- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 224
حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 224
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَثَالُ الْمُؤْمِنِيْنَ فِی تَوَادِّهِمْ وَ تَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَكٰى مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى. ( )
عن النعمان بن بشير رضی اللہ عنہما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:مثال المؤمنين فی توادهم و تراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد اذا اشتكى منہ عضو تداعى له سائر الجسد بالسهر والحمى. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہےکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمانوں کی آپس میں دوستی ، رحمت اور شفقت کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتاہے توپوراجسم بخاراوربے خوابی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘
شرح حدیث
مسلمان آپس میں ایک جسم کی طرح ہیں:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’کامل مسلمان ، ایمان ، اسلامی رشتے کی وجہ سے ایسے ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء جن کے نام بھی مختلف ہیں ، کام اور شکل و صورت بھی جداگانہ مگر چونکہ اِن سب کی روح ایک ہے اس لیے ایک عضو کی تکلیف تمام اعضاءکو بے قرار کردیتی ہےیوں ہی مختلف ممالک کے مسلمانوں کے نام ، کام ، زبان ، غذا ، دنیاوی رہن سہن مختلف ہیں مگر ان سب کا نبی حضور محمد مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک ہیں ، لہٰذاایک کی تکلیف سارے مسلمانوں کوبے قرارکردیتی ہے مگر یہ کیفیت زندہ مسلمانوں کی ہے جو مُردہ یا بےحس ہوگئے وہ مُردہ جسم یا سوکھے ہوئے اَعضاء کی طرح ہیں کہ ایک کو چوٹ لگاؤ دوسرے کو خبر نہ ہو۔ ایک عضو کو بیماری ہو تو سارے اَعضاءبے قرار ہوکر اُس کی تکلیف دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب تک اُسے آرام نہ ہوجائے یہ چین سے نہیں رہتے۔ یوں ہی ایک مسلمان کی تکلیف کو ساری قوم مل کر دفع کرتی ہے اُس کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔ اللہتعالیٰ ہم سب کو اپنے محبوب سے وابستگی نصیب فرمائےاور ہماری ساری قوم کا یہ ہی حال ہوجائے۔ ‘‘( )مومنین کی مثال ایک جان کی طرح ہے:حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ’’جب مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تواس کاپوراجسم بخاراور بے سکونی کی کیفیت میں مبتلاہوجاتاہے۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جس طرح حالتِ صحت میں اِنسان کا تمام جسم راحت وسکون میں ہوتاہے اِسی طرح حالتِ بیماری میں اِنسان کا تمام جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتاہے ۔ جب انسان کے کسی عضومیں تکلیف ہوتی ہے تو وہ تمام جسم میں سرایت کرجاتی ہے۔ اِسی طرح مومنین کی مثال ہےکہ وہ ایک جان کی طرح ہیں کہ جب اُن میں سے کسی ایک کوبھی تکلیف
پہنچے تو چاہیے کہ تمام کے تمام غمزدہ ہوجائیں اور اُسے زائل کرنے کی کوشش کریں۔ ‘‘( )مسلمانوں کے حقوق اور اُن کی عظمت کا بیان:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : “ علامہ کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایاکہ بخار ایک حرارتِ غریبہ ہے جو دِل میں پیدا ہوتی ہےاور پورے بدن میں پھیل جاتی ہےجس سے پورے بدن کو تکلیف ہوتی ہے۔ اِس حدیث پاک میں مسلمانوں کے حقوق کی تعظیم ، ایک دوسرے کی مددکرنےاور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کادرس دیاگیاہے۔‘‘( )
فقیہ اَعظم ، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یعنی تکلیف اور راحت میں تمام اَعضاء آپس میں موافق ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کو دُکھ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اِس حدیث سے مسلمانوں کے حقوق کی عظمت ، اُن کی معاونت اور ایک دوسرے سے شفقت واضح ہوتی ہے۔ ‘‘( )تمام مسلمانوں میں مذہبی تعلق ہے:اگر ہاتھ یا پاؤں کی ایک انگلی کے ناخن میں بھی ذرا سی تکلیف ہوتو سارا جسم تکلیف سے بے قرار ہوجاتا ہے ، تڑپنے لگ جاتا ہے ، اس کا سکون برباد ہوجاتا ہے ، کیونکہ جسم کے تمام اجزاء کا آپس میں خونی تعلق ہے ، اسی طرح جب ایک مسلمان چھوٹی سی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو تمام مسلمانوں کی نیند اڑجاتی ہے ، وہ سب بےقرار ہوجاتے ہیں ، سب بے چین ہوجاتے ہیں کیونکہ تمام مسلمانوں میں ایک مذہبی تعلق ہے۔ کسی بھی مسلمان کو تکلیف میں دیکھ کر اس کے دیگر مسلمان بھائی اس کی ذات ، رنگ ونسل ، ملک وشہر اور علاقے کی بھی پرواہ نہیں کرتے ، اُس کی مدد کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر یہ عظیم جذبہ خود اسلام نے پیدا کیا ہے ، اسلام نے اپنے چاہنے والوں کو یہ شعور دیا ہے کہ تم سب ایک جان ہو ، تم میں سے کسی
ایک کی تکلیف سب کی تکلیف ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘عرض کیا گیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مظلوم کی مدد تو کرتے ہیں لیکن ظالم کی مدد کیسے کی جائے؟‘‘ فرمایا : ’’ظالم کو ظلم سے روکو کہ یہی اُس کی مدد کرنا ہے۔ ‘‘( )
ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا : ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ، نہ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اُسے ظالم کے حوالے کرتا ہے اور جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت کو پورا کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی حاجت کو پورا فرماتا ہے اور جو اپنے مسلمان بھائی کی کسی دُنیوی پریشانی کو دُور کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی قیامت کی پریشانیوں میں ایک پریشانی کو دُور فرمائے گا اور جو اپنے مسلمان بھائی کی عیب پوشی کرے گا کل بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی عیب پوشی فرمائے گا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
امام ’’حسن ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول(1)تمام مسلمانوں کی حیثیت ایک جسم کی ہے ، جس طرح جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہوتو پورے جسم کو محسوس ہوتی ہے ویسے ہی کسی ایک مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے تو تمام مسلمان بے قرار ہوجاتے ہیں ، اپنے اس مسلمان بھائی کی ہرطرح سے مدد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(2)مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اور ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر نہ تو ظلم کرتا ہےا ور نہ ہی اُسے ظالم شخص کے حوالے کرتا ہے۔
(3)اِسلام وہ پیارا دِین اور مذہب ہے جس میں اُس کے چاہنے اور ماننے والوں کی عظمت ، اُن کے حقوق ، ایک دوسرے کے ساتھ تعاوُن اور شفقت ومحبت کا درس دیا گیا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے دُکھ دردمیں شریک ہونےاور اُن کی ہرطرح سے مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 224