسی کی ایذاکی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو ، اس کا اظہار ضرور کردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جائے یا یہ توبہ کرے ، یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔ غرض کہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسروں کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے ، یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔ یہاں(صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے ربّ تعالیٰ اس کی سات سو عیب پوشیاں کرے گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
اسم رسالت ’’محمد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) ايك مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی واسلامی بھائی ہے بلکہ سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ سگے بھائی کا رشتہ ماں باپ کی وجہ سے قائم ہوتا ہے جبکہ دینی بھائی تو خود رسولِ کائنات ، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنایا۔
(2) احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کے حُسنِ معاشرت ، باہمی اُلفت ومحبت اور مؤمنوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی بکثرت ترغیب دلائی گئی ہے۔
(3) مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ، بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کے عیوب کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا یا اُس کی عیب جوئی کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(4) کھلم کھلا گناہ کرنے والے کے گناہ کی پردہ پوشی نہیں کی جائےگی بلکہ اُس کے گناہ سے بچانے کے لیے لوگوں کو اُس کے اس گناہ کے بارے میں بتايا جائے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کی عزت وحرمت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کی خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی عیب جوئی سے محفوظ فرمائے ، اُن کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کل بروزِ قیامت ہمارے گناہوں کی بھی پردہ پوشی فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 233