- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 235
حدیث مبارکہ
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللَّهِ اِخْوَانًا اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ، وَيُشِيْرُا ِلیٰ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ ، الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ. ( )
’’اَلنَّجَشُ‘‘ اَنْ يَزِيْدَ فِيْ ثَمَنِ سَلْعَةٍ يُنَادٰي عَلَيْهَا فِيْ السُّوْقِ وَنَحْوِهٖ وَلَا رَغْبَةَ لَهُ فِيْ شَرَائِهَا بَلْ يَقْصِدُاَنْ يَّغُرَّ غَيْرَهُ وَهٰذَا حَرَامٌ وَالتَّدَابُرُاَنْ يُعْرِضَ عَنِ الْاِنْسَانِ وَيَهْجُرَهُ وَيَجْعَلَهُ كَالشَّيْءِ الَّذِيْ وَرَاءَ الظَّهْرِ وَالدُّبُرِ.
وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا يبع بعضكم على بيع بعض وكونوا عباد الله اخوانا المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يحقره ولا يخذله التقوى هاهنا ، ويشيرا لی صدره ثلاث مرات ، بحسب امرئ من الشر ان يحقر اخاه ، المسلم كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه. ( )
’’النجش‘‘ ان يزيد في ثمن سلعة ينادي عليها في السوق ونحوه ولا رغبة له في شرائها بل يقصدان يغر غيره وهذا حرام والتدابران يعرض عن الانسان ويهجره ويجعله كالشيء الذي وراء الظهر والدبر.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ اس پر ظلم نہ کرے ، اُسے حقیر نہ جانے ، اور نہ ہی اُسے بے یارو مددگارچھوڑ ے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا : ’’تقویٰ یہاں ہے۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ، ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی عزت ، اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے ۔ ‘‘
مشکل الفاظ کے معانی : ’’النَّجَشْ‘‘ کسی سامان کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کردےحالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ ’’تَدَابُر‘‘یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بے رخی کرے اور اسے اس طرح چھوڑدے جیسے کوئی چیز پیٹھ کے پیچھے ہوتی ہے۔
شرح حدیث
حدیث پاک کے مضامین:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث پاک میں چند اہم باتوں کا بیان ہے : (1) حسد (2)تناجش (3) بغض (4) قطع تعلقی (5) بیع پر بیع (6) ظلم کرنے (7)بے یارومددگار چھوڑ دینے(8)اور حقیر جاننے کی ممانعت (9) اورمسلمان کی عزت ، مال اور خون کی حرمت کا بیان۔ ان میں سے بعض مضامین کی وضاحت اور شرح حدیث نمبر۲۳۴میں گزر چکی ہے ، بقیہ مضامین کی مختصرشرح پیش خدمت ہے۔حسد کی تعریف اور اس کی مذمت:’’کسی کی دینی یا دنیا وی نعمت کے زوال (یعنی اس کےچھن جانے )کی تمناکرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں
شخص کو یہ نعمت نہ ملے حسد کہلاتا ہے ۔ ‘‘( ) حسد کی قرآن وحدیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہےچنانچہ ارشاد ہوتا ہے :اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴)(پ۵ ، النساء : ۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان : یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا تو ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بڑا ملک دیا۔
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔ ‘‘( )اگر اپنے اختیار وارادے سے بندے کے دل میں حسد کا خیال آئے اور یہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اَعضاء سے اس کااظہار کرتا ہے تو یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ( )واضح رہے کہ حسد ایک موذی بیماری ہے ، اس کے نقصانات شمار سے باہر ہیں ، جب یہ بیماری کسی کو لگ جائے وہ کہیں کا نہیں رہتا ، اس کا نامہ اعمال نیکیوں سے بالکل خالی ہوجاتا ہے ، حسد مسلمانوں کے مابین نفرت کا بہت بڑا سبب ہے ، حسد سے بہت سے گناہ پیدا ہوجاتے ہیں ، حسد بندے کو بدگمانی میں مبتلا کردیتا ہے ، حسد صلہ رحمی کو ختم کردیتا ہے ، حسد سے رزق میں برکت ختم ہوجاتی ہے۔ الغرض حسد میں کوئی بھلائی اور اچھائی نہیں ہے ، حسد میں نقصان ہی نقصان ہے۔ بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو حسد کی بیماری سے پاک وصاف ہیں بلکہ رشک اور شکر جیسی دولت سے مالا مال ہیں ، کسی کے پاس نعمت دیکھ کر حسد مت کیجئے بلکہ اس کے حق میں دعا کردیجئے ، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو بھی وہ نعمت نصیب ہوجائے گی۔ حسد جیسی بیماری کے علاج کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲صفحات پر مشتمل کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات‘‘ صفحہ۵۰ کا مطالعہ فرمائیے۔
تناجش کسے کہتے ہیں؟کسی شے کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کرے ، حالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ نجش مکروہ ہے حضور اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اِس سے منع فرمایا۔ نجش یہ ہے کہ مبیع (یعنی فروخت کی جانے والی شے)کی قیمت بڑھائے اورخود خریدنے کااِرادہ نہ رکھتا ہو۔ اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہواور قیمت سے زیادہ دے کر خریدلے اور یہ حقیقۃً خریدار کو دھوکا دینا ہے جیسا کہ بعض دُکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں ، گاہک کو دیکھ کر چیز کے خریدار بن کر دام بڑھا دیا کرتے ہیں اور اُن کی اِس حرکت سے گاہک دھوکا کھا جاتے ہیں۔ گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنا اور اُس کے ایسے اَوصاف بیان کرنا جونہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھاجائے یہ بھی نجش ہے۔ جس طرح ایسا کرنا بیع میں ممنوع ہے ، نکاح ، اِجارہ وغیرہ میں بھی ممنوع ہے۔ اس کی ممانعت اُس وقت ہے جب خریدار واجبی قیمت دینے کے لیے تیارہے اور یہ دھوکا دے کر زیادہ کرنا چاہےاور اگر خریدار واجبی قیمت سے کم دے کر لینا چاہتا ہے اور ایک شخص غیر خریدار اس لیے دام بڑھارہاہے کہ اصلی قیمت تک خریدار پہنچ جائے ، یہ ممنوع نہیں کہ ایک مسلمان کو نفع پہنچاتا ہے بغیر اس کے کہ دوسرے کو نقصان پہنچائے۔ ‘‘( )بغض کی تعریف اور اُس کی مذمت:’’بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے ۔ ‘‘( ) بغض کی قرآن وحدیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)(پ۷ ، المائدۃ : ۹۱)
ترجمۂ کنزالایمان : شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے ۔
صدرُالافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔ ‘‘( )احادیث میں بھی بغض رکھنے والوں کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، نیز بغض رکھنے والوں سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے ، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ ‘‘( ) ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا : ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا )ہے۔ ‘‘( )
کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘( ) بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی ، بلکہ بسا
اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : ’’ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلےتھے ، ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا ، جب ہم ذَاتُ الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لیےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی ، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔ ‘‘یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے ارشاد فرمایا : ’’یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا ، جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو ۔ ‘‘( ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے بغض وکینہ سےمحفوظ فرمائے۔ آمینبیع پر بیع کی ممانعت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واضح رہے کہ تمام اَحکامِ شرعیہ میں مسلمانوں کا فائدہ ہی فائدہ ہے ، جس چیز میں مسلمانوں کا نقصان تھا اسے شریعت نے ممنوع قرار دیا۔ کسی چیز کی خریدوفروخت میں جب دو شخصوں کے مابین بات طے ہوگئی ، سودا ہوگیا ، ایک نےچیز بیچ دی اور دوسرے نے خرید لی اگرچہ ابھی قیمت یا بیچی گئی چیز کا لین دین نہیں ہوا ، کسی تیسرے شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ اُس سودے پر قیمت بڑھا کر کوئی دوسرا سودا کرے ، کیونکہ اِس طرح کرنے میں مسلمانوں کا نقصان ہے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔ چنانچہ صدرُالشریعہ بدرُالطریقہ حضرت علامہ ومولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ایک شخص کے دام چکالینے (یعنی قیمت طے کرلینے )کے بعد دوسرے کو دام چکا نا (نئی قیمت طے کرنا)ممنوع ہے اس کی صورت یہ ہے کہ بائع (بیچنے والا)ومشتری (خریدنے والا)ایک ثمن (قیمت)پر راضی ہوگئے صرف اِیجاب وقبول ہی یامبیع (بیچی گئی شے)کو اُٹھاکر دام (قیمت)دے دینا ہی باقی رہ گیا ہے ،
دوسرا شخص دام بڑھاکر لیناچاہتا ہے یا دام اُتنا ہی دےگا مگر دُکاندار سے اس کا میل ہے ، یا یہ ذی وجاہت (مقام ومرتبے والا)شخص ہے دُکاندار اُسے چھوڑ کر پہلے شخص کو نہیں دے گا (تو ان تمام صورتوں میں دوسرا سودا کرنا منع ہے) اور اگر اب تک دام طے نہیں ہوا ، ایک ثمن (قیمت)پر دونوں کی رضامندی نہیں ہوئی ہے تو دوسرے کو دام چُکا نا (یعنی قیمت طے کرنا)منع نہیں۔ ‘‘( )کسی مسلمان کو حقیر نہ جاننےسے مراد:مذکورہ حدیث پاک میں یہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر نہ تو ظلم کرے ، نہ ہی اسے حقیر جانے اور نہ ہی اسے اکیلاچھوڑ ے۔ علامہ محمد بن علان شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اسے چھوٹا نہ سمجھے اور اس کی قدرومنزلت کو نہ گھٹائے کیونکہ جب ربّ تعالیٰ نے اسے پیدا فرمایا تو اس کی تحقیر نہ فرمائی بلکہ اسے رفعت وبلندی عطا فرمائی ، اس سے خطاب فرمایا اور اسے اَحکام شرعیہ کا مکلف بنایا لہٰذا اب جو بھی اُس کی تحقیر کرے گا گویا وہ رب تعالیٰ کی حد بندی سے تجاوز کرے گا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حَد سے تجاوز کرناایک بہت بڑا گناہ اور بُرائی ہے۔ اسی وجہ سے یہ فرمایا گیا کہ ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ‘‘ حقارت دراصل تکبر سے پیدا ہوتی ہے ، جب بندے میں تکبر پیدا ہوجاتا ہے وہ اس تکبر کے سبب اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے لگتا ہے ، اُسے عیوب تلاش کرنے والی نظروں سے دیکھتا ہے ، وہ اُسے اِس بات کا اہل نہیں سمجھتا کہ اس کے حقوق کی پاسداری کی جائے۔ ‘‘( )
شارِحِ حدیث علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ جاننے سے مراد یہ ہے کہ اُس کے عیبوں کا ذکر نہ کرے ، اُس کے بُرے بُرے نام نہ رکھے ، اُس کے ساتھ مذاق نہ کرے ، جب اُسے مفلوک الحال دیکھے یا کسی بیماری میں مبتلا دیکھے یا اُسے بات کرنا نہ آتی ہو تو اُس پر طنز کے
طور پر نہ ہنسے ، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اُس کا ضمیر زیادہ مخلص ہو اور وہ قلبی طور پر زیادہ متقی ہوایسے شخص سے جس میں اِس کے برعکس صفات پائی جاتی ہوں ۔ پس جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تقویٰ دے کر عزت بخشی ہے اُس کی تحقیر کرکے بندہ اپنے آپ پر ہی ظلم کرے گا۔ ‘‘( )بے یارومددگار نہ چھوڑنے کے معانی:’’ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار نہ چھوڑے۔ ‘‘ علماء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نےاِس کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں :
(1) امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مراد یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان ظالم کے ظُلم یا اس جیسے کسی اور معاملے سے نجات کے لیے کسی دوسرے مسلمان سے مدد طلب کرے اور وہ اس کی مدد پر قادر ہو اور کوئی مانع شرعی بھی نہ ہو تو اب اس کی مدد کرنا لازم ہے۔ ‘‘( ) (2) علامہ ابن اثیر جزری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی مدد اور نصرت کو کبھی ترک نہ کرے۔ ‘‘( ) (3) علامہ محمد بن علان شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مراد یہ ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرنا کبھی ترک نہ کرے خصوصاً جب کہ وہ مدد کا محتاج اور مجبور ہو۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اپنے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار چھوڑدینا ، دِنیوی ودُینی دونوں اعتبار سے حرام بلکہ سخت حرام ہے۔ دُنیوی اعتبار سے اِس طرح کہ کوئی مظلوم کی مدد کرنے یا اُسے ظالم سے بچانے پر قادر ہو پھر بھی اُسے نہ بچائے تو یہ دُنیوی اعتبار سے اپنے مسلمان بھائی کو بے یارومددگار چھوڑ دینا ہے۔ دِینی اِعتبار سے اِس طرح کہ کوئی غیبت میں مبتلا ہے اور اگر یہ اُسے نصیحت کرے تو وہ رُک جائے گا مگر پھر بھی یہ اُسے نصیحت نہ کرے تو یہ دینی اعتبار سے اپنے مسلمان بھائی کو بےیارومددگار چھوڑ دینا ہے۔ اور یہ دونوں صورتیں ممنوع ہیں۔‘‘( )
مدنی گلدستہ
”حضور غوث پاک “ کے 10 حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول(1)اسلام آپس میں عداوتوں اور نفرتوں کا نہیں بلکہ محبتوں اور شفقتوں کا درس دیتا ہے۔
(2)ایک دوسرے سے حسد نہ کریں کیونکہ حسد ایک ایسی بیماری ہے جو نیکیوں کو اِس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑی کو۔
(3)کسی بھی شے کی خریدوفروخت میں قیمت بڑھانا منع ہے جبکہ اس کو خریدنے کا ارادہ نہ ہو ، فقط اس لیے قیمت بڑھائی جائے تاکہ خریدنے والا زیادہ سے زیادہ قیمت پر خریدے ، یہ نجش اور شرعاً ناجائز ہے۔
(4)کسی بھی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض وکینہ ہرگزنہیں رکھنا چاہیے ، بغض وکینہ دین کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، بعض وکینہ رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے محروم رہتا ہے۔
(5)کسی شے کی خریدوفروخت میں جب فریقین کے درمیان سودا طے ہوگیا ہوتو اب کسی دوسرے کے لیے یہ جائز نہیں کہ اُس سودے پر قیمت بڑھا کر دوسرا سودا کرے۔
(6)اِسلام نے بھائی چارے اور اخوت کو فروغ دیا ہے اور یقیناً اخوت وبھائی چارے میں ہی ایک بہترین معاشرے کا قیام پوشیدہ ہے۔
(7)ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی طرح کے حقوق ہیں ، اپنے مسلمان بھائی کو کسی طرح بھی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے ، ایک سچا اور حقیقی مسلمان کبھی بھی اپنے دوسرے بھائی پر ظلم نہیں کرتا ، نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے اور نہ ہی اُسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے۔
(8)جن چیزوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حکم دیا ہے اُن پرعمل کرنے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن سے رُکنے کانام تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔
(9)اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کو کسی بھی وجہ سے حقیر نہیں جاننا چاہیے۔
(10)ایک مسلمان کی عزت ، مال اور اُس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے ، اب کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی عزت کو پامال کرے ، اُس کے مال میں ناجائز تصرف کرے یا اُس کے خون کی حرمت کو پامال کرے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان کو حقیر نہ جاننے کی توفیق عطا فرمائے ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 235