- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- حدیث نمبر 65
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَ نَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:’’ إِنَّ ثَلا ثَۃً مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ، أَبْرَصَ، وَأَقْرَعَ، وَأَعْمَی،اَرَادَ اللہُ أَنْ یَبْتَلِیَہم فَبَعَثَ إِلَیْہم مَلَکًا،فَأَتَی الْأَبْرَصَ فَقَالَ:أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟قَالَ:لَوْنٌ حَسَنٌ،وَجِلْدٌ حَسَنٌ،وَیَذْھَبُ عَنِّی الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ،فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ قَذَرُہُ وَأُعْطِیَ لَوْنًا حَسَنًا۔ قَالَ فَأَیُّ الْمَالِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ:اَ لْاِبِلُ اَوْ قَالَ اَلْبَقَرُ،شَکَّ الرَّاوِی فَأُعْطِیَ نَاقَۃً عُشَرَائَ، فَقَالَ: بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیہَافَأَتَی الْأَقْرَعَ فَقَالَ: أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ شَعَرٌ حَسَنٌ، وَیَذْہَبُ عَنِّی ہَذَا الَّذِی قَدْ قَذِرَنِی النَّاسُ، فَمَسَحَہُ فَذَہَبَ عَنْہُ وَأُعْطِیَ شَعَرًا حَسَنًا۔ قَالَ: فَأَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ اِلَیْکَ؟ قَالَ:اَلْبَقَرُ، فَأُعْطِیَ بَقَرَۃً حَامِلًا،وَقَالَ بَارَکَ اللہُ لَکَ فِیہَا۔فَأَتَی الْأَعْمَی فَقَالَ: أَیُّ شَیْئٍ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ: اَنْ یَرُدَّ اللہُ إِلَیَّ بَصَرِی فَأُبْصِرَ النَّاسَ، فَمَسَحَہُ فَرَدَّ اللہُ إِلَیْہِ بَصَرَہُ۔ قَالَ:فَأَیُّ الْمَالِ اَحَبُّ إِلَیْکَ؟ قَالَ اَلْغَنَمُ فَأُعْطِیَ شَاۃً وَالِدًا۔ فَأَنْتَجَ ہَذَانِ وَوَلَّدَ ہَذَا، فَکَانَ لِہَذَا وَادٍ مِنَ الْإِبِلِ، وَلِہَذَا وَادٍ مِنْ الْبَقَرِ، وَلِہَذَا وَادٍ مِنَ الْغَنَمِ۔ ثُمَّ إِنَّہُ أَتَی الْأَبْرَصَ فِی صُوْرَتِہِ وَہَیْئَتِہِ، فَقَالَ: رَجُلٌ مِسْکِینٌ قَدِ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی، فَلَا بَلَاغَ لِیَ الْیَوْمَ إِلَّا بِاللہِ ثُمَّ بِکَ،أَسْأَلُکَ بِالَّذِی أَعْطَاکَ اللَّوْنَ الْحَسَنَ، وَالْجِلْدَ الْحَسَنَ، وَالْمَالَ، بَعِیرًا أَتَبَلَّغُ بِہِ فِی سَفَرِی، فَقَالَ:اَلْحُقُوقُ کَثِیرَۃٌ۔فَقَالَ:کَأَنِّی أَعْرِفُکَ،أَلَمْ تَکُنْ أَبْرَصَ یَقْذُرُکَ النَّاسُ،فَقِیرًا فَأَعْطَاکَ اللہُ!؟فَقَالَ:اِنَّمَاوَرِثْتُ ھَذَا الْمَالَ کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ،فَقَالَ:إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ إِلَی مَاکُنْتَ وَأَتَی الْأَقْرَعَ فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ مَاقَالَ لِہَذَا،وَردَّعَلَیْہِ مِثْلَ مَارَدَّ ہَذَا، فَقَالَ:إِنْ کُنْتَ کَاذِبًا فَصَیَّرَکَ اللہُ إِلَی مَاکُنْتَ۔وَأَتَی الْأَعْمَی فِی صُورَتِہِ وَہَیْئَتِہِ،فَقَالَ:رَجُلٌ مِسْکِینٌ وَابْنُ سَبِیلٍ انْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ فِی سَفَرِی،فَلا بَلَاغَ لِیَ الْیَوْمَ إِلَّا بِاللہِ ثُمَّ بِکَ،أَسْأَلُکَ بِالَّذِی رَدَّ عَلَیْکَ بَصَرَکَ شَاۃً أَتَبَلَّغُ بِہَا فِی سَفَرِی؟ فَقَالَ:قَدْ کُنْتُ أَعْمَی فَرَدَّ اللہُ اِلَیَّ بَصَرِی،فَخُذْ مَا شِئْتَ وَدَعْ مَا شِئْتَ،فَوَاللہِ مَاأَجْہَدُکَ الْیَوْمَ بِشَیْئٍ أَخَذْتَہُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ۔فَقَالَ:أَمْسِکْ مَالَکَ فَإِنَّمَاابْتُلِیْتُمْ،فَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنْکَ،وَسَخِطَ عَلَی صَاحِبَیْکَ‘‘مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری،کتاب احا دیث الا نبیاء، باب حدیث ابرص واعمی… الخ، ۲/۴۶۳، حدیث:۳۴۶۴)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ ا نہ سمع النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول:’’ إن ثلا ثۃ من بنی إسرائیل، ابرص، واقرع، واعمی،اراد اللہ ان یبتلیہم فبعث إلیہم ملکا،فاتی الابرص فقال:ای شیئ احب إلیک؟قال:لون حسن،وجلد حسن،ویذھب عنی الذی قد قذرنی الناس،فمسحہ فذہب عنہ قذرہ واعطی لونا حسنا۔ قال فای المال احب إلیک؟ قال:ا لابل او قال البقر،شک الراوی فاعطی ناقۃ عشرائ، فقال: بارک اللہ لک فیہافاتی الاقرع فقال: ای شیئ احب إلیک؟ قال شعر حسن، ویذہب عنی ہذا الذی قد قذرنی الناس، فمسحہ فذہب عنہ واعطی شعرا حسنا۔ قال: فای المال احب الیک؟ قال:البقر، فاعطی بقرۃ حاملا،وقال بارک اللہ لک فیہا۔فاتی الاعمی فقال: ای شیئ احب إلیک؟ قال: ان یرد اللہ إلی بصری فابصر الناس، فمسحہ فرد اللہ إلیہ بصرہ۔ قال:فای المال احب إلیک؟ قال الغنم فاعطی شاۃ والدا۔ فانتج ہذان وولد ہذا، فکان لہذا واد من الإبل، ولہذا واد من البقر، ولہذا واد من الغنم۔ ثم إنہ اتی الابرص فی صورتہ وہیئتہ، فقال: رجل مسکین قد انقطعت بی الحبال فی سفری، فلا بلاغ لی الیوم إلا باللہ ثم بک،اسالک بالذی اعطاک اللون الحسن، والجلد الحسن، والمال، بعیرا اتبلغ بہ فی سفری، فقال:الحقوق کثیرۃ۔فقال:کانی اعرفک،الم تکن ابرص یقذرک الناس،فقیرا فاعطاک اللہ!؟فقال:انماورثت ھذا المال کابرا عن کابر،فقال:إن کنت کاذبا فصیرک اللہ إلی ماکنت واتی الاقرع فی صورتہ وہیئتہ فقال لہ مثل ماقال لہذا،وردعلیہ مثل مارد ہذا، فقال:إن کنت کاذبا فصیرک اللہ إلی ماکنت۔واتی الاعمی فی صورتہ وہیئتہ،فقال:رجل مسکین وابن سبیل انقطعت بی الحبال فی سفری،فلا بلاغ لی الیوم إلا باللہ ثم بک،اسالک بالذی رد علیک بصرک شاۃ اتبلغ بہا فی سفری؟ فقال:قد کنت اعمی فرد اللہ الی بصری،فخذ ما شئت ودع ما شئت،فواللہ مااجہدک الیوم بشیئ اخذتہ للہ عزوجل ۔فقال:امسک مالک فإنماابتلیتم،فقد رضی اللہ عنک،وسخط علی صاحبیک‘‘متفق علیہ (بخاری،کتاب احا دیث الا نبیاء، باب حدیث ابرص واعمی… الخ، ۲/۴۶۳، حدیث:۳۴۶۴)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے مروی ہے انہوں نے نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے(1) برص کا مریض (2) گنجا اور(3) اندھا۔ان تینوں کو اللہ عزَّوَجَلَّ نے آزمانا چاہا تو ان کی طرف ایک فرشۃ بھیجا، اس نے برص والے کے پاس آکر پو چھا:تجھے کونسی چیززیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: اچھا رنگ، خوبصورت جسم اور اس بیماری کا خاتمہ جس کی وجہ سے لوگ مجھے بُرا سمجھتے ہیں۔ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اسکی بیماری دور ہوگئی اور اسے اچھا رنگ عطا کیا گیا،فرشتے نے پوچھا:تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اُس نے کہا: اونٹ یا گائے (راوی کو شک ہے کہ اونٹ کہا تھا یا گائے ) چنانچہ، اسے دس حاملہ اونٹنیاں دے دی گئیں اور فرشتے نے کہا: اللہ عزَّوَجَلَّ تیرے لئے اس مال میں برکت دے۔
پھر فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور پوچھا :تجھے کونسی چیز زیادہ پسند ہے ؟کہا:اچھے بال اور اس بیماری سے خاتمہ جس کے سبب لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ فرشتے نے اس پرہا تھ پھیرا تووہ بیماری زائل ہوگئی اور اسے اچھے بال دے دئیے گئے۔ پوچھا: تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ کہا: گائے ،چنانچہ، اسے ایک حاملہ گائے دی گئی اورفرشتے نے کہا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ تیرے لئے اس مال میں برکت دے۔
پھر فرشتہ اندھے کے پاس آیا اور کہا:تجھے کونسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے کہا : اللہ عزَّوَجَلَّ میری بینائی لوٹا دے تاکہ میں لوگوں کو دیکھ سکوں۔فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیراتو اللہ عزَّوَجَلَّ نے اسکی بینائی لوٹادی ،پھرپوچھاکہ تجھے کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ کہا:بکریاں۔ چنانچہ ،اسے بچہ جننے والی بکری دی گئی ۔پھر اونٹنی اور گائے نے بچے جنے اور بکری نے بھی بچہ جنا ایک کیلئے اونٹوں سے وادی بھر گئی تو دوسرے کیلئے گائے سے اور تیسرے کیلئے بکریوں سے وادی بھر گئی۔ پھرفرشتہ برص والے کے پاس اسکی سابقہ صورت میں آیا اور کہا کہ میں ایک محتاج آدمی ہوں میرے وسائل سفر ختم ہوچکے ہیں۔ اب میرے لئے اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدد اورپھر تیرے تعاون کے بغیر (گھر) پہنچنا مشکل ہے ۔ میں تجھ سے اُسی رَبّ کے وسیلے سے ایک اونٹ مانگتا ہوں جس نے تجھے اچھا رنگ، خوبصورت جسم اور مال عطا کیا ، تاکہ میں اپنی منزل پر پہنچ جاؤں ،یہ سن کر اس نے کہا :میرے اخراجات زیادہ ہیں (میں تجھے کچھ نہیں دے سکتا) فرشتے نے کہا :شاید میں تجھے پہچانتا ہوں کیا تو برص زَدہ نہ تھا ؟لوگ تجھ سے نفرت کرتے تھے، تو فقیر تھا اللہ عزَّوَجَلَّ نے تجھے مال عطا کیا۔ اس نے کہا :یہ مال تو میرے آباء و اَجداد سے منتقل ہوتا ہوا میرے پاس پہنچا ہے ، فرشتے نے کہا :اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے پہلے کی طرح کردے۔
پھرفرشتہ اس گنجے کے پاس اس کی (سابقہ) شکل وصورت میں آیااس سے بھی وہی گفتگو کی جو برص والے سے کی تھی اور اس نے بھی وہی جواب دیا جو برص والے نے دیا تھا، فرشتے نے کہا:اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے ویسا ہی کردے جیسا تو پہلے تھا۔
پھر وہ نابینا کے پاس اسی کی شکل و صورت میں آیا اور کہا: میں محتاج مسافر ہوں سفر کے وسائل ختم ہوگئے اب اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدداور پھر تیرے تعاون کے بغیر( گھر )پہنچنا مشکل ہے جس ذات نے تیری بینائی لوٹائی اس کے نام پر ایک بکری کا سوال کرتا ہوں تاکہ اس کے ذریعے اپنی منزل پر پہنچ جاؤں۔نابینا نے کہا :واقعی میں اندھا تھا پھر اللہ عزَّوَجَلَّ نے مجھے بینائی عطافرمائی، تو( میرے مال سے) جتنا چاہے لے لے اور جوچاہے چھوڑ دے، اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! آج اللہ عزَّوَجَلَّ کے نام پر توجو لے گا میں تجھ کو مشقت میں نہ ڈالوں گا ۔ فرشتے نے کہا :اپنا مال اپنے پاس رکھ! تم تینوں کو آزمایا گیا پس اللہ عزَّوَجَلَّ تجھ سے راضی ہوااور تیرے دونوں ساتھیوں سے ناراض ہوا ۔
شرح حدیث
علاّمہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی اسی حدیث کے تحت الفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’اَلنّاقَۃُ العُشَرَآئکا معنی ہے، حاملہ اونٹنی۔ اَنْتَجَجبکہ ایک روایت میں ’’نَتَجَ‘‘ ہے، اس کا معنی ہے’’ اس نے بچہ جنا‘‘ اونٹنی کے لئے لفظ ِ’’نَاتِج‘‘ ایسے ہی ہے جیسے عورت کے لئے لفظ قابِلہ( یعنی دایہ ) ۔ ’’وَلَّدَ ھذا‘‘اس کا معنی ’’ وہ جانور کے بچے کا مالک بنا ‘‘اور یہ ’’اَنْتَجَ فِی الناقۃ‘‘ کا ہم معنی ہے ۔ ’’مُوَلِّدٌ، نَاتِج اورقَابَلَۃ‘‘ یہ تینوں ہم معنی ہیں لیکن یہ( ناتِج) حیوان کے لئے ہے اور’’قابلۃ‘‘ غیر حیوان کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ’’اِنْقَطَعَتْ بِیَ الْحِبَالُ‘‘ یعنی میرے اسباب منقطع ہو گئے ۔’’لَا اَجْھَدُکَ‘‘ اس کا معنی یہ ہے کہ تو جو بھی مال مجھ سے لے گا یا طلب کرے گا اس کی واپسی کی تکلیف تجھے نہ دونگا۔ جبکہ بخاری شریف کی روایت میں ’’لا اَحْمَدُکَ‘‘ہے جس کا معنی یہ ہے کہ جس مال کی تجھے ضرورت ہے اس کے چھوڑنے پر تیری تعریف نہیں کروں گا۔ جیسا کہ کہا جاتاہے : لَیْسَ عَلٰی طُوْلِالْحَیَاۃِ نَدَمٌ ۔یعنی لمبی زندگی کے ختم ہونے پر کوئی پشیمانی نہیں۔
عَلَّامَہحَافِظاِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فَتْحُ البارِی میں فرماتے ہیں : حدیث ِمذکورمیں کفرانِ نعمت (نا شکری کرنے) سے ڈرایا گیا ہے اور نعمت پر شکر کرنے کی ترغیب دی گئی ہے ، اور یہ کہ بندہ اس بات کا اعتراف کرے کہ یہ نعمت اللہ عزَّوَجَلَّ ہی نے دی ہے اور اس نعمت پر اللہ عزَّوَجَلَّ کی حمد و ثنا کرے۔ اس حدیث میں صَدَقہ کرنے کی فضیلت بیان ہوئی اور غریب و مسکین لوگوں کے ساتھ نرمی کرنے ، ان کا اِکرام کرنے اور ان کی حاجت و ضرورت پوری کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور بُخل سے منع کیا گیا ہے کیونکہ بخل انسان کو جھوٹ اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی نعمتوں کی ناشکری پر اُکساتا ہے ۔ (فتح الباری، کتاب احادیث الانبیائ، باب حدیث ابرص واعمی الخ، ۷/۴۱۹ تحت الحدیث:۳۴۶۴)عقل مند نابیناعلامہ بَدْرُالدِّیْنعَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَنِی عمدۃُ القاری میں فرماتے ہیں :امام کِرْمَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے فرمایا :’’ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نابینا کی عقل باقی دونوں کے مقابلہ میں زیادہ درست تھی کیونکہ کوڑھ کا مرض اسی وقت ہوتا ہے جب طبیعت و مزاج میں فساد واقع ہو اور یہی معاملہ گنج پن کا بھی ہے جبکہ نابینائی کے لئے طبیعت و مزاج کا فساد ضروری نہیں یہ مرض کسی امر خارج کی وجہ سے بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔ (عمدۃ القاری،کتاب احادیث الانبیاء ، باب حدیث ابرص واعمی… الخ، ۱۱/۲۱۶ تحت الحدیث:۳۴۶۴)
فرشتے نے جو کہاکہ ’’میں ایک مسکین و مسافر ہوں میرے تمام اسباب ضائع ہو گئے ہیں ‘‘
اس کے تحت مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت حضرتِ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں ’’علمی لحاظ سے یہ جملہ خبریہ نہیں کہ اسے جھوٹ کہا جائے بلکہ تَخْیِیْل ہے، یہ تَخْیِیْل امتحانات اور سوالات میں کام آتی ہے جیسے مسئلہ پوچھا جاتا ہے کہ زید نے اپنے بیوی کو طلاق دی حالانکہ شہر میں نہ کوئی زید ہوتا ہے نہ اس کی بیوی فقط صورتِ مسئلہ پیش کی جاتی ہے، قراٰنِ کریم فرمارہا ہے کہ داؤد عَلَیْہِ السَّلام کے پاس دو فرشتے شکلِ انسانی میں آئے اُن میں سے ایک بولا،{ إِنَّ ہٰذَا أَخِی لَہُ تِسْعٌ وَتِسْعُوْنَ نَعْجَۃً } ’’یعنی میرے اس بھائی کے پاس ننانوے بکریاں ہیں اور میرے پاس ایک‘‘ حالانکہ وہاں نہ بکریاں تھیں اور نہ ہی کوئی جھگڑا، لہٰذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے نے جھوٹ کیوں کہا۔‘‘ (مراٰۃ المناجیح، ۳/۸۳)
حضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں:’’ان تینوں کا یہ امتحان دنیا والوں کے سامنے انکے احوال ظاہر کرنے اورلوگوں کوان کے حالات بتانے کے لئے تھا (تاکہ لوگ ان کے اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں )۔ (مرقاۃ المفاتیح ،کتاب الزکاۃ،باب الانفاق وکراہیۃ الامساک۴/۳۸۰ تحت الحدیث:۱۸۷۸)
بِ اللہ ثُمَّ بِکَ(یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدد اورپھر تیری مدد)اس عبارت میں انتہائی ادب کا پہلو ہے کہ فرشتے نے پہلے اللہ عزَّوَجَلَّ سے مدد کا ذکر کیا پھر حرفِ عطف ’’و‘‘ کے بجائے لفظِ ’’ثُمّ‘‘ استعمال کیا۔ ثُمّ کے بعد جس شے کو ذکر کیا جائے اس کا مقام اپنے پہلے والے سے کم ہوتا ہے۔
اَلْحُقُوْقُ کَثِیْرَۃٌیعنی اہل وعیال اورنوکرچاکر بہت رکھتا ہوں جن کے باعث اخراجات زیادہ ہیں انہیں کا پورا نہیں ہوتا تمہیں اونٹ کہاں سے دوں ؟ وہ برص والا جھوٹ بول رہا تھااور (اپنے زُعمِ فاسد میں ) فرشتے کو ٹالنے کی کوشش کررہاتھا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الزکاۃ، باب الانفاق وکراہیۃ الامساک، ۴/۳۸۳، تحت الحد یث:۱۸۷۸)
تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہمدنی گلدستہ
’’رَمَضان المبارک‘‘ کے 12 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور اور اسکی وضاحت سے ملنے والے12مدنی پھول(1)مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : اللہ عزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے اللہ عزَّوَجَلَّ کی عطاسے دافع البلاء ہوتے ہیں۔ دیکھو گنج کوڑھ، اندھا پن سخت بلائیں ہیں جو فرشتے کے ہاتھ لگتے ہی جاتی رہیں ، یوسف عَلَیْہِ السَّلام کی قمیص یعقوب عَلَیْہِ السَّلام کی سفید آنکھ پر لگی تو آنکھ روشن ہوگئی(سورہ ٔ یوسف ) قرانِ حکیم میں حضرتِ سَیِّدُناعیسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے اعلانِ عام فرمایا تھا:وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-(پ:۳، الِ عمران:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان :اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو،اور میں مردے جِلاتا ہوں اللہ کے حکم سے
درود تاج میں جو آتا ہے ’’دافع البلاء والوبائ…الخ ‘‘ اس کاماخذ قراٰن کریم کی یہ آیات اور احادیث ہیں۔ جب اَطِبَّاء کی گولیاں اور جنگل کی جڑی بوٹیاں دافعِ قبض اور دافعِ جِریان ہوسکتی ہیں ، ایک شربت کا نام’’ شربتِ فریاد رَس‘‘ ہو سکتا ہے تو کیا اللہ عزَّوَجَلَّ کے محبوبوں کا درجہ ان چیزوں سے بھی کم ہے؟(مراٰۃ المناجیح ، ۳/۸۳)
حاکم ،حکیم داد و دوا دیں یہ کچھ نہ دیں
مَردُود یہ مراد کس آیت خبر کی ہے
(2) ربّ تعالیٰ کے ساتھ بندوں سے بھی امداد لینا جائز ہے اور بندے کا ذکر اللہ عزَّوَجَلَّ کے ذکر کے ساتھ ملا کر کر سکتے ہیں رب تعالیٰ فرماتا ہےاَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖۚ-(پ۱۰، التوبہ:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ و رسول نے انہیں اپنے فضل سے غنی کردیا۔
فرشتے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔اگرغَیرُ اللہ سے مدد مانگنا ناجائز ہوتا تو فرشتہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے علاوہ سوا کسی اور سے ہرگز مدد نہ مانگتا ۔ لیکن اس نے کہا :بِ اللہ ثُمَّ بِک‘‘(یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ کی مدد پھر تیری مدد) ۔ یہ حدیث پاک حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اپنے صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَان کو ارشاد فرمائی اگر اس میں کوئی بات شریعت کے خلاف ہوتی تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ا س سے ضرور منع فرماتے ۔معلوم ہوا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کو ہرشے کامالکِ حقیقی مانتے ہوئے اس کے نیک بندوں سے مدد مانگنا بالکل جائز ہے اس میں کسی قسم کی کوئی قباحت نہیں۔
(3 )ہر شخص کو اپنی اصلی فقیری اور گزشتہ مصیبتیں یادرکھنی چاہئیں کہ یہ شکر کا ذریعہ ہیں۔
(4) بد نصیب ہے وہ شخص جو عیش وطَیش (غصے ) میں اپنے رب کو بھول جائے اور جب کوئی یاد دِلائے تواپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے جھوٹ سے کام لے۔
(5) فقیروں کے بھیس میں کبھی کبھی مقبول بندے بھی آجاتے ہیں لہٰذا فقیروں کوجھِڑکنا نہیں چاہیے۔
( 6) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو بندہ واقعی حاجت مند ہو اس کے سامنے اپنا سارا مال رکھ دینا کہ جتنی اسے حاجت ہو لے لے یہ اعلیٰ ترین سخاوت ہے۔
(7) فرشتے ہر شکل میں آسکتے ہیں۔
(8) بخل انسان کو ناشکری اور جھوٹ پر اُبھارتا ہے ۔بخیل دنیا وآخرت میں نقصان اُٹھا تا ہے ۔
(9) سخاوت و غریب پَروَرِی سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا نصیب ہوتی ہے ۔
(10) بندے کو چاہیے کہ حسب ِموقع اپنا مُحاسَبہکرتا رہے کہ اس سے اصلاح کی توفیق ملتی رہتی ہے ۔
(11) شکر وسخاوت سے نعمتیں بڑھ جاتی ہیں جو نعمتوں کو محفوظ کرنا چاہے اسے اپنے رب عزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے۔
(12)انسان کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ میری تمام نعمتیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہیں وہ جب چاہے ان نعمتوں کو لے سکتا ہے۔ ہر حال میں اپنے رب کا شکر کرنے والا کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللہ عزَّوَجَلَّ ہمیں ہر آن اپنا شکر گزار رکھے ہمیں زوالِ نعمت سے بچائے اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 65