- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- حدیث نمبر 67
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،۴/۱۴۲حدیث:۲۳۳۴)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:من حسن إسلام المرئ ترکہ ما لا یعنیہ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،۴/۱۴۲حدیث:۲۳۳۴)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ۔
شرح حدیث
دِین کوکِفایت کرنے والی چارحدیثیںیہ حدیثِ پاک اُن احادیثِ کریمہ میں سے ایک ہے جنہیں اسلام کا مَدار قرار دیا گیا ہے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنااِمام ابوداؤد عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْوَدُوْدفرماتے ہیں :’’انسان کے دِین کے لئے یہ چارحدیثیں کافی ہیں :(۱)اَلأَعْمَالُ بِالنِِّیَّاتِ(اعمال کادارومدارنِیَّتوں پرہے)(۲)اَلْحَلالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ۔(حلال بھی ظاہرہے اورحرام بھی ظاہرہے)(۳)مِنْ حُسْنِ إسْلامِ الْمَرْئِ تَرْکُہٗ مَالا یَعْنِیْہِ۔(بے فائدہ باتوں کو چھوڑدینا آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے) (۴)لا یَکُوْنُ الْمُؤمِنُ مُؤمِنًا حَتّٰی یَرْضٰی لِاَخِیْہِ مَا یَرْضَاہٗ لِنَفْسِہِ۔( بندہ اس وقت تک کامِل مومن نہیں ہوسکتاجب تک اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند نہ کرے جواپنے لئے پسندکرتاہے) (تاریخ بغداد، ۹/۵۸حدیث:۴۶۳۸)مومن کو بے فائدہ باتوں سے بچنا چاہیےحضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :بندے کے اسلام کی خوبیوں اور کمال میں سے یہ ہے کہ وہ ایسے کلام، ایسی حرکات و سکنات سے بچے جو اس کے لئے دین و دنیا میں فا ئدہ مند نہ ہوں۔ ہم یشہ وہ کلام یا کام کرے جو دنیا یا آخرت کے لئے فائدہ مند ہو۔ ایک بزرگ کسی محل کے دروازے کے پاس سے گزر ے تو ما لک سے پوچھا :تم نے یہ مکان کب بنایا؟ مالک ابھی جواب دینے ہی والا تھا کہ فوراً اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اے دھوکہ باز نفس !تو نے ایسی شے کے بارے میں سوال کیا جو تیرے مطلب کی نہیں لہٰذا میں تجھے ایک سال کے روزے رکھ کر سزا دونگا۔
فرمانِ مصطفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:جنتیوں کو جنت میں ان لمحات پر افسوس ہوگا جنہیںاللہ عزَّوَجَلَّکے ذکر کے بغیر گزار دیا تھا ۔(مر قاۃ المفا تیح،کتاب الاداب، الفصل الثانی، ۸/۵۸۵ - ۵۸۶، تحت الحدیث:۴۸۴۰)بے فائدہ کلام کی تعریفحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیفرماتے ہیں :بے فائدہ کلام وہ ہے کہ اگر تم اسے نہ کرو تو نہ تمھیں کوئی گناہ ہو اورنہ ہی کسی قسم کا کوئی نقصان ۔ اسے یوں سمجھئے کہ جیسے آپ اپنے کسی سفر کا حال لوگوں کے سامنے بیان کریں ، دوران سفر لوگوں سے ملاقات کے واقعات، پسندیدہ کھانوں ،کپڑوں پہاڑ وں اور نہروں وغیرہ کا بیان کریں۔تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ ان کے بیان نہ کرنے پر نہ تو کوئی گناہ ہے نہ فی الحال یا آئندہ کسی قسم کا کوئی نقصان اور یہ بھی اسی صورت میں ہے جبکہ واقعات میں اپنی طرف سے نہ تو جھوٹی مبالغہ آرائی ہو نہ ہی اپنا تزکیہ نفس بیان کیا گیا ہو ، نہ کسی کی غیبت یا برائی بیان کی ہو۔ان تمام باتوں کا خیال رکھنے کے باوجود ان واقعات کو بیان کرنے میں بہت ساقیمتی وقت ضائع ہو گیا ۔ (احیاء العلوم، ۳/۱۴۰)فضول باتوں کا نقصانحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیان چار وُجُوہات کی بِنا پرفُضُول باتوں کی مَذَمَّت کرتے ہیں : (1) فُضُول باتیں کِراماًکاتِبِین (یعنی اعمال لکھنے والے بُزُرگ فِرِشتوں )کو لکھنی پڑتی ہیں ، لہٰذا آدمی کو چاہیے کہ ان سے شَرْم کرے اورانہیں فُضُول باتیں لکھنے کی زَحْمت نہ دے ۔اللہ عَزَّوَجَلّارشاد فرماتاہے:مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ(۱۸)(پ۲۶،ق:۱۸)ترجَمۂ کنزالایمان: کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
(2) یہ بات اچھّی نہیں کہ فضول باتوں سے بھرپور اعمال نامہاللہ عزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں پیش ہو(3)اللہ عزَّوَجَلَّکے دربار میں تمام مخلو ق کے سامنے بندے کو حکم ہو گا کہ اپنا اعمال نامہ پڑھ کر سناؤ! اب قِیامت کی خوفناک سختیاں اس کے سامنے ہوں گی ،انسانبَرَہْنہ(بَ۔رَہْ۔نہ، یعنی بے لباس ) ہوگا،سخت پیاسا ہوگا، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو گی،جنَّت میں جانے سے روک دیا گیا ہوگااورہر قسم کی راحت اُس پر بند کردی گئی ہوگی،( غور کیجئے ایسے تکلیف دِہ حالات میں فُضُول باتوں سے بھرپور اعمال نامہ پڑھ کر سنانا کس قَدَر پریشان کُن ہوگا!) (4) بروزِقیامت بندے کوفُضول باتوں پر ملامت کی جائے گی اور اُس کوشرمندہ کیا جائے گا۔ بندے کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوگا اوروہاللہ عزَّوَجَلَّ کے سامنے شرم ونَدامت سے پانی پانی ہوجائے گا۔ (مِنہاجُ العابِدین، ص۶۷)امیرُالْمُؤمِنِین،امامُ العادِلین،مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :(1)فُضُول گوئی سے بچنے والے کو حکمت و دانائی عطا کی جاتی ہے (2) فُضُول نگاہی یعنی بِلاضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے سے بچنے والے کو دِلی سکون ملتا ہے (3)فُضُول طَعام چھوڑنے والے کو عِبادت میں لذّت دی جاتی ہے(4) فضول ہنسنے سے بچنے والے کو رُعب و دبدبہ عنایت ہوتا ہے (5) مذاق مسخری سے بچنے والے کو نورِ ایمان نصیب ہوتا ہے(6) دُنیا کیمَحَبَّت سے بچنے والے کو آخِرت کی مَحَبَّتدی جاتی ہے(7) اوردوسروں کے عیب ڈھونڈنے سے بچنے والے کو اپنے عیبوں کی اصلاح کی توفیق ملتی ہے۔ (ماخوذ،اَزاَلمنبہات ص۸۹)ایک صَحابی کے جنَّتی ہونے کا رازہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عزَّوَجَلَّکی عطاسے لوگوں کو دیکھ کر ہی پہچان لیتے تھے کہ یہ جنتی ہے یا جہنمی بلکہ آنے والے کی پہلے ہی سے خبر ہوجاتی کہ وہ جنتی ہے یا دَوزَخی،چنانچہاللہ عزَّوَجَلَّکے مَحبوب ، دانائے غُیُوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص سب سے پہلے اس دروازے سے داخِل ہو گاوہ جنَّتی ہو گا۔‘‘اِتنے میں حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن سلامرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُدروازے سے داخِل ہوئے، لوگوں نے ان کو مبارَکباد دیتے ہوئے دریافت کیا کہ آخِر کس عمل کے سبب آپ کو یہ سعادت ملی ؟فرمایا: میرا عمل بَہُت ہی تھوڑا ہے اور جس کی میںاللہ عزَّوَجَلَّسے امّید رکھتا ہوں وہ میرے سینے کی سلامتی اور بے مقصد باتوں کو چھوڑنا ہے۔(اَلصَّمْت لِابْنِ اَبِی الدُّنْیا، ۷/۸۶، حدیث۱۱۱)
’’ سینے کی سلامَتی‘‘ سے مُراد دل کا لَغْوِیّات (یعنی بے ہودہ ) اورحَسَد وغیرہ اَمراضِ باطِنِیَّہ سے پاک ہونا اور دل میں ایمان کا مضبوط و مُسَتَحْکَم ہونا ہے ۔گفتگو کی اقسامحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیکے فرمانِ والا شان کا خلاصہ ہے:گفتگو کی چارقِسمیں ہیں : (1) مکمّل نقصان دہ بات(2 ) مکمَّل فائدے مند بات (3 )ایسی بات جو نقصان دہ بھی ہو اور فائدے مند بھی ( 4)ایسی بات جس میں نہ فائدہ ہو نہ نقصان۔پس پہلی قِسم کی بات جو کہ مکمّل نقصان دِہ ہے اُس سے ہم یشہ پرہیز ضَروری ہے۔ اور اسی طرح تیسری قِسم والی بات کہ جس میں نقصان اور فائدہ دونوں ہیں ، اس سے بھی بچنا لازِم ہے ۔ اور جو چوتھی قِسم ہے وہ فُضُولیات میں شامل ہے کہ اُس کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان لہٰذا ایسی بات میں وَقت ضائِع کرنا بھی ایک طرح کا نقصان ہی ہے ۔ ا س کے بعد صرف دوسری ہی قِسم کی بات رہ جاتی ہے یعنی باتوں میں سے تین چوتھائی (یعنی75بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم)تو قابلِ استعمال نہیں اور صرف ایک چوتھائی(یعنی25بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم) بات جو کہ فائدہ مند ہے بس وُہی قابلِ استِعمال ہے مگر اِس قابلِ استِعمال بات کے اندر باریک قسم کی رِیا کاری ، بناوَٹ ، غیبت ، جھوٹے مبالغے ’’ میں میں کرنے کی آفت ‘‘ یعنی اپنی فضیلت و پاکیزگی بیان کر بیٹھنے وغیرہ وغیرہ اندیشے ہیں نیز فائدہ مندگفتگو کرتے کرتے فُضُول باتوں میں جا پڑنے پھر اس کے ذَرِیعے مزید آگے بڑھتے ہوئے اِس میں گناہ کا ارتِکاب ہو جانے وغیرہ وغیرہ خدشات شامل ہیں اوریہ شُمُولِیَّت ایسی باریک ہے جس کاعِلْم نہیں ہوتا، لہٰذا اس قابلِ استِعمال بات کے ذَرِیعے بھی ا نسان خطرات میں گِھرا رہتا ہے۔(مُلَخَّص از اِحیاء الْعُلوم ۳/۱۳۸)مدنی گلدستہ’’خاموشی‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)بے فائدہ باتوں سے بچنا اسلام کی اہم ترین خوبی ہے۔
(2) فضول گَوئی کرنے والے کا گناہوں بھری گفتگو سے بچنا مشکل ہے، فضول گوئی اکثر گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔
(3) فضول گوئی کرنے والا لوگوں کے سامنے بے وُقعت ہو جاتا ہے۔
(4) فضول گوئی کرنے والے کو بروز قیامت مخلوق کے سامنے شرمندگی و مَلامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(5)فضول گوئی اور کینۂ مسلم کو ترک کر دینا آخرت میں بلندیٔ درجات کا سبب ہے ۔
(6)ہمارے پیارے آقا مدینے والے مصطفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکواللہ عزَّوَجَلَّنے ایسی قوت عطافرمائی ہے کہ آپ ہر ہرجہنمی وجنتی کو پہچان لیتے ہیں۔تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 67