- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 1
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- حدیث نمبر 62
حدیث مبارکہ
عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ا قَالَ:کُنْتُ خَلْفَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمًا فَقَالَ: یَا غُلَامُ! إِنِّی أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ:اِحْفَظِ اللہَ یَحْفَظْکَ،اِحْفَظِ اللہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللہَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللہِ، وَاعْلَمْ! أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوْاِجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ یَنْفَعُوکَ بِشَیْئٍ،لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللہُ لَکَ، وَاِنْ اِجْتَمَعُواعَلَی أَنْ یَضُرُّوْکَ بِشَیْئٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَیْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللہُ عَلَیْکَ،رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ‘‘ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ قَالَ حَدِیثٌ حَسَنٌ صَحِیحٌ (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض،۴/ ۲۳۱،حدیث:۲۵۲۴)وَفِی رِوَایَۃِ غَیْرِ التِّرْمِذِی:’’إِحْفَظِ اللہَ تَجِدْہُ أَمَامَکَ، تَعَرَّفْ إِلَی اللہِ فِی الرِّخَائِ یَعْرِفْکَ فِی الشِّدَّۃِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَ کَ لَمْ یَکُنْ لِیُصِیْبَکَ وَمَا أَصَابَکَ لَمْ یَکُنْ لِیُخْطِئَکَ، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْکَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا ‘‘(شعب الایمان ، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع الامراض والمصیبات، ۷/۲۰۳، حدیث:۱۰۰۰۱)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہم ا قال:کنت خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوما فقال: یا غلام! إنی اعلمک کلمات:احفظ اللہ یحفظک،احفظ اللہ تجدہ تجاہک، إذا سالت فاسال اللہ، وإذا استعنت فاستعن باللہ، واعلم! ان الامۃ لواجتمعت علی ان ینفعوک بشیئ،لم ینفعوک إلا بشیئ قد کتبہ اللہ لک، وان اجتمعواعلی ان یضروک بشیئ لم یضروک إلا بشیئ قد کتبہ اللہ علیک،رفعت الاقلام وجفت الصحف‘‘ رواہ الترمذی قال حدیث حسن صحیح (ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب ماجاء فی صفۃ اوانی الحوض،۴/ ۲۳۱،حدیث:۲۵۲۴)وفی روایۃ غیر الترمذی:’’إحفظ اللہ تجدہ امامک، تعرف إلی اللہ فی الرخائ یعرفک فی الشدۃ، واعلم ان ما اخطا ک لم یکن لیصیبک وما اصابک لم یکن لیخطئک، واعلم ان النصر مع الصبر وان الفرج مع الکرب وان مع العسر یسرا ‘‘(شعب الایمان ، فصل فی ذکر ما فی الاوجاع الامراض والمصیبات، ۷/۲۰۳، حدیث:۱۰۰۰۱)
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُناعَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا فرماتے ہیں :میں ایک دن سواری پر شہنشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے سوار تھا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : اے لڑکے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں ، اللہ کے احکام کی پابندی کر، اللہ تیری حفاظت فرمائے گا ، اللہ عزَّوَجَلَّ کے دین کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے سامنے پائے گا، جب مانگے تو اللہ سے مانگ، اور جب مدد طلب کرے تو اللہ ہی سے طلب کر! اور جان لے کہ سب لوگ مل کر بھی تجھے نفع نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو تیرے مقدر میں لکھ دیا گیا ہے اور سب کے سب مل کر بھی تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر اسی قدر کہ جو اللہ نے تیرے لئے لکھ دیا ۔ قلم اُٹھا دئیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے۔ ترمذی کے علاوہ دیگر کتب میں ہے کہ : اللہ کے حقوق کی حفاظت کر! تو اُسے اپنے قریب پائے گا، خوشحالی میں اللہ کو یاد رکھ !وہ تنگدستی میں تجھ پر خاص توجہ فرمائے گا۔ اور جان لے کہ جو تکلیف تجھے نہ پہنچی اُسے تجھ تک پہنچنا ہی نہ تھا اور جس تکلیف میں تو مبتلا ہے وہ تجھ سے ٹَلنے والی نہ تھی، جان لے !مدد صبر کے ساتھ ہے اورکُشادگی رَنج وغم کے ساتھ ہے اور تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
حِبْرُ الْاُمَّہ مُفَسِّرِ قراٰن سَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہماحضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی مرقاۃ شرحِ مِشْکاۃ میں فرماتے ہیں : یہ حدیث ان روایتوں میں سے ہے جسیعَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا نے سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے براہِ راست سنا ہے ورنہ حضرتعَبْدُ اللہ بِنْ عَبَّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہم ا سے مروی اکثر روایات بِالواسطہ ہیں لیکن سب معتبر ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے، حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصال کے وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کی عمر شریف تیرہ ، پندرہ ، یا دس برس تھی لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ اس امت کے بہت بڑے عالم بنے ، کیونکہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے لئے علم و حکمت اور فقہ کی دعا فرمائی تھی، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ نے دو مرتبہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلام کا دیدار کیا اور آخری عمر میں آپ نابینا ہوگئے تھے ،ابن زبیر کے دور میں ھ ۶۸میں طائف میں وفات پائی، اس وقت آپ کی عمر ۷۱ سال تھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ سے کثیر صحابہ اور تابعینرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْن نے روایات بیان کی ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق الفصل الثانی، ۹/۱۶۱تحت الحدیث:۵۳۰۲)جواللہ عَزَّوَجَلکا ہو جاتا ہےاللہ عَزَّوَجَلاس کا ہو جاتا ہےحضرتِ سَیِّدُنامُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی الفاظ حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’اِحْفَظِ اللہ ‘‘( اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم کی حفاظت کر) یعنی جس چیز کا اس نے حکم دیا ہے اس کو بجالااور جس سے منع کیا ہے اس سے باز آجا۔
’’یَحْفَظْکَ‘‘(وہ تیری حفاظت فرمائے گا) یعنی اللہ عزَّوَجَلَّ دنیا میں مصیبتوں اور پریشانیوں سے اور آخرت میں اُن عذابات سے تیری حفاظت فرمائے گا جو تیرے اعمال کا بدلہ ہونگے، جو شخص اللہ عزَّوَجَلَّ کا ہوجائے اللہ عزَّوَجَلَّ اسکا ہوجاتا ہے۔
’’اِحْفَظِ اللہ ‘‘( تو اللہ عزَّوَجَلَّ کا حق ادا کر) اس کا حق یہ ہے کہ ہم یشہ اس کے ذکر و فکر اور شکر میں مشغول رہ اگر ایسا کرے گا تو اس کو اپنے قریب پائے گا یعنی تو اس وقت اس کو اس طرح پائے گا گویا کہ وہ تیرے سامنے ہے۔
’’َإِذَااِسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِ اللہ ‘‘ یعنی جب تو دنیا اور آخرت کے معاملات میں مدد مانگنا چاہے تو اللہ عزَّوَجَلَّ ہی سے مانگ کیونکہ اُسی سے مدد مانگی جاتی ہے اور ہر زمان اور مکان میں اسی پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ اور جان لے کہ اگر تمام لوگ کسی دینی یا دُنیاوی معاملے میں تجھے کسی چیز سے نفع پہنچانے کے لئے جمع ہو جائیں تو وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ تجھے نفع پہنچائیں ، سوائے اس کے کہ جو تیرے مقدر میں اللہ عزَّوَجَلَّ نے لکھ دیا ہے ۔
’’رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُف‘‘ یعنی تقدیر لکھ دی گئی ہے کاتب نے جو لکھنا تھا وہ لکھاجا چکا اب اس میں کچھ تَغَیُّرُو تَبَدُّل نہ ہوگا ،لوحِ محفوظ میں سب کچھ لکھ دیا گیا اب اس میں کچھ نہیں لکھا جائے گا۔حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا پھر اس سے فرمایا: لکھ! قلم نے عرض کی: کیالکھوں ؟ فرمایا: تقدیر لکھ! پھر اس نے قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا وہ لکھ دیا۔ ایک اور حدیث پاک میں ہے کہ ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ کے علم کے مطابق قلم خشک ہو گئے‘‘ یعنی اَزل میں اللہ عزَّوَجَلَّ نے جو کچھ اسے سکھایا اور حکم دیا (وہ لکھ دیا) اب اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوگی۔یہاں یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ حدیث پاک اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کے منافی (خلاف)ہے۔یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-(پ ۱۳، الرعد:۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اللہ جو چاہے مٹاتا اور ثابت کرتا ہے۔
حدیث مبارک اور آیت طیبہ میں کوئی تَضَاد( مخالفت) نہیں کیونکہ مِٹنا اور ثابت ہونا بھی تقدیر میں سے ہے، کیونکہ تقدیر کی قسمیں ہیں :(۱) مُبْرَم (۲) مُعَلَّق اور یہ تقسیم لوحِ محفوظ کے اعتبار سے ہے، بہرحال وہ تقدیر جو اللہ عزَّوَجَلَّ کے علم میں ہے اس میں تبدیلی اور تَغَیُّر ممکن نہیں اسی لئے اللہ عزَّوَجَلَّ نے فرمایا: ’’وَعِنْدَہُ اُمُّ الْکِتَاب‘‘ (ترجمۂ کنز الایمان: اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے) ۔(مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق، الفصل الثانی، ۹/۱۶۲تحت الحدیث:۵۳۰۲)تقدیر کی اقسامبہارِ شریعت میں ہے :قضا (تقدیر ) تین قسم ہے۔
(۱)مُبرَمِ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر معلّق نہیں۔
(۲) معلّقِ محض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔
(۳) معلّقِ شبیہ بہ مُبرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے۔
وہ جو مُبرَمِ حقیقی ہے اُس کی تبدیل نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنھیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے۔ ملائکہ قومِ لوط پر عذاب لے کر آئے، سیّدنا ابراہیم خلیل اﷲ∞ عَلٰی نَبِیِّنَا الْکَرِیْم وَعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسْلِیْم کہ رحمتِ محضہ تھے، اُن کا نامِ پاک ہی ابراہیم ہے، یعنی ابِ رحیم، مہربان باپ، اُن کافروں کے بارے میں اتنے ساعی ہوئے کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے، اُن کا رب فرماتا ہے۔یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)(پ۱۲، ھود:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان :ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں
قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرَمِ حقیقی تھا، خلیل اﷲ∞عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اس میں جھگڑے تو اُنھیں ارشاد ہوا:
’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو،بیشک اُن پر وہ عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں۔‘‘(بہارِ شریعت ، ۱ /۱۲، حصہ ۱)
اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہم ت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبا ر سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں ، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے۔ حضور سیّدنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ اسی کو فرماتے ہیں :’’میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں‘‘
اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا :’’اِنَّ الدُّعَاء َ یَرُدُّ القَضَاء َ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘ (بیشک دُعا قضائے مُبرم کو ٹال دیتی ہے) ۔(بہارِ شریعت ، ۱ /۱۴،۱۶ حصہ ۱)
اِمَام شَرَفُ الدِّیْنحُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُ اللہ طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں :’’ تو اللہ عزَّوَجَلَّ کے حق کی رعایت کر اور اس کی رضا طلب کراگر ایسا کرے گا تو اسے اپنے قریب پائے گا اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے حق کی حفاظت کر یہاں تک کہ اللہ عزَّوَجَلَّ دُنیا کے مصائب سے تیری حفاظت فرمائے۔
تو ایسا بن جا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ ہر وقت تجھے اپنی فرمانبرداری میں اور ایسے عمل میں دیکھے کہ جو تجھے اس کی نعمتوں سے قریب کردے ، پھر وہ دنیا و آخرت میں تیری شدید حاجت کے وقت تجھے اس کی جزا عطافرمائے گا ۔ (شرح الطیبی، کتاب الرقاق،باب التوکل واصبر،۹/۴۱۲حدیث:۵۳۰۲)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان الفاظ حِدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :(اِحْفَظِ اللہ یَحْفَظْکَ) یعنی تم دنیا میں اپنے ہر کام ہر چیز میں احکامِ اِلٰہیہ کا لحاظ رکھو، جائز کام کرو، ناجائز سے بچو، اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے کام کرو، ناراضی کے کاموں سے بچو !تو اللہ عزَّوَجَلَّ تم کو دینی و دنیاوی آفتوں سے بچائے گا۔
( تَجِدْہُ تُجَاھَکَ) یعنی ہر مصیبت میں رب تعالیٰ کی رحمت تمہارے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تمہارے دل پر غم طاری نہ ہوگا۔
(إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللہ ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِ اللہ ) یعنی ہر چھوٹی بڑی چیز اعلیٰ ادنی مدد اللہ عزَّوَجَلَّ سے مانگو، یہ نہ خیال کرو کہ اتنے بڑے دربار میں ایسی ادنی چیز کیوں مانگو ،دوسرے کریم مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں اللہ عزَّوَجَلَّ نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے، خیال رہے کہ مجازی طور پر بادشاہ ،حاکم ،اولیائے کرام ،حضرت محمد مصطفٰے صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کچھ مانگنا خداتعالیٰ سے ہی مانگنا ہے کہ یہ حضرات اللہ عزَّوَجَلَّ کے خُدَّام، اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی نعمت دیتے ہیں ان سے مانگنا بِالواسطہ رَبّ عزَّوَجَلَّ سے ہی مانگنا ہے، لہٰذا یہ حدیث ان قرآنی آیات اور احادیث کے خلاف نہیں ، جن میں بندوں سے مانگنے کا ذکر یا حکم ہے۔
( وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃ،۔۔الخ )یعنی ساری دنیا مل کر تم کو نفع نہیں پہنچاسکتی، اگر کچھ پہنچائے گی تو وہ ہی جو تمہارے مقدر میں لکھا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا لکھا ہوا نفع دنیا پہنچاسکتی ہے۔طبیب کی دوا شفا دے سکتی ہے، سانپ کازہر جان لے سکتا ہے مگر یہ اللہ عزَّوَجَلَّ کا طے شدہ (اور) اس کی طرف سے( ہے) حضرت یوسف ( عَلَیْہِ السَّلام )کی قمیص نے دِیدئہ یعقوبی ( عَلَیْہِ السَّلام )کو شفا بخشی حضرت عیسیٰ( عَلَیْہِ السَّلام ) مردے زندہ، بیمار اچھے کرتے تھے مگر اللہ عزَّوَجَلَّ کے اِذن سے۔
(کَتَبَہُ اللہ )( یہاں ) لکھنے سے مراد لوحِ محفوظ میں لکھنا ہے اگرچہ وہ تحریر قلم نے کی مگر چونکہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے حکم سے کی تھی اس لیے کہا گیا کہ ’’ اللہ عزَّوَجَلَّ نے لکھا‘‘ مطلب ظاہر ہے کہ اگر سارا جہاں مل کر تمہیں کوئی نقصان دے تو وہ بھی طے شدہ پروگرام کے ماتحت ہوگا کہ لو حِ محفوظ میں یوں ہی لکھا جاچکا تھا، خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی نافع (نفع پہنچانے والا) حقیقی ضارّ (نقصان پہنچانے والا) اللہ عزَّوَجَلَّ ہی ہے دنیا اس کی مَظْہَر ہے۔(رُفِعَتِ الْاَقْلَام) یعنی تاقیامت جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب پہلے ہی لکھا جاچکا ہے بار بار ہر واقعہ کی تحریر نہیں ہوتی۔ (مراٰۃالمناجیح، ۷/۱۱۷)مدنی گلدستہ
’’تقد یر‘‘ کے 5 حروف کی نسبت سے حد یثِ مذکور
اوراس کی وضاحت سے ملنے 5 مدنی پھول(1) جو اللہ عزَّوَجَلَّ کا فرمانبردار بندہ ہوگا اللہ عزَّوَجَلَّ ہر مشکل میں اس کی مدد فرمائے گا ۔
(2) حکمِ الٰہی کے بغیر کوئی بھی نہ کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی عطا سے اس کے برگزیدہ بندے مخلوق کی مدد فرماتے ان کی پریشانیاں دور کرتے اور انہیں راحت وسکون مہیا کرتے ہیں۔
(3) لوحِ محفوظ میں قیامت تک ہونے والے تمام اُمور لکھ دئیے گئے ہیں۔
(4) انسان کی تقدیر میں جو لکھ دیا گیا وہ ضرور ہوکر رہے گا انسان تقدیر سے بھاگ نہیں سکتا۔
(5) جو اللہ عزَّوَجَلَّ سے مانگتا ہے اللہ عزَّوَجَلَّ اُس سے خوش ہوتا ہے اور نا مانگنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 62