حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 3

حضرت سیدنا ابو موسٰی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حُضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیےعمارت کی طرح ہے جس کا ایک حصّہ دوسرے حصّے کو تقویت دیتاہے ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرکے اشارہ فرمایا۔

عَنْ اَبِیۡ مُوسٰی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم قَالَ:الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ثُمَّ شَبَّكَ بَيْنَ اَصَابِعِهِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 222 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص ہماری مسجدوں یا بازاروں میں گزرے اور اس کے پا س تیرہوتو اسے چاہیےکہ وہ اسے تھام لے۔ ‘‘یا (ارشاد فرمایا : )’’اس کی نوک کو اپنے ہاتھ میں پکڑلےتاکہ کسی مسلمان کو اس سےکوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَرَّ فِیْ شَيْءٍ مِّنْ مَسَاجِدِنَا اَوْ اَسْوَاقِنَاوَمَعَہُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِکْ اَوْلِیَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ اَنْ یُّصِیْبَ اَحَدًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْھَا شَیْءٌ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 223 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 224 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک بارحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو چوما۔ اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حضرت سیدنا اَقرع بن حابس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی موجودتھے۔ انہوں نے عرض کی : ’’میرے دس بیٹے ہیں اورمیں نے ان میں سے کسی ایک کوبھی نہیں چوما۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’جو شخص رحم نہیں کرتااس پررحم نہیں کیاجاتا۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَبَّلَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ ابْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا وَعِنْدَہُ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ الْاَقْرَعُ : اِنَّ لِيْ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ اَحَدًا فَنَظَرَ اِلَیْہِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 225 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ کچھ دیہاتی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئےاور کہنے لگے : ’’کیا آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جی ہاں۔ ‘‘ وہ کہنے لگے : ’’لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!ہم تونہیں چومتے۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اگراللہ عَزَّ وَجَلَّنےتمہارے دلوں سے رحمت نکال دی ہے تومیں کیاکرسکتاہوں۔ ‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا قَالَتْ : قَدِمَ نَاسٌ مِّنَ الْاَعْرَابِ عَلٰى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا : اَتُقَبِّلُوْنَ صِبْيَانَكُمْ؟ فَقَالَ : نَعَمْ! قَالُوْا : لَكِنَّا وَاللهِ مَا نُقَبِّلُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَوْاَمْلِكُ اِنْ كَانَ اللهُ نَزَعَ مِنْ قُلُوْبِكُمُ الرَّحْمَةَ؟( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 226 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرتِ سیدنا جریربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جوشخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس پر رحم نہیں فرماتا۔ ‘‘

عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْہُ اللہُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 227 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نمازپڑھائے تومختصرپڑھائےکیونکہ اُن میں کمزور ، بیمار اور زیادہ عمر والے بھی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے لمبی نماز پڑھے۔ ‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَاِنَّ فِیْهِمُ الضَّعِيْفَ وَالسَّقِيْمَ وَالْكَبِيْرَ وَاِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ ، فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 228 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضور رحمۃ اللعالمین ، شفیع المذنبین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بسااوقات اپنے پسندیدہ کام کو اس ڈر سے ترک فرمادیتے کہ کہیں لوگ اس کو کرنے لگ جائیں اور وہ ان پر فرض نہ ہوجائے۔ ‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : اِنْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَدَعُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ ، خَشْيَةَ اَنْ يَّعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 229 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے انہیں صومِ وِصَال سے منع فرمایا تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ بھی توصومِ وِصال رکھتے ہیں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’میں تمہاری طرح نہیں ہوں بلکہ میں اپنے رب کے ہاں اس حال میں رات گزارتاہوں

کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ ‘‘علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کھلانے پلانے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مجھ میں کھانے پینے والی طاقت پیداکردیتا ہے۔ ‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوْا : اِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ : اِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ اِنِّي اَبِیْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي. ( )قَالَ النَّوَوِی:مَعْنَاہُ یَجْعَلُ فیِ قُوَّۃَ مَنْ اَکَلَ وَشَرِبَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 230 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابو قتادہ حارِث بن رِبعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ

مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ نماز میں قراءت طویل کروں لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے قراءت کو طویل نہیں کرتاکہ یہ اس کی ماں پر دشوار ہوگا۔ ‘‘

عَنْ اَبِىْ قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنِّى لَاَقُوْمُ اِلیَ الصَّلَاةِ واُرِيْدُ اَنْ اُطَوِّلَ فِيْهَا فَاَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِىِّ فَاَتَجَوَّزُ فِى صَلاَتِىْ كَرَاهِيَةَ اَنْ اَشُقَّ عَلٰى اُمِّهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 231 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا جُندُب بن عبداللہ رَضِيَ اللهُ تَعَالیٰ عَنْهُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ ربّ تعالیٰ کی امان میں ہے لہٰذا ربّ تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے کیونکہ جب وہ کسی سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا تو اُس کی سخت پکڑ فرمائے گااور پھر اُسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ ‘‘

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَاِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 232 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلما ن دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالے کرے ۔ جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرے گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت پوری فرمائے گا اور جس نے اپنے

کسی مسلمان بھائی کی ایک مصیبت کو دُورکیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دُور فرمائے گااور جس نے کسی مسلما ن کی دنیا میں پردہ پوشی کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ ‘‘

عَنِ ابْنَ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِىْ حَاجَةِاَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِىْ حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِھَاكُرْبَةً مِنْ کُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 233 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُوْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى هَا هُنَا بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ

الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَاَخَاهُ الْمُسْلِمَ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 234 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُسے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ کسی کی بیع پر بیع نہ کرو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، وہ اس پر ظلم نہ کرے ، اُسے حقیر نہ جانے ، اور نہ ہی اُسے بے یارو مددگارچھوڑ ے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا : ’’تقویٰ یہاں ہے۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے ، ہر مسلمان کے لئے دوسرے مسلمان کی عزت ، اس کا مال اور اس کا خون حرام ہے ۔ ‘‘
مشکل الفاظ کے معانی : ’’النَّجَشْ‘‘ کسی سامان کی فروخت کے لئے بازار میں بولی لگائی جا رہی ہو تو کوئی شخص دوسروں کو دھوکہ دینے کے لئے قیمت میں اضافہ کردےحالانکہ وہ خریدنا نہیں چاہتا تو یہ نجش ہے اور نجش حرام ہے۔ ’’تَدَابُر‘‘یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے بے رخی کرے اور اسے اس طرح چھوڑدے جیسے کوئی چیز پیٹھ کے پیچھے ہوتی ہے۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحَاسَدُوْا وَلَا تَنَاجَشُوْا وَلَا تَبَاغَضُوْا وَلَا تَدَابَرُوْا وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللَّهِ اِخْوَانًا اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ التَّقْوَى هَاهُنَا ، وَيُشِيْرُا ِلیٰ صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَ اَخَاهُ ، الْمُسْلِمَ كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ. ( )

’’اَلنَّجَشُ‘‘ اَنْ يَزِيْدَ فِيْ ثَمَنِ سَلْعَةٍ يُنَادٰي عَلَيْهَا فِيْ السُّوْقِ وَنَحْوِهٖ وَلَا رَغْبَةَ لَهُ فِيْ شَرَائِهَا بَلْ يَقْصِدُاَنْ يَّغُرَّ غَيْرَهُ وَهٰذَا حَرَامٌ وَالتَّدَابُرُاَنْ يُعْرِضَ عَنِ الْاِنْسَانِ وَيَهْجُرَهُ وَيَجْعَلَهُ كَالشَّيْءِ الَّذِيْ وَرَاءَ الظَّهْرِ وَالدُّبُرِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 235 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تم میں سے کوئی بھی شخص اُس وقت تک (کامل)مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی شےپسندنہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِىّ ِصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ قَالَ:لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 236 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

: حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جب وہ مظلوم ہوتا ہےتو میں اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کس طرح کروں؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اُسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے ۔ ‘‘

وَعَنْہُ:قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَنْصُرُهُ اِذَا كَانَ مَظْلُوْمًا اَرَاَ يْتَ اِنْ كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ اَنْصُرُهُ؟ قَالَ: تَحْجُزُهُ اَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِكَ نَصْرُهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 237 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا ، بیمار کی عیادت کرنا ، جنازوں کے پیچھے چلنا ، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔ ‘‘
اورصحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں : جب وہ تم سے ملاقات کرے تو تم اسے سلام کرو ، جب وہ تمہیں دعوت دے تو تم اُس کی دعوت قبول کرو ، جب وہ تم سے کوئی نصیحت طلب کرے تو تم اُس کو نصیحت کرو اور جب وہ چھینکے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے تو اُس کی چھینک کا جواب دواور جب وہ بیمار ہوجائے تو اُس کی عیادت کرواور جب وہ مر جائے تو اُس کے جنازہ میں شرکت کرو۔ ‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَ اِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ.( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِم ٍ : حَقُّ الْمُسْلِمِ سِتٌّ: اِذَا لَقِيْتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَاِذَا دَعَاكَ فَاَجِبْهُ وَاِذَا اسْتَنْصَحَكَ

فَاَنْصِحْ لَهُ وَاِذَا عَطِسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ وَاِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَاِذَا مَاتَ فَا تَّبِعْهُ.( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 238 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان

حضرت سیدنا ابو عمارہ براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں سات چیزوں کے کرنے کا حکم دیا اور سات سے منع کیا ۔ آپ نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے ، جنازے کے ساتھ جانے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے ، سلام کو پھیلانے ، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کردینے کا حکم فرمایا ۔ اور سونے کی انگوٹھی ، چاندی میں پینے یا چاندی کے برتن میں پینے نیز ریشمی گدوں اور پردوں ، ریشم ، دیباج اوراستبرق پہننے سے منع فرمایا۔ ‘‘
ایک روایت میں پہلی سات چیزوں میں گم شدہ چیز کے اعلان کا بھی ذکر فرمایا۔
چندمشکل الفاظ کے معانی : ’’اَلْمَیَاثِر‘‘اس شے کو کہتے ہیں جسے ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں روئی وغیرہ ڈالی جاتی ہے ، پھر اسے گھوڑوں اور اونٹوں کی زینوں پررکھا جاتا ہے تاکہ اس پر سوار ہونے والا شخص آرام سے بیٹھے۔ ’’اَلْقَسِّیُّ‘‘ سے مراد ایسے کپڑے ہیں جو ریشم اور سُوت کو ملاکر بُنے جاتے ہیں۔ ’’اِنْشَادُ الضَّالَّۃ‘‘ کا مطلب گمشدہ چیز کا اعلان کرنا ہے۔

وَ عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاقَالَ : اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، اَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَ اِجَابَةِ الدَّاعِي وَاِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ اَوْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنِِ

الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِوَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْاِسْتَبْرَقِ وَالدِّيْبَاجِ. ( )
وَفِيْ رِوَايَة ٍ:وَاِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِيْ السَّبْعِ الْاُوَلِ. ( )
اَلْمَيَاثِرُ بِيَاءٍمُثَنَّاةٍ قَبْلَ الْاَلِفِ وَثَاءٍ مُثَلَّثَةٍ بَعْدَهَا وَهِيَ جَمْعُ مَيْثِرَةٍ وَهِيَ شَيْءٌ يُتَّخَذُ مِنْ حَرِيْرٍ وَيُحْشٰى قُطُنًا اَوْ غَيْرَهُ وَيُجْعَلُ فِيْ السَّرْجِ وَكُوْرِ الْبَعِيْرِ يَجْلِسُ عَلَيْهِ الرَّاكِبُ وَالْقَسِّيُّ بِفَتْحِ الْقَافِ وَكَسْرِ السِّيْنِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهِيَ ثِيَابٌ تُنْسَجُ مِنْ حَرِيْرٍ وَكَتَّانٍ مُخْتَلِطَيْنِ واِنْشَادُ الضَّالَّةِ: تَعْرِيْفُهَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 239 ، حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان