Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1173

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْھَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يَنَامُ اَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ آخِرَهُ فَيُصَلِّيْ.

عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينام اول الليل ويقوم آخره فيصلي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصہ میں آرام فرماتے اور آخری حصےمیں نماز کے لئےکھڑے ہوتے ۔

شرح حدیث

رات میں قیام کا افضل وقت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصہ میں نماز کے لیےکھڑے ہوتے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’نفس اور آنکھ کا حق ادا کرنے کے لیے رات کے شروع میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآرام فرماتے کہ مسلسل اَعمال کرنے کی وجہ سے جسم میں تھکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور رات کے آخری حصہ میں قیام فرماتے۔حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں اس وقت قیام فرماتے جب مرغ اذان دیتا اور مرغ آدھی رات کے وقت اذان دیتا ہے اور قیام سے مقصود نماز کی ادائیگی ہوتی اور رات میں قیام کا افضل وقت یہی ہے۔‘‘امام ابن جوزیرَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہِکی نصیحت:حضرت سَیِّدُنا امام اَبُو الْفَرَج عبد الرحمن ابنِ جَوْزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے راہِ صالحین سے دور رہنے والے!تجھ پر اپنے نورِ بصارت کی اِصلاح لازم ہے،تاریک دل شکوک کے کانٹوں پر چل رہاہے اور تُو بے خبر ہے، توبہ کرنے والا اپنی عمر عبادت میں گزار تا ہے، دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتاہے جبکہ آرام پسنداور کاہل آدمی کا وقت غفلت میں گزرتاہے ، اس کی بصیرت غور وتفکر سے بے بہرہ ہوتی ہے کیونکہ جو شخص دنیا سے بے رغبتی کا مزہ چکھ لیتا ہے اسے شب بیداری اوررات میں نماز پڑھنے میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے،اگر تمہیں رات کے اَوَائل میں تہجد پڑھنے والے نظر نہیں آتے توسحری کے وقت انہیں دیکھ لیا کرو اور غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوجاؤ کہ اب تواس بڑھاپے کی فجر طلوع ہوچکی ہے اگر تو بارگاہِ خداوندیسے پیچھے رہ گیا تو یہ پیچھے رہ جانا تجھے ذلت میں ڈال دے گا۔‘‘شب بیداری میں آسانی کے ظاہری و باطنی اسباب:حُجَّۃُ الْاِسْلَامامام ابو حامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیشب بیداری میں آسانی کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جو شخص شب بیداری کو آسان کرنے والے ظاہری وباطنی اسباب کا لحاظ نہیں کرتا اس کے لئے رات میں عبادت کرنا مشکل ہے۔چارظاہری اسباب:(1)زیادہ کھانے سے پرہیز : کیونکہ شب بیداری کرنے والااگر زیادہ کھانا کھائے گا تو پانی بھی زیادہ پئے گا یوں اس پر نیند غالب آجائے گی اور شب بیداری مشکل ہو جائے گی۔ بعض شیوخ ہر رات دسترخوان پر کھڑے ہو کر فرماتے: ’’اے راہِ آخرت کا ارادہ کرنے والے گروہ! زیادہ کھانانہ کھاؤ کہ اس طرح تم پانی بھی زیادہ پیؤ گے، پھر سوؤ گے بھی زیادہ اور پھر موت کے وقت حسرت بھی زیادہ کروگے۔‘‘یہ(شب بیداری و تندرستی کا) بہت بڑا ضابطہ ہے کہ معدے کو کھانے کے بوجھ سے ہلکا رکھا جائے۔(2)دن کے وقت نفس کو نہ تھکانا:شب بیداری کے خواہش مند کو چاہیے کہ دن کے اوقات میں نفس کو زیادہ نہ تھکائے کیونکہ دن کے وقت نفس کو ایسے اعمال کے ذریعے تھکادینا بھی نیند کا سبب ہے کہ جن کی وجہ سے اعضا عاجز آجاتے اور اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں ۔(3)دن کے وقت قیلولہ کرنا: دن میں قیلولہ بھی ترک نہ کرے کہ یہ شب بیداری میں مدد لینے کے لئے سنت ہے۔(4)دن میں گناہوں سے اجتناب کرنا:دن میں گناہوں سے اجتناب کرے کیونکہ یہ دل کی سختی کا باعث بنتے اور اسبابِ رحمت کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔چارباطنی اسباب:(1)دل کا سلامت ہونا:اس سے مراد یہ ہے کہ دل مسلمانوں کے بغض وکینہ، بدعتوں اور فضول قسم کے دنیوی خیالات سے پاک و صاف ہو کیونکہ جو دنیا کی تدبیر کرنے کی فکر میں مگن ہو اس کے لئے شب بیداری کرنا آسان نہیں ،اگر کر بھی لے تو نماز میں غور و فکر نہیں کر پاتا بلکہ دنیوی کاموں کے بارے میں سوچتا رہتا اور اسی کے وسوسوں میں گھومتا رہتا ہے۔(2)دل پر خوف طاری ہو:دل پر خوف کا غلبہ جبکہ امید کم ہو کیونکہ جب یہ آخرت کی ہولناکیوں اور جہنم کے درجات کے بارے میں غوروفکر کرے گا تو اس کی نیند اڑ جائےگی اور خوف میں زیادتی ہوگی۔ جیساکہ حضرت سیِّدُنا طاؤس بن کیسان یمانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ’’جہنم کے ذکر نے عابدین کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔‘‘(3)شب بیداری کی فضیلت میں واردآیات، احادیث اور آثارِصحابہ و تابعین پیش نظر ہوں : کہ اس کے سبب حُصُول ثواب کے لئے امید و شوق مضبوط ہوگا اور پھر شوق مزید مقامات تک طلب اور جنت کے درجات میں رغبت کی طر ف ابھارے گا۔(4)ذاتِ باری تعالیٰ پر پختہ ایمان اور اس کی کامل محبت دل میں ہو:یہ سبب سب سے زیادہ بلند مرتبہ ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی محبت اور اس بات پر پختہ ایمان ہو کہ حالتِ قیام میں یہ جو کچھ بھی کہتا ہے ہر ہر حرف کے ذریعے بارگاہِ الٰہی میں مناجات کر رہا ہے اور وہ اس پر آگاہ ہے۔ نیز (وسوسوں سے خالی)جو خیالات دل میں آئیں ان کا بھی مشاہدہ کرے اور یقین رکھے یہ خطراتاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے اسے خطاب ہیں ۔ کیونکہ جب کوئیاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرے گا تو وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ خلوت کو بھی پسند کرے گا اور اس سے مناجات کرنے کی لذّت پائے گا اور حبیب کے ساتھ مناجات کرنے کی لذّت زیادہ دیر قیام کرنے پر اُبھارے گی۔مدنی گلدستہ’’تہجد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نبی پاک
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصےمیں عبادت ۔
(2) شب بیداری کے خواہش مند کو چاہیے کہ دن کے اوقات میں نفس کو زیادہ نہ تھکائے کیونکہ دن کے وقت نفس کو ایسے اعمال کے ذریعے تھکا دینا بھی نیند کا سبب ہے کہ جن کی وجہ سے اعضا عاجز آجاتے ہیں اور اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں۔
(3) جو شخص شب بیداری کو آسان کرنے والے ظاہری وباطنی اسباب کا لحاظ نہیں کرتا اس کے لئے رات میں عبادت کرنا مشکل ہے۔
(4) زیادہ کھانے سے پرہیز اور قیلولہ کرنا شب بیداری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شب بیداری کے ذریعے خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1173