Main Icon

باب : مُرَاقَبَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 64

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’إِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَغَارُ، وَغَیْرَۃُ اللہِ تَعَالٰی أَنْ یَأْتِیَ الْمَرْئُ مَا حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِ۔‘‘(بخاری،کتاب النکاح، باب الغیرۃ، ۳/۴۶۹، حدیث:۵۲۲۳)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:’’إن اللہ تعالی یغار، وغیرۃ اللہ تعالی ان یاتی المرئ ما حرم اللہ علیہ۔‘‘(بخاری،کتاب النکاح، باب الغیرۃ، ۳/۴۶۹، حدیث:۵۲۲۳)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ (اپنے شایانِ شان)غیرت فرماتاہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ اس وقت غیرت فرماتا ہے جب بندہ وہ کام کرے جسے اللہ عزَّوَجَلَّ نے حرام فرمایا ہے۔‘‘

شرح حدیث

غیرت کی تعریف’’رسالۂ قُشَیْرِیَہ‘‘ میں ہے:’’ غیر کی شرکت کو ناپسند کرنا غیرت کہلاتا ہے ۔ جب غیرت اللہ عزَّوَجَلَّ کی صفت کے طور پر اِسْتِعْمال ہو تو اس کا معنی یہ ہو گا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے حق میں کسی دوسرے کی شرکت کو پسند نہیں فرماتا اور اس کاحق یہ ہے کہ بندہ اس کی اطاعت وعبادت کرے۔ (رسالۃ قشیریۃ، ص۲۸۸)غیرتِ الٰہی سے کیا مراد ہے ؟’’اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات‘‘ میں مُحَقِّق عَلَی الْاِطْلَاق شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کو اپنے بندوں سے جو محبت ہے اور انکے حال پر جو عنایت ہے اس کی بناء پر بندوں کو گناہوں اور مُحَرَّماتسے منع فرماتا ہے تاکہ وہ بارگاہِ قرب سے دور نہ ہوجائیں یہی زَجْرُوتَوْبِیْخ(یعنی ڈانٹ ڈپٹ) غیرتِ الٰہی ہے ۔ (مزید فرماتے ہیں ) کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا گنا ہوں کو حرام فرمانا اور دنیا وآخرت میں ان سے سزائیں مُتَعَلق کرنا اس کی غیرت کی بناء پر ہے تاکہ بندہ کسی مصیبت اور ناپسندیدہ حالت میں مبتلا نہ ہو اور بارگاہِ قُرب و رحمت سے دور نہ ہوجائے ۔ (اشعۃ اللمعات ، ۳/۱۷۵۔۱۷۴)حیا وغیرتمِراٰۃُ المناجیح میں ہے کہ ’’ حیا وغیرت صفاتِ الٰہیہ سے ہیں جسے یہ نعمت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا ۔’’ بندہ گناہ کرتا ہے ربّ کو اس سے غیرت آتی ہے، جیسے غلا م کی بُری حرکتوں سے مولیٰ کو غیرت آتی ہے۔ لہٰذا بندہ ہر گز گناہ پر دلیری نہ کرے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۵/۱۳۵ )
’’تفسیرِنعیمی‘‘ میں ہے : حیا کے معنی ہیں شرم و غیرت، جب بدنامی اور برائی کے خوف سے دل میں کسی کام سے رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اس رکاوٹ کا نام حیا ہے یہ ایک درمیانی حالت ہے اس کے نیچے ہے خَجالَت یعنی شرمندگی اور اس کے اوپر ہے وَقَاحَت جس کا معنی ،بے غیرتی ،بے شرمی (ہے) ان تینوں میں فرق یہ ہے کہ حیا کی وجہ سے انسان وہ کام کرتا ہی نہیں ، خجالت میں کام کرکے شرمندہ ہوتا ہے ۔ (جبکہ) وَقَاحَت میں بے غیرتی کے کام پر دلیری اور جرأ ت کرتا ہے، حیا اور غضب اور رحمت وغیرہ کے حقیقی معنی سے رب تعالیٰ پاک ہے کیونکہ یہ دل کی صفتیں ہیں اور دل جسموں میں ہوتا ہے لہٰذا حق تعالیٰ پر جہاں کہیں یہ الفاظ استعمال کئے جائیں گے وہاں ان کا نتیجہ مراد ہوگا۔ مثلاً حیا کا نتیجہ ہے کام چھوڑ دینا ،غضب کا نتیجہ ہے بدلہ لینا رحمت کا نتیجہ ہے نفع پہنچانا، حق تعالیٰ کے لیے ان الفاظ کے یہی معنی مراد ہیں۔ ( تفسیر نعیمی ، پ ۱ ،البقرۃ تحت الایۃ:۲۶، ۱ / ۱۹۸ )
تفہیم البخاری میں علامہ غلام رسول رضوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :’’مومن وہ کام کرے جو اللہ عزَّوَجَلَّ نے حرام کیا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ کو غیرت آتی ہے۔ امام نووی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :غیرت کا معنی ہے ’’منع‘‘ ۔ کہا جاتا ہے: ’’اَلرَّجُلُ غَیُّوْرٌ عَلٰی اَھْلِہِ‘‘ یعنی (وہ) اپنے اہل کو اجنبی کے ساتھ باتیں کرنے اور اس کو دیکھنے سے منع کرتا ہے، بعض نے کہا: غیرت غضب ہے جو غیرت کو لازم ہے پس اللہ عزَّوَجَلَّ کی غیرت یہ ہے کہ فواحش (یعنی بری باتوں ) پر اس کا غضب ہوتا ہے۔ (تفہیم البخاری ، ۸/ ۲۳۷)
غیرت سے متعلق تین فرامینِ مصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(1) اِنَّ الْغَیْرَۃَ مِنَ الِایْمَان ۔یعنی غیرت ایمان کاحصہ ہے ۔ (سنن الکبری للبیھقی، کتاب الشہادت، باب الرجل یتخذ الغلام… الخ، ۱۰/۳۸۱ حدیث:۲۱۰۲۳)
(2) بے شک! میں بہت زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ عزَّوَجَلَّ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے اور بے شک اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے غیرت مند بندوں کو پسند فرماتا ہے ۔(معجم الاوسط ، ۶/۱۸۳، حد یث:۸۴۴۱) نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیرت کے متعلق اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت،پروانۂِ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ’’فتاوی رضویہ شریف ‘‘میں فرماتے ہیں : کسی بھی صفت میں حضور اقدس کی مِثْل دوسرا شخص نہیں حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک صفت غیرت بھی ہے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خَلقِ خدا میں سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور خُدائے برْ تر اُن سے بڑھ کرغیرت والا ہے۔ (فتاوی رضویہ ، ۴/۴۸)
(3) اللہ عزَّوَجَلَّ مسلمان کے لئے غیرت فرماتا ہے پس چاہیے کہ مسلمان بھی غیرت مند ہو۔ (جامع صغیر، ص۱۱۸، حدیث:۱۹۱۸)
بندوں کااللہ عزَّوَجَلَّکے لئے غیرت کرنا’’رسالۂ قُشَیْرِیَہ‘‘ میں ہے : بندوں کی اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے غیرت یہ ہے کہ بندہ حق تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی طرف اپنے اَنفاس و خیالات کو جانے نہ دے۔ لہٰذا یہ کہنا جائز نہیں کہ مجھے اللہ عزَّوَجَلَّ پر غیرت آتی ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ مجھے اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے غیرت آتی ہے، اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے غیرت اس کے حقوق کی تعظیم اور اس کے لئے اعما ل کی صفائی کو لازم کرتی ہے۔(رسالۃ قشیریۃ، ص۲۸۹)اولیائے کرام کے دِلوں کی حالتاللہ عزَّوَجَلَّ کااپنے اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کے ساتھ یہ طریقہ ہے کہ جب وہ غیر کے ساتھ سکون حاصل کریں یا غیر کا لحاظ کریں ،یا دل سے غیر اللہ کے ساتھ مشغول ہوں ، تو ان پر یہ معاملہ مشکل کردیا جاتا ہے، اور اللہ عزَّوَجَلَّ غیرت کی وجہ سے ان کے دلوں کو خالص اپنے لئے بنالیتا ہے اور ان کے دلوں کو غیر کے ساتھ سکون، غیر کے لحاظ اور مشغولیت سے خالی کر دیتا ہے۔ (رسالۃ قشیریۃ، ص۲۹۰)
اللہ عزَّوَجَلَّ
غَیُّوْر ہےحضرتِ سَیِّدُنا محمد حَسَّان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَنَّان فرماتے ہیں کہ میں لَبنان کے پہاڑ کے گرد گھوم رہا تھا کہ ایک نوجوان میرے سامنے آیا جسے گر م ہواؤں نے جُھلسارکھا تھا، وہ مجھے دیکھتے ہی بھاگ گیا، میں اس کے پیچھے گیا اور کہا: مجھے کچھ نصیحت کرو ! اس نے کہا: اللہ عَزَّوَجَل سے ڈرو!کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ غَیُّوْر ہے وہ اپنے بندے کے دل میں اپنے سوا کسی کو پسند نہیں کرتا۔(المرجع السابق)حضرتِ سَیِّدَتُنا رَابِعَہ عَدْوِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہا بیمار ہوئیں بیماری کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا: میں نے اپنے دل سے جنت کو دیکھا تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے مجھے اس کی سزا دی، اسے سزا دینے کا حق ہے اور آئندہ میں ایسا نہیں کروں گی۔ (المرجع السابق)و لی کی دعاسے بیماروں کو شفاحضرتِ سَیِّدُنا سَرِی سَقَطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے فرمایا: میں ایک مدت تک اپنے ایک دوست کی تلاش میں تھا۔ میں ایک پہاڑ سے گزرا تووہاں چند لوگوں کو دیکھا ، جن میں کچھ اپاہج ، کچھ اندھے اور کچھ مریض ہیں ، میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو مجھے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے جو سال میں ایک بار آتا ہے وہ دعاکرتا ہے تو لوگوں کو شفا مل جاتی ہے۔ میں نے اس کے نکلنے کا انتظار کیا، وہ آیا اس نے دعا کی اور لوگ شفا یاب ہو گئے ۔ میں اس کے پیچھے ہولیا اور اس سے چمٹ گیا اور عرض کیا: میں ایک باطنی بیماری میں مبتلا ہوں ، اس کا کیا علاج ہے؟اس نے جواب دیا، اے سَرِی ! مجھ سے دور ہوجا ! بے شک! اللہ عزَّوَجَلَّ غیور ہے جب وہ تجھے غیر سے سکون پاتا دیکھے گا تو تو اس کی نظروں سے گر جائے گا۔
بعض صوفیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام کی غیرت میں سے یہ بھی ہے کہ جب وہ لوگوں کو غفلت کے ساتھ اللہ عزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتے ہوئے پاتے ہیں تو یہ انہیں دیکھ نہیں سکتے اور یہ بات ان کے لئے باعث ِمشقت ہوتی ہے ۔ (رسالۃ قشیریۃ، ص۲۹۱)
اپنے دِلوں کو غیر کی محبت سے خالی کرلواللہ عزَّوَجَلَّ نے اپنے ایک نبی عَلَیْہِ السَّلام کی طرف وحی فرمائی کہ میرا فلاں بندہ مجھ سے اپنی حاجت طلب کر رہا ہے اگر وہ ایک کام کرے تو اس کی حاجت پوری ہو سکتی ہے۔ نبی عَلَیْہِ السَّلام نے عرض کی: اے میرے پرورد گار عزَّوَجَلَّ ! کون سا کام ؟ ارشاد ہو ا: اس کے دل میں میرے غیر کی محبت بسی ہوئی ہے اگر وہ اپنے دل کو غیر کی محبت سے خالی کر لے تو میں اس کی حاجت پوری کر دوں گا۔(رسالۃ قشیریۃ ،ص۲۹۰)مدنی گلدستہ
’’ غیرت‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے 4 مدنی پھول
(1)سب سے بڑھ کر غیرت والا اللہ عزَّوَجَلَّ ہے پھر ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سب سے زیادہ غیرت مند ہیں۔
(2)مومن اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے غیرت کرتا ہے اس غیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو غیر کے خیال سے پاک رکھے، دل محبتِ الٰہی سے سرشار ہونا چاہیے۔
(3) جب انسان کی توجہ غیر کی طرف ہو جاتی ہے تو پریشانیاں اسے گھیر لیتی ہیں جو دل اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف مشغول ہوگا مطمئن رہے گا ۔
(4) اللہ عزَّوَجَلَّ کا گناہوں کو حرام کرنا اور بے حیائی کے کاموں سے منع کرنا اس کی غیرت کی وجہ سے ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں حقیقی غیرت عطا فرمائے، بے حیائی و بے شرمی سے ہمیں محفوظ رکھے!
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭٭٭٭٭٭٭٭∞

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 64