Main Icon

باب : مُرَاقَبَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 66

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ،وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ،وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا، وَتَمَنَّی عَلَی اللہ۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۰۷ حدیث:۲۴۶۷)

عن ابی یعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:الکیس من دان نفسہ،وعمل لما بعد الموت،والعاجز من اتبع نفسہ ہواہا، وتمنی علی اللہ۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۰۷ حدیث:۲۴۶۷)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوْ یَعْلٰی شَدَّاد بِنْ أَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جواپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کے باوجود اللہ عزَّوَجَلَّ سے آرزو اور تمنا کرے ۔

شرح حدیث

حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں الفاظِ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اَلْکَیِّسُ: وہ شخص ہے جو اپنے نفس کو اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم کے تابع کرے، احکامِ الٰہی کے سامنے جُھکتے ہوئے ان پر مکمل عمل کرے ۔امام ترمذی اور دیگر علما ئے کرام رَحِمَھُمُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : دَانَ نَفْسَہٗ کا معنی یہ ہے کہ اپنے اَحوال واَقوال و اَعمال کا محاسبہ کرے ، اگر اپنے اعمال درست لگیں تو شکرِ الٰہی بجا لائے، اگر اعمال میں برائی نظر آئے تو سچی توبہ کرے ،اعمال میں جوکمی و کوتاہی ہو اُسے پورا کرے اورحسابِ آخرت سے پہلے اپنا حساب خودکر لے ۔
اَلْعَاجِزُ:وہ بیوقوف انسان ہے جو گناہِ کبیرہ کا اِرتِکاب کرے اور بغیر توبہ و اِسْتِغْفَار کے جنت کی اُمید کرے یعنی حرام کام کرے، واجبات و فرائض کو چھوڑے ،توبہ بھی نہ کرے اور جنت میں جانے کی امید بھی رکھے۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق،باب استحباب المال والغمر للطاعۃ، ۹/۱۴۱۔۱۴۲، تحت الحد یث:۵۲۸۹)
شَیْخ اِبْنِ عِباد شَاذْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی سے منقول ہے : اہلِ معرفت نے کہا کہ وہ جھوٹی امید جو آدمی کو مغرور اور عمل سے غافل کردے، گناہوں پر دلیر بنادے، حقیقتاً اُمید ہے ہی نہیں بلکہ شیطان کی طرف سے دھوکہ اور فریب ہے۔ (اشعۃ اللمعات، ۴/۲۵۱)
عمل کے بغیر جنت کی طلب کیسی؟حضرتِ سَیِّدُنا مَعْرُوْف کَرْخِیعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی نے فرمایا:عمل کے بغیر جنت کی طلب گناہ ہے بغیرکسی تعلق و سبب کے شفاعت کی امید رکھنا فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے رحمت کی امید رکھنا جہالت اور بے وقوفی ہے ۔(المرجع السابق)باطل آرزوئیںحضرتِ سَیِّدُنا اِمَام حَسَن بَصْرِیعلیہ رحمۃُ اللہ القَوِی فرماتے ہیں :اگر کوئی قوم صرف اس آرزو پر اس دنیا سے رخصت ہوجائے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ بخشنے والا ہے حالانکہ انہوں نے نیکی نہیں کی تو ان لوگوں کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ اُنہیں معاف کردیگا جھوٹ ہوگا کیونکہ اگر وہ اتنی بڑی آرزوکے قائل تھے تو نیک عمل کرتے اور فرمایا :اے اللہ کے بندو! ایسی باطل آرزؤں سے دور رہوجو احمقوں کا طریقہ ہے اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم ! اللہ عزَّوَجَلَّ بندے کی اُن باطل آرزؤں پر نہ دنیا میں کچھ دیتا ہے اور نہ ہی آخرت میں۔
حضرت سیِّدُنا عُمَر بِنْ مَنْصُور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَفُورنے اپنے ایک دوست کو لکھا:’’ تو بُرے اعمال کے ساتھ لمبی عمر چاہتا ہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے آرزو رکھتا ہے! ہوش کر! تو ٹھنڈالوہا کوٹ رہا ہے‘‘ یعنی بے فائدہ کام کر رہاہے۔‘‘ (اشعۃ اللمعات، ۴/۲۵۲)
محاسَبہ کی تعریف اور اس سے متعلق مزید کچھ اہم باتیں مُلاحَظہ فرمائیے!
مُحاسَبَہ کیا ہے ؟اِحیائُ العُلُوممیں ہے : کثرت اور مقدار میں زیادتی اور کمی کے لئے جو غور کیا جاتا ہے اسے مُحاسَبَہ کہتے ہیں ، پس بندے کا اپنے دن بھر کے اعمال میں کمی بیشی کا اندازہ لگانے کے لئے غورو فکر کرنا مُحاسَبَہ کہلاتا ہے۔(احیاء لعلوم ، ۵/۱۲۷)نیکی کرکے بھول جاؤعقلمند وہی ہے جو نیکیوں کے حُصول کی سعادت پاکر انہیں بھول جائے اور گناہ صادِر ہو جائیں تو انہیں یاد رکھے اوراپنی اِصلاح کے لیے ان پر سختی سے اپنا مُحاسَبَہ کرتا رہے بلکہ نیک اعمال میں کمی پر بھی خود کو سرزَنِش (یعنی ڈانٹ ڈپٹ) کرے اور ہر لمحہ خود کو اللہ واحِد قَہَّار کے قَہر و غَضَب سے ڈراتا رہے یہی ہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہم اللہ الْمُبِیْن کا معمول رہا ہے ۔ آئیے اپنے اَسلاف کے محاسبہ کرنے کا انداز ملاحظہ کرتے ہیں تاکہ اُن کی برکت سے ہمیں بھی اپنا اِحْتِسَاب کرنے کی توفیق نصیب ہوجائے ۔آج ’’کیا کیا ‘‘کیا؟اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ روزانہ اپنا اِحْتِسابفرمایا کرتے اور جب رات آتی تو اپنے پاؤں پر دُرَّہ (کَوڑا)مار کر فرماتے: بتا! آج تو نے’’کیا کیا‘‘کیا ہے؟۔(احیاء العلوم، ۵/۱۴۱)فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی عاجِزیاَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ عَشَرۂ مُبَشَّرہ یعنی اُن دس صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَانمیں سے ہیں جنہیں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا ہی میں جنّت کی بشارت دے دی۔ اَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا صدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے بعد امت میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سب سے افضل ہیں اس کے باوُجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ بہت زیادہ اِنکِساری فرمایا کرتے تھے۔ چُنانچِہ، حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : ایک بار میں نے حضرتِ سَیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک باغ کی دیوار کے قریب دیکھاکہ اپنے نفس سے فرما رہے تھے ’’واہ! لوگ تجھے اَمیرُالْمُؤمِنِیْنکہتے ہیں (پھر بطورِ عاجِزی فرمانے لگے) اور تو (وہ ہے کہ) اللہ عزَّوَجَلَّ سے نہیں ڈرتا! (یاد رکھ!)اگر تو نے اللہ عزَّوَجَلَّ کا خوف نہیں رکھا تو اس کے عذاب میں گرفتار ہو جائے گا۔‘‘ (کیمیا ئیسعادت، ۲/۸۹۲)قِیامت سے پہلے حساباَمیرُالْمُؤمِنِیْنحضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا: ’’اے لوگو! اپنے اعمال کا اس سے پہلے محا سَبَہ کر لو کہ قیامت آجائے اور اُن کا حساب لیا جائے۔‘‘ (احیاء العلوم، ۵/۱۲۸)انوکھا حسابحُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوالِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا اِبنُ الصِّمَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک باراپنا محاسَبہ کرتے ہوئے اپنی عمر شمار کی تو وہ (تقریباً) ساٹھ برس بنی، ان ساٹھ برسوں کو بارہ سے ضرْب دینے پر سات سو بیس مہینے بنے، سات سوبیس کو مزید تیس سے مَضرُوب کیا( ضرب دیا) تو حاصلِ ضرْب اکیس ہزار چھ سو آیا جو آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مبارَک عمر کے اَیّام تھے پھر اپنے آپ سے مُخاطِب ہو کر فرمانے لگے:’’اگرمجھ سے روزانہ ایک گناہ بھی سرزد ہوا ہو تو اب تک اکیس ہزار چھ سو گناہ ہوچکے، جبکہ اس مدت میں ایسے ایام بھی شامل ہوں گے جن میں یومیہ ایک ہزار تک بھی گناہ ہوئے ہوں گے‘‘یہ کہنا تھا کہ خوفِ خداسے لرزنے لگے !پھر یکایک ایک چیخ اُن کے منہ سے نکل کر فَضا کی پَنہائیوں میں گم ہوگئی اور آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ زمین پر تشریف لے آئے، دیکھا گیا تو طائرِروح قَفَسِ عُنصُری سے پرواز کرچکا تھا۔(کیمیا ئے سعادت،۲/۸۹۱)بچپن کی خطا یاد آگئیحضرتِ سَیِّدُنا عُتْبَۃُ الْغُلامعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ السَّلام کی عبادت وریاضت کا یہ عالَم تھا کہ چالیس سال تک عشا کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ۔’’تنبیہ المغترین‘‘ میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک جگہ سے گزرے تو بے ہوش ہو کر گر پڑے، جب اِفاقہ ہوا تو فرمایا: ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں مجھ سے چھوٹی عمر میں ایک گناہ سرزد ہوا تھا۔‘‘ (تنبیہ المغترین، ص۵۴)
ہمارے بزرگان دین رَحِمَہم اللہ الْمُبِیْن کس طرح اپنا محاسبہ فرماتے، ان کا انداز کتنا اَعلیٰ تھا ہر دم نیکیوں میں مصروف رہنے کے باوجود خود کو گنہگار تصور کرتے حالانکہ اُن کی شان تو یہ ہے کہ وہ مُسْتَحَبَّات کے ترک کوبھی اپنے لئے سَیِّئَات(یعنی برائیوں )میں سے جانتے، نفلی عبادات میں کمی کو بھی جرم تصوُّر کرتے اور بچپن کی خطا کو بھی گناہ شمار کرتے حالانکہ نابالِغی کے گناہ شمارنہیں کئے جاتے۔
چراغ پرانگوٹھابہت بڑے عالم اور تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدنا اَحْنَفبن قَیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُرات کے وقت چراغ ہاتھ میں اٹھا لیتے اور اس کی لَو پر انگوٹھا رکھ کر اس طرح فرماتے: اے نفس! تو نے فلاں کام کیوں کیا؟ اور فلاں چیز کیوں کھائی؟یعنی اپنا مُحاسَبَہ کرتے کہ اگر میرے نفس نے غلطی کی ہو تو اس کو تَنبیْہ ہو کہ یہ چراغ کی لَو جو کہ بہت ہی ہلکی آگ ہے پھربھی ناقابلِ برداشت ہے توبھلا جہنم کی بھیانک آگ برداشت کرنا کیونکر ممکن ہوگا۔(کیمیائے سعادت، ۲/۸۹۳)مدنی گلدستہ
’’فکرِمد ینہ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکوراور اسکی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) عقل مند ہم یشہ اپنے اعمال پر نظر رکھتا ہے جہاں غلطی پاتا ہے فوراً اصلاح کرتا ہے ۔
(2) نادان اپنی اصلاح سے محروم رہتا ہے کیونکہ جسے اپنی غلطی کااحساس ہی نہ ہو وہ اپنی اصلاح نہیں کرسکتا ۔
(3) نیک لوگوں کی بارگاہ میں حاضری اصلاحِ اعمال کا باعث ہے ان کی نصیحت آموز باتیں تاثیر کا تیر بن کر دل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
(4) اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے بندے کے دل میں اپنے غیر کی محبت کو پسند نہیں فرماتا۔
(5) جن کے دل یادِ الٰہی میں ہی مشغول رہیں وہ دنیا وآخرت کے غموں سے محفوظ رہتے ہیں۔
(6) اللہ عزَّوَجَلَّ سے عَفْووکَرَم کی امید بھی رکھنی چاہیے اور نیک اعمال کو ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے ۔
(7) بزر گانِ دین رَحِمَھُمُ اللہ الْمُبِیْن کثرتِ عبادت کے باوجود اپنے آپ کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ سچ ہے کہ جس ٹہنی پر جتنے
زیادہ پھل ہوتے ہیں وہ ا تنی ہی زیادہ جھکی ہوتی ہے ۔
(8) اللہ عزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کے باوجود رحمتِ الٰہی کی اُمید رکھنا جہالت اور بے وقوفی ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ، دنیا وآخرت میں ہمیں ذِلَّت ورسوائی سے بچائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 66