- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 233
حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 233
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ ابْنَ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِىْ حَاجَةِاَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِىْ حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِھَاكُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.( )
عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه من كان فى حاجةاخيه كان الله فى حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بھاكربة من کرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت پوری فرمائے گا اور جس نے اپنے
کسی مسلمان بھائی کی ایک مصیبت کو دُورکیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دُور فرمائے گااور جس نے کسی مسلما ن کی دنیا میں پردہ پوشی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ ‘‘
شرح حدیث
مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی مستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والےکثیر آداب کو بیان کیا گیا ہے۔ مثلاًمسلمانوں کے درمیان حسن معاشرت ، باہمی اُلفت ، مومنوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی ترغیب اور اُن عیوب کے سننے اور انہیں مشہور کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ مسلمانوں کو آخرت میں جو جزا ملے گی وہ دنیاوی عبادات کی جنس سے ملے گی۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : “ مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنا یہ مستحب ہےلیکن یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اس گناہ کو تنہائی میں کرے اور اس پر نادم بھی ہو اور اگر وہ سب کے سامنے کوئی گناہ کرے اور اس پر اصرار بھی کرے تو اس صورت میں پردہ پوشی نہیں کی جائے گی کیونکہ حدیث پاک میں حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’کیا تم فاجر کے عیب کو بیان کرنے میں رعایت کرتے ہو ؟ اس میں جوعیب ہے ، اسے لوگوں میں بیان کرو تاکہ لوگ اس کو پہچان لیں اور اس کے فتنے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ‘‘( )
اللہنے پردہ رکھا تو خود بھی پردہ رکھو:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : علامہ ابن المنذر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : ’’جو اپنے مسلمان بھائی کے کسی ایسے عیب یا غلطی پر مطلع ہو جو حد یا تعزیر کولازم کرتی ہویا اس کے ظاہر ہونے سے اس پر عیب لگتا ہو یا اس کی بے عزتی ہوتی ہو تواس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس کے عیب کو چھپائے اور جو خود کسی ایسے کام میں مبتلا ہوتو اس پر لازم ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھا ہے تو وہ بھی اپنا پردہ رکھےاور جو ایسانہ کرے بلکہ قاضی اسلام کے سامنے اس (گناہ) کا اظہار
کرکے حد کا اقرار کرلے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا اور کسی حدیث میں اس سے ممانعت نہیں ہے ۔ ‘‘ ( )حضورعَلَیْہِ السَّلَامکو بھائی کہنے کا حکم:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’مسلمان مسلمان کا دینی بھائی و اسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لئے سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا اور مسلمان کو حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بھائی بنایا۔ حضور سے رشتہ غلامی قوی ہے ، ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔ اس سے معلوم ہواکہ حضورمسلمانوں کے بھائی نہیں ، حضور تو مثل والد کے ہیں ، اس لئے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ، بھاوج نہیں ۔ یہ بھی معلوم ہواکہ مومن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرانِ کریم نے مومنوں کو بھائی قرار دیا اورحضور نے یہاں مسلمانوں کو ۔ خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ اَحکام کے اعتبار سے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : “ سبحٰن اللہ کیسا پیارا وعدہ ہے مسلمان بھائی کی تم مدد کرو ، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ مسلمان کی حاجت روائی تم کرو اللہ تمہاری حاجت روائی کرے گا۔ معلوم ہواکہ بندہ بندے کی حاجت روائی کر سکتا ہے ، یہ شرک نہیں۔ بندہ بندے کا حاجت روا مشکل کشا ہے ۔ اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھادوکہ اس کی اصلاح ہوجائے ، اسے بدنام نہ کرو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہتعالیٰ قیامت کے دن تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لےگا ، تمہیں رسوا نہیں کرے گا۔ ہاں جو کسی کی ایذاکی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو ، اس کا اظہار ضرور کردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جائے یا یہ توبہ کرے ، یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔ غرض کہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسروں کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے ، یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔ یہاں(صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے ربّ تعالیٰ اس کی سات سو عیب پوشیاں کرے گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
اسم رسالت ’’محمد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1) ايك مسلمان دوسرے مسلمان کا دینی واسلامی بھائی ہے بلکہ سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ سگے بھائی کا رشتہ ماں باپ کی وجہ سے قائم ہوتا ہے جبکہ دینی بھائی تو خود رسولِ کائنات ، فخر موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بنایا۔
(2) احادیث مبارکہ میں مسلمانوں کے حُسنِ معاشرت ، باہمی اُلفت ومحبت اور مؤمنوں کے عیوب کی پردہ پوشی کی بکثرت ترغیب دلائی گئی ہے۔
(3) مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ، بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کے عیوب کو دوسروں کے سامنے بیان کرنا یا اُس کی عیب جوئی کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(4) کھلم کھلا گناہ کرنے والے کے گناہ کی پردہ پوشی نہیں کی جائےگی بلکہ اُس کے گناہ سے بچانے کے لیے لوگوں کو اُس کے اس گناہ کے بارے میں بتايا جائے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کی عزت وحرمت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ان کی خیر خواہی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، مسلمانوں کی عیب جوئی سے محفوظ فرمائے ، اُن کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کل بروزِ قیامت ہمارے گناہوں کی بھی پردہ پوشی فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 233