Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 223

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَرَّ فِیْ شَيْءٍ مِّنْ مَسَاجِدِنَا اَوْ اَسْوَاقِنَاوَمَعَہُ نَبْلٌ فَلْيُمْسِکْ اَوْلِیَقْبِضْ عَلَى نِصَالِهَا بِكَفِّهِ اَنْ یُّصِیْبَ اَحَدًا مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْھَا شَیْءٌ.( )

عن ابی موسی رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : من مر فی شيء من مساجدنا او اسواقناومعہ نبل فليمسک اولیقبض على نصالها بكفه ان یصیب احدا من المسلمین منھا شیء.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جو شخص ہماری مسجدوں یا بازاروں میں گزرے اور اس کے پا س تیرہوتو اسے چاہیےکہ وہ اسے تھام لے۔ ‘‘یا (ارشاد فرمایا : )’’اس کی نوک کو اپنے ہاتھ میں پکڑلےتاکہ کسی مسلمان کو اس سےکوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ‘‘

شرح حدیث

مسلمان کی حرمت کی تاکید:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَال فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں مسلمان کی حُرمت کی تاکید ہے تاکہ اُسے کوئی خوف زدہ نہ کرے اور نہ ہی زخمی کرےکیونکہ مسلمان عمومًامساجد کے پاس سے گزرتے ہیں خصوصًانمازوں کے اوقات میں لہٰذا حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ خطرہ ہواکہ تیر کی نوک سے کسی مسلمان کو ایذا نہ پہنچے اور یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاقِ کریمہ کا اِظہار ہےاور اِس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کےقلیل وکثیرخون کی تعظیم ضروری ہے ۔ “ ( )
علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مساجد میں خصوصًا اَوقاتِ صلوٰۃ میں بہت لوگ ہوتے ہیں اگرتیر ہاتھوں میں تھامے بغیرچلے تومسلمان کو زخم آنے کا خوف ہے۔ خیال کریں کہ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کس قدر رحیم ہیں کہ کسی کے ہاتھوں مسلمان کو اذیت نہ پہنچے۔ ‘‘( )
بازاریاکسی اورجگہ تیریانیزہ پکڑنےکاحکم:مذکورہ حدیث پاک میں بازار ومسجد کا ذکر ہے لیکن شارحین کرام نے یہاں پر اِس بات کو بیان فرمایا ہےکہ اِس سے مراد تمام اجتماعات ، مِنٰی ، عَرَفات ، مُزْدَلِفَہ ، عُرس وغیرہ یا وہ تمام مقامات مراد ہیں جہاں سے مسلمانوں کا گزر ہوتا ہے یاپھر جہاں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ نیز اِس حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عوامی جگہوں کو بناتے وقت یا اُن کو آباد کرتے وقت مسلمانوں کو نفع پہنچانے یا مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کی نیت کی جائے ، اگرچہ اِس سے مسلمانوں کے علاوہ دیگر لوگوں کو بھی فائدہ حاصل ہوگا لہٰذامسافر خانہ ، ہستپال ، سایہ

دار درخت ، کنواں وغیرہ اِن سب میں یہ ہی نیت ہونی چاہیے کہ مسلمان اِن سے نفع اُٹھائیں۔ ( )
کسی مسلمان کو تکلیف دینا جائز نہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب بھی بازار ، مسجد ، اجتماعِ ذکرونعت ، ہفتہ واراِجتماع ، بزرگانِ دِین کے عُرس یاکسی بھی ایسی جگہ جانے کاموقع ملےجہاں لوگوں کا مجمع ہوتواپنے ساتھ بلاضرورت ایسی چیزیں نہ رکھیں جن سے مسلمانوں کوایذا پہنچنےکا اندیشہ ہو کیونکہ بلااِجازتِ شرعی کسی مسلمان کو ایذا دینا جائز نہیں۔ مسلمان کی حرمت اور اُسے تکلیف نہ دینے کے متعلق3فرامین مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’ جس نےبِلاوجہ ِشَرعی کسی مسلمان کواِیذا دی اُس نے مجھے اِیذا دی اور جس نے مجھے اِیذا دی اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو اِیذا دی۔ ‘‘( ) (2)ایک بار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کعبہ معظمہ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا : ’’مومن کی حرمت تجھ سے زِیادہ ہے۔ ‘‘( ) (3)’’مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زَبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’فاطِمَہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اسلام میں ایک مسلمان کی حرمت کا بہت خیال رکھا گیا ہے لہذا بلا وجہ شرعی کسی بھی مسلمان کو کسی بھی طرح کا کوئی بھی نقصان پہنچانے یا تکلیف دینے کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
(2)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں پر کمال درجہ مہربان بنا کر بھیجا ہے ، یہی وجہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسلمانوں کا تکلیف میں پڑنا کسی طرح بھی گوارا

نہیں ، اسی وجہ سے مسلمانوں کو تکالیف سے بچانے کی تعلیم فرمائی۔
(3)بازار ، مسجد ، اجتماعِ ذکرونعت ، ہفتہ واراجتماع ، بزرگانِ دین کے عرس یاکسی بھی ایسی جگہ جانے کا موقع ملے تو اپنے ساتھ تکلیف دہ چیزوں (جیسے ہتھیار وغیرہ نوکیلی چیز)کو نہ رکھا جائےاوراگر ضرورتاً اپنے ساتھ کسی ایسی چیز کو رکھنا بھی پڑے تو کوشش کرکے اس انداز میں رکھیں کہ اس سے کسی بھی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔
(4)حدیث پاک میں ایک مومن کی حرمت کو کعبۃ اللہ شریف کی حرمت سے بھی بڑھ کر بتایا گیا ہے ، جس سے واضح ہوتاہے کہ مسلمانوں کی عزت ، جان ، مال کی حفاظت بہت ضروری ہے۔
(5)اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے ، اسلام نے ہر معاملے میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی ہے حتی کہ مذکورہ حدیث پاک میں ہتھیار اٹھانا بھی سکھایا گیا ہے کہ اسے اس طرح اٹھایا جائے کہ اسے سے کسی مسلمان کو تکلیف نہ پہنچے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں احترام مسلم بجالانے کےلیے ، اپنے پیارے پیارے آقا ، مدینے والے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 223