- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1173
باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1173
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْھَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يَنَامُ اَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ آخِرَهُ فَيُصَلِّيْ.
عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينام اول الليل ويقوم آخره فيصلي.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصہ میں آرام فرماتے اور آخری حصےمیں نماز کے لئےکھڑے ہوتے ۔
شرح حدیث
رات میں قیام کا افضل وقت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصہ میں نماز کے لیےکھڑے ہوتے ۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’نفس اور آنکھ کا حق ادا کرنے کے لیے رات کے شروع میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآرام فرماتے کہ مسلسل اَعمال کرنے کی وجہ سے جسم میں تھکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور رات کے آخری حصہ میں قیام فرماتے۔حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں اس وقت قیام فرماتے جب مرغ اذان دیتا اور مرغ آدھی رات کے وقت اذان دیتا ہے اور قیام سے مقصود نماز کی ادائیگی ہوتی اور رات میں قیام کا افضل وقت یہی ہے۔‘‘امام ابن جوزیرَحْمَۃُ اﷲ عَلَیْہِکی نصیحت:حضرت سَیِّدُنا امام اَبُو الْفَرَج عبد الرحمن ابنِ جَوْزِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے راہِ صالحین سے دور رہنے والے!تجھ پر اپنے نورِ بصارت کی اِصلاح لازم ہے،تاریک دل شکوک کے کانٹوں پر چل رہاہے اور تُو بے خبر ہے، توبہ کرنے والا اپنی عمر عبادت میں گزار تا ہے، دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتاہے جبکہ آرام پسنداور کاہل آدمی کا وقت غفلت میں گزرتاہے ، اس کی بصیرت غور وتفکر سے بے بہرہ ہوتی ہے کیونکہ جو شخص دنیا سے بے رغبتی کا مزہ چکھ لیتا ہے اسے شب بیداری اوررات میں نماز پڑھنے میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے،اگر تمہیں رات کے اَوَائل میں تہجد پڑھنے والے نظر نہیں آتے توسحری کے وقت انہیں دیکھ لیا کرو اور غفلت کی نیند سے بیدا ر ہوجاؤ کہ اب تواس بڑھاپے کی فجر طلوع ہوچکی ہے اگر تو بارگاہِ خداوندیسے پیچھے رہ گیا تو یہ پیچھے رہ جانا تجھے ذلت میں ڈال دے گا۔‘‘شب بیداری میں آسانی کے ظاہری و باطنی اسباب:حُجَّۃُ الْاِسْلَامامام ابو حامد محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیشب بیداری میں آسانی کے اسباب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جو شخص شب بیداری کو آسان کرنے والے ظاہری وباطنی اسباب کا لحاظ نہیں کرتا اس کے لئے رات میں عبادت کرنا مشکل ہے۔چارظاہری اسباب:(1)زیادہ کھانے سے پرہیز : کیونکہ شب بیداری کرنے والااگر زیادہ کھانا کھائے گا تو پانی بھی زیادہ پئے گا یوں اس پر نیند غالب آجائے گی اور شب بیداری مشکل ہو جائے گی۔ بعض شیوخ ہر رات دسترخوان پر کھڑے ہو کر فرماتے: ’’اے راہِ آخرت کا ارادہ کرنے والے گروہ! زیادہ کھانانہ کھاؤ کہ اس طرح تم پانی بھی زیادہ پیؤ گے، پھر سوؤ گے بھی زیادہ اور پھر موت کے وقت حسرت بھی زیادہ کروگے۔‘‘یہ(شب بیداری و تندرستی کا) بہت بڑا ضابطہ ہے کہ معدے کو کھانے کے بوجھ سے ہلکا رکھا جائے۔(2)دن کے وقت نفس کو نہ تھکانا:شب بیداری کے خواہش مند کو چاہیے کہ دن کے اوقات میں نفس کو زیادہ نہ تھکائے کیونکہ دن کے وقت نفس کو ایسے اعمال کے ذریعے تھکادینا بھی نیند کا سبب ہے کہ جن کی وجہ سے اعضا عاجز آجاتے اور اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں ۔(3)دن کے وقت قیلولہ کرنا: دن میں قیلولہ بھی ترک نہ کرے کہ یہ شب بیداری میں مدد لینے کے لئے سنت ہے۔(4)دن میں گناہوں سے اجتناب کرنا:دن میں گناہوں سے اجتناب کرے کیونکہ یہ دل کی سختی کا باعث بنتے اور اسبابِ رحمت کے درمیان حائل ہو جاتے ہیں ۔چارباطنی اسباب:(1)دل کا سلامت ہونا:اس سے مراد یہ ہے کہ دل مسلمانوں کے بغض وکینہ، بدعتوں اور فضول قسم کے دنیوی خیالات سے پاک و صاف ہو کیونکہ جو دنیا کی تدبیر کرنے کی فکر میں مگن ہو اس کے لئے شب بیداری کرنا آسان نہیں ،اگر کر بھی لے تو نماز میں غور و فکر نہیں کر پاتا بلکہ دنیوی کاموں کے بارے میں سوچتا رہتا اور اسی کے وسوسوں میں گھومتا رہتا ہے۔(2)دل پر خوف طاری ہو:دل پر خوف کا غلبہ جبکہ امید کم ہو کیونکہ جب یہ آخرت کی ہولناکیوں اور جہنم کے درجات کے بارے میں غوروفکر کرے گا تو اس کی نیند اڑ جائےگی اور خوف میں زیادتی ہوگی۔ جیساکہ حضرت سیِّدُنا طاؤس بن کیسان یمانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں: ’’جہنم کے ذکر نے عابدین کی نیندیں اڑا دی ہیں ۔‘‘(3)شب بیداری کی فضیلت میں واردآیات، احادیث اور آثارِصحابہ و تابعین پیش نظر ہوں : کہ اس کے سبب حُصُول ثواب کے لئے امید و شوق مضبوط ہوگا اور پھر شوق مزید مقامات تک طلب اور جنت کے درجات میں رغبت کی طر ف ابھارے گا۔(4)ذاتِ باری تعالیٰ پر پختہ ایمان اور اس کی کامل محبت دل میں ہو:یہ سبب سب سے زیادہ بلند مرتبہ ہے کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی محبت اور اس بات پر پختہ ایمان ہو کہ حالتِ قیام میں یہ جو کچھ بھی کہتا ہے ہر ہر حرف کے ذریعے بارگاہِ الٰہی میں مناجات کر رہا ہے اور وہ اس پر آگاہ ہے۔ نیز (وسوسوں سے خالی)جو خیالات دل میں آئیں ان کا بھی مشاہدہ کرے اور یقین رکھے یہ خطراتاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے اسے خطاب ہیں ۔ کیونکہ جب کوئیاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرے گا تو وہ لازمی طور پر اس کے ساتھ خلوت کو بھی پسند کرے گا اور اس سے مناجات کرنے کی لذّت پائے گا اور حبیب کے ساتھ مناجات کرنے کی لذّت زیادہ دیر قیام کرنے پر اُبھارے گی۔مدنی گلدستہ’’تہجد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصے میں آرام فرماتے اور آخری حصےمیں عبادت ۔
(2) شب بیداری کے خواہش مند کو چاہیے کہ دن کے اوقات میں نفس کو زیادہ نہ تھکائے کیونکہ دن کے وقت نفس کو ایسے اعمال کے ذریعے تھکا دینا بھی نیند کا سبب ہے کہ جن کی وجہ سے اعضا عاجز آجاتے ہیں اور اعصاب کمزور پڑ جاتے ہیں۔
(3) جو شخص شب بیداری کو آسان کرنے والے ظاہری وباطنی اسباب کا لحاظ نہیں کرتا اس کے لئے رات میں عبادت کرنا مشکل ہے۔
(4) زیادہ کھانے سے پرہیز اور قیلولہ کرنا شب بیداری میں معاون ثابت ہوتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شب بیداری کے ذریعے خوب خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1173