- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- حدیث نمبر 61
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِی ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ، وَاَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا، عَنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:’’ اتَّقِ اللہَ حَیْثُمَا کُنْتَ وَاتَّبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُہَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ‘‘۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِی۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معاشرۃ الناس،۳/۳۹۷حدیث:۱۹۹۴)
عن ابی ذر جندب بن جنادۃ، وابی عبد الرحمن معاذ بن جبل، رضی اللہ عنھما، عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، قال:’’ اتق اللہ حیثما کنت واتبع السیئۃ الحسنۃ تمحہا، وخالق الناس بخلق حسن‘‘۔ رواہ الترمذی۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی معاشرۃ الناس،۳/۳۹۷حدیث:۱۹۹۴)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ اورحضرتِ سَیِّدُنااَبُوعَبْدِ الرَّحْمٰنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھُمَا سے مروی ہے کہ نبیِّ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’تم جہاں بھی ہو اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور برائی کے بعد نیکی کرلووہ اسے مٹا دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ ‘‘
شرح حدیث
تین نصیحتیںحدیثِ مذکور میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین باتوں کاحکم فرمایا (1)جہاں بھی رہو اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو (2)گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے فوراًبعد نیکی کر لو (3)لوگوں سے حُسْنِ اَخلاق سے پیش آؤ۔ ان تینوں باتوں کی وضاحت ملاحظہ فرمائیے!خوف ِخداحضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں الفاظِ حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’ اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرنے ‘‘کا مطلب یہ ہے کہ تمام واجبات ادا کر ے اور تمام بُری چیزوں سے رُک جائے ۔ بے شک! تقویٰ دین کی بنیاد ہے اور اسی کے ذریعے یقین کے درجوں تک پہنچا جاتا ہے ۔ تقویٰ کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اس ذات پاک کے علاوہ ہر چیز سے توجہ ہٹا لی جائے ۔ پھر ان دونوں درجوں کے درمیان مزید کچھ مراتب ہیں اور بعض بعض سے اَولیٰ ہیں۔ مثلاً گناہ ترک کرنا ادنیٰ درجہ ، مکروہ کو ترک کرنا اس سے اعلیٰ اور مباح کو ترک کرنا اس سے بھی اعلی ہے ۔
(جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرو!) یعنی خَلْوَت (تنہائی) میں ہو یا جَلْوَت میں ، نعمتوں میں ہو یا مصیبتوں میں ، ہر جگہ ہر حال میں اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرو! کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ جس طرح تمہارے ظاہر کو جانتا ہے اسی طرح تمہارے باطن سے بھی با خبر ہے ۔ لہٰذا اللہ عزَّوَجَلَّ کا حکم و ادب بجا لانا ،اس کی رضا چاہنا ا ور اس کی ناراضی والے کاموں سے بچنا لازم ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا اِمام داؤد طائی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول ہے کہ میں نے ایک قبر سے یہ آواز سنی : کیا میں زکوۃ نہیں دیا کرتا تھا ؟ کیا میں نمازی نہ تھا ؟ کیا میں فلاں فلاں نیک عمل کا پابند نہ تھا ؟ اس سے کہا گیا: کیوں نہیں ! بے شک تو یہ سب کام کرتا تھا مگر تو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء الخ، ۸/۸۱۰ تحت الحدیث۵۰۸۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدگناہ کے بعد فورا ً نیکی کرلو!اِمَام شَرَفُ الدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّدبِنْ عَبْدُ اللہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حدیث پاک کے الفاظ کے تحت فرماتے ہیں :’’ گناہ اپنی ضد (اُلٹ) یعنی نیکی سے مٹتے ہیں۔ لہٰذا گانے باجے سننے کا کفارہ (توبہ کرنے کے بعد) تلاوت ِ قراٰن پاک سننا اور محافلِ ذِکر میں بیٹھنا ہے ، شراب پینے کا کفارہ( توبہ کے بعد ) حلال مشروب صَدَقہ کرنا ہے، کیونکہ ہر مرض کا علاج اس کی ضد کے ذریعے ہوتا ہے۔ کیونکہ متضاد چیزیں آپس میں مناسبت رکھتی ہیں ، لہٰذا برائی کو اس کی ہم جنس نیکی سے مٹایا جائے۔ جیسا کہ سفیدی کوسیاہی ختم کیاکرتی ہے۔اور دنیا کی محبت ،نیکی کی محبت کے اثر سے زائل ہوتی ہے۔ اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ مسلمان کو غم یا دکھ وغیرہ کے سبب جوبھی تکلیف پہنچے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ (شرح الطیبی، کتاب الاداب، باب الرفق والحیاء وحسن الخلق، ۹/۲۷۷، تحت الحدیث:۵۰۸۳)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : تقویٰ کے بہت درجے ہیں ، پہلا درجہ بدعقیدگی سے بچنا ہے۔ دوسرا درجہ بدعملی سے بچنا ہے۔ تیسرا درجہ مکروہ بلکہ مُشْتَبَہ (جس کا جائز، ناجائز ہونا یقینی نہ ہو)چیزوں سے بچنا ۔ چوتھا درجہ بیکار چیزوں سے بچنا ۔پانچواں درجہ جو بارے حجاب ہو اس سے بچنا۔ تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرو : مراد یہ ہے کہ علانیہ خفیہ ہر طرح ہر جگہ خدا سے ڈرنا۔ ’’لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ!‘‘ اس طرح کہ لوگوں کی تکالیف برداشت کرو، ان پر اپنا مال خرچ کرو ،ان سے خندہ پیشانی سے ملو ،ان کی مصیبتوں میں کام آؤ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۶/۶۴۴)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ گناہ ہوجانے کے بعد فوراً نیکی کرلو ،کیونکہ نیکی اس گناہ کو مٹا دیگی یعنی اگر تم سے کوئی گناہ ہو جائے تو اس کے بعد نیکی کرلو،کیونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمان ہےاِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ(پ۱۲، ھود:۱۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان :بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں
شانِ نزول : صَدرُ ا لا فاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِیتفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ایک شخص نے کسی عورت کو دیکھا اور اس سے کوئی خفیف سی حرکت بے حجابی کی سرزد ہوئی اس پر وہ نادِم ہوا اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، اس نے عرض کی: کیا صغیرہ گناہوں کے لئے نیکیوں کا کفارہ ہونا خاص میرے لئے ہے ؟فرمایا: نہیں سب کے لئے۔ (خزائن العرفا ن، پ ۱۲ ، ھود تحت الایۃ ۱۱۴)
اللہ عزَّوَجَلَّ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا یعنی توبہ کرنا بھی ایک نیکی ہے اور یہ افضل نیکی ہے جیسا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ کریم میں ارشاد فرمایا:-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۳۱)(پ ۱۸، النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان :اور اللہ کی طرف توبہ کرو، اے مسلمانو سب کے سب، اس امید پر کہ تم سب فلاح پاؤ
اسی طرح دیگر نیک اعمال بھی گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں تو جب بھی بتقضائے بشریت ہم سے گناہ ہو جائے تو اس کے فوراًبعد توبہ اور دیگر نیک کام کر لینے چاہئیں۔حُسْنِ اَخلاق سے پیش آؤحدیث مذکور میں تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ ’’لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ‘‘ پہلی دونوں باتیں خالقِ حقیقی عزَّوَجَلَّ سے متعلق تھیں جبکہ تیسری بات مخلوق سے متعلق ہے ، یعنی جب بھی لوگوں سے مِلو تو خندہ پیشانی سے ملو ، اچھے انداز میں ان سے ہم کلام ہو ،ہم یشہ سچ بولو جھوٹ سے بچو ، یہ ہیں اچھے اخلاق ۔ اچھے اخلاق کی فضیلت کے بارے میں کثیر احادیث مروی ہیں۔
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:’’اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًا اَحْسَنُھُمْ خُلُقًًا‘‘
ترجمہ: مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل مسلمان وہ ہے جو اچھے اخلاق والا ہے۔( ابو داؤد ، کتاب السنۃ، باب الدلیل علی زیادۃ الایمان، ۴/۲۹۰حدیث:۴۶۸۲)بروزِ قیامت قُربِ مصطفیٰحضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں کہ سیدعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بروزِ محشر تم میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میری مجلس میں زیادہ قریب وہ ہوں گے جو تم میں اچھے اَخلاق والے ،نرمی کرنے والے ہوں ، وہ لوگوں سے اورلوگ ان سے محبت کرتے ہوں۔ ‘‘(المعجم الاوسط، ۵/۳۸۶، حدیث:۷۶۹۷)مدنی گلدستہ
’’غوث اعظم ‘‘کے7 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7 مد نی پھول(1) خَلْوَت (تنہائی) ہو یا جَلْوَت ہر جگہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔
(2) شیطان کے بہکاوے میں آکر انسان سے اگر کوئی گناہ ہو جائے تو اسے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی نیکی بھی کر لینی چاہیے کہ وہ نیکی گناہ کو مٹادے گی۔
(3) تقویٰ کے بہت سے مَرَاتِب (درجے) ہیں بعض بعض سے اعلیٰ ہیں۔
(4) نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے منع کرنا سنت مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے۔
(5) ہم جہاں کہیں بھی ہوں ہر وقت یہ تصور ہونا چاہیے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
(6) لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہیے ۔ اچھے اخلاق والے بروز قیامت حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سب سے قریب ہونگے۔
(7) مسلمانوں کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اس کے بدلے اسے اجر دیا جاتا ہے ۔
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہ
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد٭٭٭٭٭٭٭٭∞
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 61