Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 228

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ ، فَاِنَّ فِیْهِمُ الضَّعِيْفَ وَالسَّقِيْمَ وَالْكَبِيْرَ وَاِذَا صَلَّى اَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ ، فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنھ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : اذا صلى احدكم للناس فليخفف ، فان فیهم الضعيف والسقيم والكبير واذا صلى احدكم لنفسه ، فليطول ما شاء.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نمازپڑھائے تومختصرپڑھائےکیونکہ اُن میں کمزور ، بیمار اور زیادہ عمر والے بھی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی شخص اکیلا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے لمبی نماز پڑھے۔ ‘‘

شرح حدیث

نماز میں تخفیف سے کیا مرادہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’نماز میں تخفیف سے مرادیہ ہے کہ اَوْسَاطِ مُفَصَّل( )پڑھےیا چھوٹی سورتوں پر اِکتفا کرے ، رکوع اور سجود کی تسبیحات تین تین بار پڑھے ، تشہداور حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردرودِپاک مکمل پڑھے ، یہ عام لوگوں کی اِمامت کے بارے میں ہےاوراگر کوئی شخص ایسی قوم کی امامت کرے جن کے ساتھ کسی کا حق متعلق نہ ہواور وہ لمبی قراءت پر راضی بھی ہوں اورکوئی دوسرابھی وہاں آنے والانہ ہوتولمبی قراءت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ‘‘( )تخفیف کا حکم صرف امام کے لیے ہے:علامہ سید محموداحمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’امام جب نماز پڑھا ئے تو مقتدیوں کاخیال رکھےاور مقتدیوں پر گراں گزرنے کی صورت میں قراءت ِ مسنونہ سے زائد نہ کرے لیکن اگر اکیلانماز پڑھ رہاہے تو خواہ قراءت لمبی کرے یامختصر دونوں کی اجازت ہےاورتخفیف کا حکم صرف امام کے لیے ہے منفردکے لیے تخفیف ضروری نہیں ہے۔ ‘‘( )فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اختصارسے مرادیہ ہے کہ قیام میں اتنی لمبی قراءت نہ کرے کہ مقتدیوں پرشاق گزرے ، رہ گیا رکوع وسجدہ انہیں بطریق مستحب ادا کرے البتہ انہیں بھی بہت لمبا نہ کرے ۔ ‘‘( )امام کے لیےطویل قراءت کا حکم:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیوں!جب نمازیوں میں بوڑھے ، کمزوراوربیمارلوگ ہوں توامام کوچاہیےکہ وہ مختصرنماز پڑھائےاورقراءت لمبی نہ کرے ، فقط ایک مجبور آدمی پر بھی طویل قراءت بار ہو تو امام کو طویل

قراءت کرنا حرام ہے ۔ چنانچہ اعلی حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجددِدِین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اگر ہزار آدمیوں کی جماعت ہے اور صبح کی نماز ہے اور خوب وسیع وقت ہے اور جماعت میں نو سو ننانوے 999آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار یا ضعیف بوڑھایا کسی کام کا ضرورت مند ہے کہ اس پرتطویل بار ہوگی اسے تکلیف پہنچے گی تو امام کو حرام ہے کہ تطویل کرے بلکہ ہزارمیں سےاُس ایک کے لحاظ سے نماز پڑھائے۔ خودحضو اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے نمازِ فجر میں ایک بچے کے رونے کی آواز سن کر اس خیالِ رحمت سے کہ اُس کی ماں جماعت میں حاضر ہے طولِ قراءت سے اُدھر بچہ پھڑکے گا اِدھر ماں کا دل بے چین ہوگا صرف قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقاورقُلْ اَعُوْذ بِرَبّ النَّاس سے نماز پڑھا دی جیسا کہ صحاح وغیرہا میں ہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے معاذبن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر طویل قراءت کرنے میں سخت ناراضی فرمائی یہاں تک کہ رخسار ہ مبارک شدّتِ جلال سے سرخ ہوگئے اورفرمایا : ’’اے معاذ!کیا تو لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والا ہے۔ ‘‘ یہ جملہ تین بار ارشادفرمایا۔ اما م کا مغرب میں سورۂوَالشَّمْس یا وَالضُّحٰی یااول میں اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ، دوسری میں اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ یہ دونوں رکوع پڑھنا خلاف سنّت اور اَلْھٰکُمُ التَّکَاثُر ایک رکعت میں اور اس سے پہلی میں اَلْقَارِعَۃُ یا دوسری میں وَالْعَصْرِپڑھنامطابق سنّت ہے۔ فتح القدیر میں ہے کہ قراءت میں طوالت وہ زیادتی ہے جو قراءتِ مسنونہ پر ہو کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے ایسی ہی زیادتی سے منع فرمایا ہے اور آپ کی قراءت قراءتِ مسنونہ ہی تھی ، لہذا جس سے آپ نے روکا وہ اس مسنو نہ کے علاوہ ہوئی لہٰذا اس سے گریز کیا جائے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’ مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اسلام وہ پیارا دِین ہے جس میں جوانوں ، بچوں اور بوڑھوں تمام کے حقوق کا خیال رکھا گیا ہے۔
(2) اگر مقتدیوں میں کمزور ، بیمار اور بوڑھے افراد ہوں تو امام طویل قراءت نہ کرے۔
(3) اگر ہزار1000آدمیوں میں سے نو سو ننانوے 999آدمی دل سے چاہتے ہیں کہ امام بڑی بڑی سورتیں پڑھے مگر ایک شخص بیمار ، ضعیف یا کسی کام کا ضرورت مند ہے تو امام کو حرام ہے کہ وہ لمبی قراءت کرے بلکہ اُن ہزار میں سےفقط اس ایک کے لحاظ سے مختصر نماز پڑھائے۔
(4) اگرنمازیوں میں تمام لوگ صحت مندہوں اور وہ لمبی نمازپڑھانے سے خوش ہوں توپھرامام کے لیے لمبی نمازپڑھاناجائزہے۔
(5) اگرکوئی شخص اکیلانماز پڑھ رہاہے توجیسے چاہےپڑھےخواہ قراءت لمبی کرے یامختصر ہرطرح جائز ہے ، تخفیف کا حکم صرف امام کے لیے ہے منفردکےلیےتخفیف ضروری نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں ہرمسلمان کے ساتھ بھلائی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، بوڑھے ، بیمار اور کمزور افراد کی رعایت کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 228