باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 1

حضرت سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک نہایت سفید لباس اور نہایت سیاہ بالوں والا ایک شخص آیا، اس پر نہ کوئی سفر کا اثر تھا اور نہ ہی ہم میں سے کو ئی اسے پہنچانتا تھا۔ وہ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آکر بیٹھ گیا اور اس نے اپنے گھٹنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک گھٹنوں سے ملا دئیے اور اپنے ہاتھ زانوں پر رکھ دئیے اور کہا :اے محمد!( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :اِسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ کے رسول ہیں ،اور تو نماز قائم کرے، زکوۃ دے، رمضان کے روزے رکھے اور طاقت ہو تو بیتُ اللہ شریف کا حج کرے۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا ۔ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا ہے اور پھر خود ہی تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھراُس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟ فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ عزَّوَجَلَّ اس کے فرشتوں ، اسکی کتابوں ،اسکے رسولوں ، آخرت اور اچھی وبُری تقدیر پر ایمان لائے۔اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر اس نے کہا:مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ؟ فرمایا: تو اللہ عزَّوَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے۔ پھر اس نے عرض کی :مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟ فرمایا :جس سے قیا مت کے بارے میں پوچھا گیا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ عرض کی : قیامت کی نشانیاں ہی بتا دیجئے۔ فرمایا:لونڈی اپنے مالک کو جنے گی اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں ،برہنہ جسم،مفلس اور بکریاں چَرانے والے بلند و بالا گھروں کی تعمیرات میں ایک دوسرے پر فخر کرتے ہونگے۔پھر وہ شخص چلاگیا، میں کچھ دیر رُکا رہا، پھرنبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے عمر !جانتے ہو وہ سائل کون تھا؟ میں نے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔فرمایا: وہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے ۔

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:’’بَیْنَمَا نَحْنُ جُلُوْسٌ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ إِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ شَدِیدُ بَیَاضِ الثِّیَابِ شَدِیدُ سَوَادِ الشَّعْرِ لَا یُرَی عَلَیْہِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا یَعْرِفُہُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّی جَلَسَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْنَدَ رُکْبَتَیْہِ إِلَی رُکْبَتَیْہِ، وَوَضَعَ کَفَّیْہِ عَلَی فَخِذَیْہِ وَقَالَ یَا مُحَمَّدُ! أَخْبِرْنِی عَنِ الْإِسْلَامِ ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اَلْاِسْلَامُ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ، وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ ،وَتُؤْتِیَ الزَّکَاۃَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَیْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَیْہِ سَبِیلًا۔ قَالَ صَدَقْتَ۔ فَعَجِبْنَا لَہُ یَسْأَلُہُ وَیُصَدِّقُہُ! قَالَ: فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِیْمَانِ،قَالَ:أَنْ تُؤْمِنَ بِاللہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِخَیْرِہِ وَشَرِّہِ۔ قَالَ:صَدَقْتَ۔قَالَ:فَأَخْبِرْنِیْ عَنِ الْاِحْسَانِ۔قَالَ:أَنْ تَعْبُدَاللہَ کَأَنَّکَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ یَرَاکَ۔ قَالَ:فَأَخْبِرْنِی عَنِ السَّاعَۃِ، قَالَ:مَاالْمَسْؤلُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ۔ قَالَ: فَأَخْبِرْنِی عَنْ أَمَارَا تِہَا۔ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَۃُ رَبَّتَہَا،وَأَنْ تَرَی الْحُفَاۃَ الْعُرَاۃَ الْعَالَۃَ رِعَائَ الشَّائِ یَتَطَاوَلُوْنَ فِی الْبُنْیَانِ۔ ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِیًّا، ثُمَّ قَالَ: یَا عُمَرُ! أَتَدْرِی مَنِ السَّائِلُ؟ قُلْتُ:اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ۔قَالَ: فَإِنَّہُ جِبْرِیلُ أَتَاکُمْ یُعَلِّمُکُمْ اَمْرَ دِینِکُمْ۔(مسلم، کتاب الایمان،باب بیان الایمان والاسلام والاحسان ووجوب الایمان …الخ ص۲۱، حدیث:۱)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 60 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ اورحضرتِ سَیِّدُنااَبُوعَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھُمَا سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’تم جہاں بھی ہو اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور برائی کے بعد نیکی کرلووہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ ‘‘

عَنْ أَبِی ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ، وَاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:’’ اتَّقِ اللہَ حَیْثُمَا کُنْتَ وَاتَّبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُہَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ‘‘۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معاشرۃ الناس،۳/۳۹۷حدیث:۱۹۹۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 61 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا فرماتے ہیں :میں ایک دن سواری پر شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اے لڑکے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں ، اللہ کے احکام کی پابندی کر، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا ، اللہ عزَّوَجَلَّ کے دین کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے سامنے پائے گا، جب مانگے تو اللہ سے مانگ، اور جب مدد طلب کرے تو اللہ ہی سے طلب کر! اور جان لے کہ سب لوگ مل کر بھی تجھے نفع نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو تیرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے اور سب کے سب مل کر بھی تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اسی قدر کہ جو اللہ نے تیرے لئے لکھ دیا ۔ قلم اُٹھا دئیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔ ترمذی کے علاوہ دیگر کتب میں ہے کہ : اللہ کے حقوق کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے قریب پائے گا، خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھ !وہ تنگدستی میں تجھ پر خاص توجہ فرمائے گا۔ اور جان لے کہ جو تکلیف تجھے نہ پہنچی اُسے تجھ تک پہنچنا ہی نہ تھا اور جس تکلیف میں تو مبتلا ہے وہ تجھ سے ٹَلنے والی نہ تھی، جان لے !مدد صبر کے ساتھ ہے اورکُشادگی رَنج وغم کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ‘‘

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا قَالَ:کُنْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَقَالَ: یَا غُلَامُ! إِنِّی أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ:اِحْفَظِ اللہَ یَحْفَظْکَ،اِحْفَظِ اللہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللہِ، وَاعْلَمْ! أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوْاِجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَنْفَعُوکَ بِشَیْئٍ،لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللہُ لَکَ، وَاِنْ اِجْتَمَعُواعَلَی أَنْ یَضُرُّوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللہُ عَلَیْکَ،رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ‘‘ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ قَالَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض،۴/ ۲۳۱،حدیث:۲۵۲۴)وَفِی رِوَایَۃِ غَیْرِ التِّرْمِذِی:’’إِحْفَظِ اللہَ تَجِدْہُ أَمَامَکَ، تَعَرَّفْ إِلَی اللہِ فِی الرِّخَائِ یَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَ کَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْکَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ‘‘(شعب الایمان ، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع الامراض والمصیبات، ۷/۲۰۳، حدیث:۱۰۰۰۱)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 62 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں :تم لوگ بعض ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی زیادہ باریک ہیں حالانکہ ہم نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دور میں انہیں مُُہْلِکَات (ہلاک کرنے والے اَعمال) میں شمار کرتے تھے۔

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: إِنَّکُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا ہِیَ أَدَقُّ فِی أَعْیُنِکُمْ مِنَ الشَّعْرِ،کُنَّا نَعُدُّہَا عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُوبِقَات۔(بخاری،کتاب الرقاق، باب ما یتقی من محقرات الذنوب،۴/۲۴۴حدیث:۶۴۹۲)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 63 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے کہ نبیِّ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ (اپنے شایانِ شان)غیرت فرماتاہے اور اللہ عزَّوَجَلَّ اس وقت غیرت فرماتا ہے جب بندہ وہ کام کرے جسے اللہ عزَّوَجَلَّ نے حرام فرمایا ہے۔‘‘

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’إِنَّ اللہَ تَعَالٰی یَغَارُ، وَغَیْرَۃُ اللہِ تَعَالٰی أَنْ یَأْتِیَ الْمَرْئُ مَا حَرَّمَ اللہُ عَلَیْہِ۔‘‘(بخاری،کتاب النکاح، باب الغیرۃ، ۳/۴۶۹، حدیث:۵۲۲۳)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 64 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے(1) برص کا مریض (2) گنجا اور(3) اندھا۔ان تینوں کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے آزمانا چاہا تو ان کی طرف ایک فرشۃ بھیجا، اس نے برص والے کے پاس آکر پو چھا:تجھے کونسی چیززیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: اچھا رنگ، خوبصورت جسم اور اس بیماری کا خاتمہ جس کی وجہ سے لوگ مجھے بُرا سمجھتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اسکی بیماری دور ہوگئی اور اسے اچھا رنگ عطا کیا گیا،فرشتے نے پوچھا:تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: اونٹ یا گائے (راوی کو شک ہے کہ اونٹ کہا تھا یا گائے ) چنانچہ، اسے دس حاملہ اونٹنیاں دے دی گئیں اور فرشتے نے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ تیرے لئے اس مال میں برکت دے۔
پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا :تجھے کونسی چیز زیادہ پسند ہے ؟کہا:اچھے بال اور اس بیماری سے خاتمہ جس کے سبب لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پرہا تھ پھیرا تووہ بیماری زائل ہوگئی اور اسے اچھے بال دے دئیے گئے۔ پوچھا: تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ کہا: گائے ،چنانچہ، اسے ایک حاملہ گائے دی گئی اورفرشتے نے کہا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ تیرے لئے اس مال میں برکت دے۔
پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا:تجھے کونسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا : اللہ عزَّوَجَلَّ میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیراتو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسکی بینائی لوٹادی ،پھرپوچھاکہ تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ کہا:بکریاں۔ چنانچہ ،اسے بچہ جننے والی بکری دی گئی ۔پھر اونٹنی اور گائے نے بچے جنے اور بکری نے بھی بچہ جنا ایک کیلئے اونٹوں سے وادی بھر گئی تو دوسرے کیلئے گائے سے اور تیسرے کیلئے بکریوں سے وادی بھر گئی۔ پھرفرشتہ برص والے کے پاس اسکی سابقہ صورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک محتاج آدمی ہوں میرے وسائل سفر ختم ہوچکے ہیں۔ اب میرے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدد اورپھر تیرے تعاون کے بغیر (گھر) پہنچنا مشکل ہے ۔ میں تجھ سے اُسی رَبّ کے وسیلے سے ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ، خوبصورت جسم اور مال عطا کیا ، تاکہ میں اپنی منزل پر پہنچ جاؤں ،یہ سن کر اس نے کہا :میرے اخراجات زیادہ ہیں (میں تجھے کچھ نہیں دے سکتا) فرشتے نے کہا :شاید میں تجھے پہچانتا ہوں کیا تو برص زَدہ نہ تھا ؟لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، تو فقیر تھا اللہ عزَّوَجَلَّ نے تجھے مال عطا کیا۔ اس نے کہا :یہ مال تو میرے آباء و اَجداد سے منتقل ہوتا ہوا میرے پاس پہنچا ہے ، فرشتے نے کہا :اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے پہلے کی طرح کردے۔
پھرفرشتہ اس گنجے کے پاس اس کی (سابقہ) شکل وصورت میں آیااس سے بھی وہی گفتگو کی جو برص والے سے کی تھی اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو برص والے نے دیا تھا، فرشتے نے کہا:اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو پہلے تھا۔
پھر وہ نابینا کے پاس اسی کی شکل و صورت میں آیا اور کہا: میں محتاج مسافر ہوں سفر کے وسائل ختم ہوگئے اب اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدداور پھر تیرے تعاون کے بغیر( گھر )پہنچنا مشکل ہے جس ذات نے تیری بینائی لوٹائی اس کے نام پر ایک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچ جاؤں۔نابینا نے کہا :واقعی میں اندھا تھا پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے مجھے بینائی عطافرمائی، تو( میرے مال سے) جتنا چاہے لے لے اور جوچاہے چھوڑ دے، اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! آج اللہ عزَّوَجَلَّ کے نام پر توجو لے گا میں تجھ کو مشقت میں نہ ڈالوں گا ۔ فرشتے نے کہا :اپنا مال اپنے پاس رکھ! تم تینوں کو آزمایا گیا پس اللہ عزَّوَجَلَّ تجھ سے راضی ہوااور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَ نَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:’’ إِنَّ ثَلا ثَۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، أَبْرَصَ، وَأَقْرَعَ، وَأَعْمَی،اَرَادَ اللہُ أَنْ یَبْتَلِیَہم فَبَعَثَ إِلَیْہم مَلَکًا،فَأَتَی الْأَبْرَصَ فَقَالَ:أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟قَالَ:لَوْنٌ حَسَنٌ،وَجِلْدٌ حَسَنٌ،وَیَذْھَبُ عَنِّی الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ،فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَذَرُہُ وَأُعْطِیَ لَوْنًا حَسَنًا۔ قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ:اَ لْاِبِلُ اَوْ قَالَ اَلْبَقَرُ،شَکَّ الرَّاوِی فَأُعْطِیَ نَاقَۃً عُشَرَائَ، فَقَالَ: بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیہَافَأَتَی الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ، وَیَذْہَبُ عَنِّی ہَذَا الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ، فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ وَأُعْطِیَ شَعَرًا حَسَنًا۔ قَالَ: فَأَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ اِلَیْکَ؟ قَالَ:اَلْبَقَرُ، فَأُعْطِیَ بَقَرَۃً حَامِلًا،وَقَالَ بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیہَا۔فَأَتَی الْأَعْمَی فَقَالَ: أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: اَنْ یَرُدَّ اللہُ إِلَیَّ بَصَرِی فَأُبْصِرَ النَّاسَ، فَمَسَحَہُ فَرَدَّ اللہُ إِلَیْہِ بَصَرَہُ۔ قَالَ:فَأَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ اَلْغَنَمُ فَأُعْطِیَ شَاۃً وَالِدًا۔ فَأَنْتَجَ ہَذَانِ وَوَلَّدَ ہَذَا، فَکَانَ لِہَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَلِہَذَا وَادٍ مِنْ الْبَقَرِ، وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ۔ ثُمَّ إِنَّہُ أَتَی الْأَبْرَصَ فِی صُوْرَتِہِ وَہَیْئَتِہِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْکِینٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی، فَلَا بَلَاغَ لِیَ الْیَوْمَ إِلَّا بِاللہِ ثُمَّ بِکَ،أَسْأَلُکَ بِالَّذِی أَعْطَاکَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ، وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ، وَالْمَالَ، بَعِیرًا أَتَبَلَّغُ بِہِ فِی سَفَرِی، فَقَالَ:اَلْحُقُوقُ کَثِیرَۃٌ۔فَقَالَ:کَأَنِّی أَعْرِفُکَ،أَلَمْ تَکُنْ أَبْرَصَ یَقْذُرُکَ النَّاسُ،فَقِیرًا فَأَعْطَاکَ اللہُ!؟فَقَالَ:اِنَّمَاوَرِثْتُ ھَذَا الْمَالَ کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ،فَقَالَ:إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ إِلَی مَاکُنْتَ وَأَتَی الْأَقْرَعَ فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَاقَالَ لِہَذَا،وَردَّعَلَیْہِ مِثْلَ مَارَدَّ ہَذَا، فَقَالَ:إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ إِلَی مَاکُنْتَ۔وَأَتَی الْأَعْمَی فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ،فَقَالَ:رَجُلٌ مِسْکِینٌ وَابْنُ سَبِیلٍ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی،فَلا بَلَاغَ لِیَ الْیَوْمَ إِلَّا بِاللہِ ثُمَّ بِکَ،أَسْأَلُکَ بِالَّذِی رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ شَاۃً أَتَبَلَّغُ بِہَا فِی سَفَرِی؟ فَقَالَ:قَدْ کُنْتُ أَعْمَی فَرَدَّ اللہُ اِلَیَّ بَصَرِی،فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ،فَوَاللہِ مَاأَجْہَدُکَ الْیَوْمَ بِشَیْئٍ أَخَذْتَہُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ۔فَقَالَ:أَمْسِکْ مَالَکَ فَإِنَّمَاابْتُلِیْتُمْ،فَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنْکَ،وَسَخِطَ عَلَی صَاحِبَیْکَ‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری،کتاب احا دیث الا نبیاء، باب حدیث ابرص واعمی… الخ، ۲/۴۶۳، حدیث:۳۴۶۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 65 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا اَبُوْ یَعْلٰی شَدَّاد بِنْ أَوْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے روایت ہے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جواپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کے باوجود اللہ عزَّوَجَلَّ سے آرزو اور تمنا کرے ۔

عَنْ اَبِیْ یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِیَ اللہ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ،وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ،وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا، وَتَمَنَّی عَلَی اللہ۔(ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض، ۴/۲۰۷ حدیث:۲۴۶۷)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 66 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : بے فائدہ باتوں کو چھوڑ دینا آدمی کے اسلام کی خوبیوں میں سے ہے ۔

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔(ترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس،۴/۱۴۲حدیث:۲۳۳۴)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 67 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ رسول اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کسی آدمی سے اپنی عورت کو مارنے کے متعلق سوال نہ ہو گا۔

عَنْ عُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:’’ لَا یُسْأَلُ الرَّجُلُ فِیْمَ ضَرَبَ اِمْرَأَتَہ۔‘‘(ابو داؤد ، کتاب النکاح ، باب فی ضرب النساء ، ۲/۳۵۷،حدیث:۲۱۴۷)

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 68 ، باب : مُرَاقَبَہ کا بیان