Main Icon

باب : مُرَاقَبَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 63

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: إِنَّکُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا ہِیَ أَدَقُّ فِی أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ،کُنَّا نَعُدُّہَا عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَات۔(بخاری،کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب،۴/۲۴۴حدیث:۶۴۹۲)

عن انس رضی اللہ عنہ قال: إنکم لتعملون اعمالا ہی ادق فی اعینکم من الشعر،کنا نعدہا علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من الموبقات۔(بخاری،کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب،۴/۲۴۴حدیث:۶۴۹۲)

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں :تم لوگ بعض ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں حالانکہ ہم نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں انہیں مُُہْلِکَات (ہلاک کرنے والے اَعمال) میں شمار کرتے تھے۔

شرح حدیث

گناہ ِصغیرہ ،کبیرہ بن جاتا ہےعلامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں : صحابہ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَانخوف الٰہی کی شدت کے سبب صغیرہ گناہوں کوبھی مُُہْلِکَات (ہلاک کرنے والے اَعمال) میں شمار کرتے تھے، جبکہ کبیرہ گناہوں سے تو بہت دور رہتے تھے ۔ اور گناہ ِصغیرہ پر اصرار اُسے کبیرہ بنادیتا ہے ۔
(عمدۃ القاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب، ۱۵/۵۶۵، تحت الحدیث:۶۴۹۲ )
اِمَام شَرْفُ ا لدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی الفاظِ حدیث ’’ہِیَ أَدَقُّ فِی أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : یعنی تم بعض اعمال ایسے کرتے ہو کہ جنہیں تم نیک سمجھتے ہوجبکہ حقیقت میں وہ نیک اَعمال نہیں۔ (شرح الطیبی ،کتاب الرقاق ،باب البکاء والخوف،۱۰/ ۲۸، تحت الحدیث: ۵۳۵۵)
فقیہِ اعظم شارح بخاری حضرت علامہ مفتی شریفُ الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :یعنی تم لوگ کچھ گناہ صغیرہ کرتے ہو اور پروا نہیں کرتے، سوچتے ہو کہ اس سے کچھ نہیںبگڑے گا حالانکہ عہدِ رسالت میں لوگ صغیرہ گناہوں کوبھی ہلاک کرنے والا جانتے تھے اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر گناہ کے ارتکاب سے بچنے کی پوری طرح سے کوشش کرنی چاہیے۔ نہیں معلوم کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کس پر مواخذہ کردے۔ علاوہ ازیں صغیرہ پر اِصراراُسے کبیرہ بنا دیتا ہے ۔اس لئے صغیرہ گناہوں سے بھی حسب استطاعت بچنے کی پوری کوشش لازم ہے۔ (نزھۃ القاری ، ۵/ ۶۶۲)
صغیرہ گناہ کا وبالحضرتِ سَیِّدُنا اسلم ابو عمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے منقول ہے کہ آدمی نیکی کرتا ہے اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے صغیرہ گناہوں کی پروا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اللہ عزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گاکہ اس کی خطائیں اسے گھیرے ہوئے ہوں گی اور ایک شخص برائی کرتا ہے اور وہ اُس برائی سے ڈرتا رہتا ہے ، تو وہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے قیامت کے دن امن کی حالت میں ملے گا ۔ حضرت سیِّدُ نا ابن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں : اپنے آپ کو صغیرہ گناہوں سے بچاؤ کیونکہ جب یہ زیادہ ہوجائیں تو اپنے کرنے والے کو ہلاک کردیتے ہیں۔(شرح بخاری لابن بطال ،کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب،۱۰/ ۲۰۲)صغیرہ گناہ کرنے والے کی مثالحضرتِ سَیِّدُنا ابو عبد الرحمن حُبُلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں :جو شخص گناہ ِکبیرہ سے تو بچے لیکن گناہِ صغیرہ کا اِرتِکاب کرے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جس کا سامنا ایک درندے سے ہوا تو اس نے اپنے آپ کو اس کے حملے سے بچایا اور اس سے نجات حاصل کی، پھر اسکا سامنا ایک خطرناک اونٹ سے ہوا اُس نے اپنے آپکو اُس سے بھی بچایا اور نجات پائی پھر اس کو ایک چیونٹی نے کاٹاتو اسے تکلیف ہوئی پھر دوسری چیونٹی نے اسے کاٹا پھر تیسری نے کاٹا یہاں تک کہ بہت ساری چیونٹیوں نے اسے کاٹا اور زمین پہ گرا دیا۔(المرجع السابق)
اگر ہم اپنا محاسَبہ کریں تو پتہ چلے گا صغیرہ تو دَرکِنار ،گناہِ کبیرہ کرتے وقت بھی ہمیں ندامت نہیں ہوتی ۔ صحابۂ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان اول تو گناہ کرتے ہی نہ تھے اور اگر کبھی ان سے کوئی گناہ سرزَدہو جاتا تو فوراًتوبہ کر لیا کرتے تھے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی خطا کو بہت بڑا سمجھتے تھے ۔وہ بے حد محتاط ہوا کرتے تھے گناہ تو دُور وہ مُشْتَبَہ (شک والی) چیزوں سے بھی بچتے تھے چنانچہ منقول ہے کہ
منہ میں انگلی ڈال کر قے کردیایک دن اَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے اپنے غلام کی کمائی سے دودھ نوش فرمایاپھر غلام سے پوچھا کہ تم نے یہ دودھ کہا ں سے حاصل کیا ؟ اس نے عرض کی: میں نے ایک آدمی کے لئے کَہانَت کی تھی (نجومیوں کی طرح آیندہ کی باتیں بتائی تھیں ) اس نے یہ دودھ دیا ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے جب اسکی یہ بات سنی تو فورا ًاپنے منہ میں انگلی ڈال کر قے (اُلٹی) کرنے لگے یہاں تک کہ گمان ہونے لگا کہ آپ کے اس فعل سے آپ کی روح پرواز کر جائے گی ۔پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے با رگاہِ الٰہی میں عرض کی: یا اللہ عزَّوَجَلَّ !( جومیرے اختیار میں تھا میں نے کر لیا اور) جو کچھ رَگوں نے اٹھا یا اور آنتوں کے ساتھ مل گیا میں اس سے تیری بار گاہ میں عذر پیش کرتا ہوں۔ (احیاء العلوم، ۲/۱۱۵)فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکی احتیاطاَمیرُالْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے پاس بَحْرَیْن سے کستوری آئی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے فرمایا :میں چاہتا ہوں کہ کوئی اس کا وَزن کرے اور میں اسے مسلمانوں میں تقسیم کردوں ، آپ کی زوجہ حضرتِ سَیِّدَتُنا عَاتِکَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی کہ میں اچھی طر ح وزن کرسکتی ہوں ،آپ انکی یہ بات سن کر خاموش رہے ،پھر دوبارہ وہی بات دہرائی آپکی زوجہ محترمہ نے پھر عرض کی کہ میں اچھی طرح وَزن کرسکتی ہوں ،تو آپ نے فرمایا :میں نہیں چاہتاکہ وزن کرتے وقت تم اسے اپنی ہتھیلی پر رکھو اور پھر اس پر لگی ہوئی خوشبو اپنے جسم پرمَل لو اور اس طرح مجھے دوسرے مسلمانوں سے زیادہ کستوری حاصل ہو جائے ۔ (احیاء العلوم، ۲/۱۲۱)
اللہ عزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے جہاں اپنے آپ کو حرام وناجائز باتوں سے بچاتے ہیں وَہِیں حرام کی طرف لے جانے والی اور مشکوک اشیاء سے بھی بچتے ہیں۔ آج کے اس پُرفِتَن دَور میں جہاں گناہوں کی بھر مار ہے وہیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے ایسے نیک بندے بھی موجود ہیں جو صحابہ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان کی پیروی کرتے ہوئے خوب احتیاط سے کام لیتے ہیں۔ آئیے !اس دور کی ایک عظیم روحانی و علمی شخصیت شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت ،بانیِ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ کے خوفِ خدا سے متعلق کچھ واقعات ملاحظہ کرتے ہیں۔
حق تلفی سے بچنے کے لئے قِطار میں کھڑے رہےشیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانیِ دعوت ِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلالمحمد الیاس عطار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ نے ۱۴۰۰ہجری میں حَرَمین طَیِّبَینکی زیارت کاارادہ کیا اور اپنا پاسپورٹ ویزا لگوانے کے لئے جمع کروا دیا ۔ ویزا لگ جانے پر جب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ اپناپاسپورٹ لینے کے لئے متعلقہ ایمبیسی پہنچے تو وِیزا لینے والوں کی ایک طویل قِطار لگی ہوئی تھی ۔ آپ بھی قطار ہی میں کھڑے ہوگئے ۔ کسی جاننے والے ٹریول ایجنٹ (TRAVEL AGENT)کی نظر آپ پر پڑی کہ اتنے اعلیٰ مرتبے کے حامل ہونے کے باوُجود قِطار میں کھڑے ہوئے ہیں تو اس نے بعد ِ سلام عرْض کی:’’حضور! قِطار بہت طویل ہے ، آپ کو کئی گھنٹوں تک دھوپ میں انتظار کرنا پڑے گا ،آئیے میں آپ کو (اپنے تعلقات کی بنا پر)کھڑکی کے قریب پہنچا دیتا ہوں۔‘‘ مگر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ نے بڑی نرمی سے منع فرمادیا ،جس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ اس کی پیش کش قبول فرماکر آگے تشریف لے جاتے تو پہلے سے قِطار میں کھڑے ہونے والوں کی حق تَلَفی ہوجاتی ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ
کی امیرِ اہلِسنّت پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدنمک چکھنے پر معافی مانگ لیایک مُبَلِّغ اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ دعوتِ اسلامی کا ابتدائی دور تھا۔ مَدَنی قافلے میں سفر کے دوران چائے پینے کیلئے ایک ہوٹل میں جانا پڑا تو میں نے سامنے رکھا ہوا نمک چکھ لیا ۔امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ نے فوراً فرمایا:’’ یہ آپ نے کیا کیا؟ عُرف میں یہ نمک کھانا کھانے والوں کیلئے رکھتے ہیں۔‘‘ پھر آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہم الْعَالِیَۃ نے کاؤنٹر پر مُبَلِّغ کوساتھ لے جاکر ہوٹل کے مالک سے کہا:’’ آپ نے نمک غالباََکھانا کھانے والوں کیلئے رکھا ہوگا مگر اس اسلامی بھائی نے اسے چکھ لیا ہے جبکہ ہمیں صرف چائے پینی تھی، لہٰذ ا ! اِن کو مُعاف فرمادیں۔ ‘‘ہوٹل کا مالک یہ سن کر حیرت زدہ ہوگیا کہ اس دور میں اتنی احتیاط کون کرتاہے؟ پھراس نے کہا: ’’حضور! کوئی بات نہیں۔‘‘مدنی گلدستہ
’’مد ینہ‘‘کے5 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذ کور اوراس کی وضاحت سے ملنے والے5 مدنی پھول
(1) گناہوں کو ہلکا جاننا خوفِ خدامیں کمی کی دلیل ہے۔
(2) صغیرہ گناہوں کو بڑا سمجھنا کمالِ خشیت کی دلیل ہے ۔
(3) انبیا ئے کرام عَلَیْھِمُ السَّلَامکے بعد تمام لوگوں میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے صحابہ کرام عَلَیْہم الرِّضْوَان ہیں۔
(4) صغیرہ گناہ بار بار کرنے کی وجہ سے کبیرہ بن جاتے ہیں۔
(5) جو اپنا مُحاسَبہ کرتا ہے اسے اپنی خطاؤں کا احساس ہوتا رہتا ہے اور گناہوں پر توبہ کی توفیق ملتی رہتی ہے ۔
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچنے کی تو فیق مرحمت فرمائے!
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 63