Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 224

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى. ( )

عن النعمان بن بشير رضی اللہ عنہما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:مثال المؤمنين فی توادهم و تراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد اذا اشتكى منہ عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’کامل مسلمان ، ایمان ، اسلامی رشتے کی وجہ سے ایسے ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء جن کے نام بھی مختلف ہیں ، کام اور شکل و صورت بھی جداگانہ مگر چونکہ اِن سب کی روح ایک ہے اس لیے ایک عضو کی تکلیف تمام اعضاءکو بے قرار کردیتی ہےیوں ہی مختلف ممالک کے مسلمانوں کے نام ، کام ، زبان ، غذا ، دنیاوی رہن سہن مختلف ہیں مگر ان سب کا نبی حضور محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ہیں ، لہٰذاایک کی تکلیف سارے مسلمانوں کوبے قرارکردیتی ہے مگر یہ کیفیت زندہ مسلمانوں کی ہے جو مُردہ یا بےحس ہوگئے وہ مُردہ جسم یا سوکھے ہوئے اَعضاء کی طرح ہیں کہ ایک کو چوٹ لگاؤ دوسرے کو خبر نہ ہو۔ ایک عضو کو بیماری ہو تو سارے اَعضاءبے قرار ہوکر اُس کی تکلیف دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب تک اُسے آرام نہ ہوجائے یہ چین سے نہیں رہتے۔ یوں ہی ایک مسلمان کی تکلیف کو ساری قوم مل کر دفع کرتی ہے اُس کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔ اللہتعالیٰ ہم سب کو اپنے محبوب سے وابستگی نصیب فرمائےاور ہماری ساری قوم کا یہ ہی حال ہوجائے۔ ‘‘( )مومنین کی مثال ایک جان کی طرح ہے:حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ’’جب مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواس کاپوراجسم بخاراور بے سکونی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جس طرح حالتِ صحت میں اِنسان کا تمام جسم راحت وسکون میں ہوتاہے اِسی طرح حالتِ بیماری میں اِنسان کا تمام جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتاہے ۔ جب انسان کے کسی عضومیں تکلیف ہوتی ہے تو وہ تمام جسم میں سرایت کرجاتی ہے۔ اِسی طرح مومنین کی مثال ہےکہ وہ ایک جان کی طرح ہیں کہ جب اُن میں سے کسی ایک کوبھی تکلیف

پہنچے تو چاہیے کہ تمام کے تمام غمزدہ ہوجائیں اور اُسے زائل کرنے کی کوشش کریں۔ ‘‘( )
مسلمانوں کے حقوق اور اُن کی عظمت کا بیان:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : “ علامہ کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایاکہ بخار ایک حرارتِ غریبہ ہے جو دِل میں پیدا ہوتی ہےاور پورے بدن میں پھیل جاتی ہےجس سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہے۔ اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے حقوق کی تعظیم ، ایک دوسرے کی مددکرنےاور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کادرس دیاگیاہے۔‘‘( )
فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی تکلیف اور راحت میں تمام اَعضاء آپس میں موافق ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو دُکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اِس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت ، اُن کی معاونت اور ایک دوسرے سے شفقت واضح ہوتی ہے۔ ‘‘( )
تمام مسلمانوں میں مذہبی تعلق ہے:اگر ہاتھ یا پاؤں کی ایک انگلی کے ناخن میں بھی ذرا سی تکلیف ہوتو سارا جسم تکلیف سے بے قرار ہوجاتا ہے ، تڑپنے لگ جاتا ہے ، اس کا سکون برباد ہوجاتا ہے ، کیونکہ جسم کے تمام اجزاء کا آپس میں خونی تعلق ہے ، اسی طرح جب ایک مسلمان چھوٹی سی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو تمام مسلمانوں کی نیند اڑجاتی ہے ، وہ سب بےقرار ہوجاتے ہیں ، سب بے چین ہوجاتے ہیں کیونکہ تمام مسلمانوں میں ایک مذہبی تعلق ہے۔ کسی بھی مسلمان کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے دیگر مسلمان بھائی اس کی ذات ، رنگ ونسل ، ملک وشہر اور علاقے کی بھی پرواہ نہیں کرتے ، اُس کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر یہ عظیم جذبہ خود اسلام نے پیدا کیا ہے ، اسلام نے اپنے چاہنے والوں کو یہ شعور دیا ہے کہ تم سب ایک جان ہو ، تم میں سے کسی

ایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘عرض کیا گیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مظلوم کی مدد تو کرتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟‘‘ فرمایا : ’’ظالم کو ظلم سے روکو کہ یہی اُس کی مدد کرنا ہے۔ ‘‘( )
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اُسے ظالم کے حوالے کرتا ہے اور جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی حاجت کو پورا فرماتا ہے اور جو اپنے مسلمان بھائی کی کسی دُنیوی پریشانی کو دُور کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قیامت کی پریشانیوں میں ایک پریشانی کو دُور فرمائے گا اور جو اپنے مسلمان بھائی کی عیب پوشی کرے گا کل بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
امام ’’حسن ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)تمام مسلمانوں کی حیثیت ایک جسم کی ہے ، جس طرح جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہوتو پورے جسم کو محسوس ہوتی ہے ویسے ہی کسی ایک مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے تو تمام مسلمان بے قرار ہوجاتے ہیں ، اپنے اس مسلمان بھائی کی ہرطرح سے مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(2)مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر نہ تو ظلم کرتا ہےا ور نہ ہی اُسے ظالم شخص کے حوالے کرتا ہے۔
(3)اِسلام وہ پیارا دِین اور مذہب ہے جس میں اُس کے چاہنے اور ماننے والوں کی عظمت ، اُن کے حقوق ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاوُن اور شفقت ومحبت کا درس دیا گیا ہے۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے دُکھ دردمیں شریک ہونےاور اُن کی ہرطرح سے مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 224