Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1175

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ حُذَيْفَۃَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ:يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِئَةِ ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ:يُصَلِّيْ بِهَا فِيْ رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ:يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَراَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَاَهَا يَقْرَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِآيَةِ فِيْهَا تَسْبِيْحٌ سَبَّحَ وَاِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَاَلَ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ:سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ فَكَانَ رُكُوْعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ:سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ طَوِيْلًا قَرِيْبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ:سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلَى فَكَانَ سَجُوْدُهُ قَرِيْبًا مِنْ قِيَامِهِ.

عن حذيفۃرضي الله عنه قال:صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فافتتح البقرة فقلت:يركع عند المئة ثم مضى فقلت:يصلي بها في ركعة فمضى فقلت:يركع بها ثم افتتح النساء فقراها ثم افتتح آل عمران فقراها يقرا مترسلا اذا مر بآية فيها تسبيح سبح واذا مر بسؤال سال واذا مر بتعوذ تعوذ ثم ركع فجعل يقول:سبحان ربي العظيم فكان ركوعه نحوا من قيامه ثم قال:سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد ثم قام طويلا قريبا مما ركع ثم سجد فقال:سبحان ربي الاعلى فكان سجوده قريبا من قيامه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ میں نے ایک راتاﷲعَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا، آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ بقرہشروع فرمائی،میں نے دل میں کہا کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل پڑھتے رہے۔میں نے خیال کیا کہ اب آپ رکوع میں جائیں گے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سورۂ نِساء شروع فرما دی اور اسے مکمل پڑھا پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ آلِ عمرانشروع فرما دی اور اسے بھی مکمل پڑھا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح ہوتی تو آپ تسبیح پڑھتے (یعنیسُبْحَانَ اﷲکہتے)اور جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال(اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے مانگنے) کا ذکر ہوتا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوال فرماتے اور جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میںتَعَوُّذْ(یعنی پناہ مانگنے )کا ذکر ہوتا تو آپاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے۔پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رکوع فرمایا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمپڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا۔پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سَمِعَ اﷲ لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور تقریبًا اتنی دیر کھڑے رہے کہ آپ کا قومہ رکوع کے برابر ہوگیاپھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سجدہ کیا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھتے رہے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سجدہ بھی تقریبًا قیام کے برابر تھا۔

شرح حدیث

نوافل میں اقتدا کرنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں نمازِ تہجد میں طویل قیام و قراءت اور طویل رکوع و سجود کا بیان ہےجیسا کہ حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رات کی نماز کی کیفیت کو بیان فرمارہے ہیں کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے سورۂ بقرہ شروع فرمائی اسے مکمل پڑھا پھر سورۂ نساء مکمل پڑھی اور پھر سورۂ آلِ عمران بھی مکمل پڑھی ،اس کے بعد رکوع،قومہ،سجدہ اور جلسہ بھی اسی طرح طویل فرمایا۔اس کے علاوہ حدیث پاک میں چند اور بھی اہم باتوں کا بیان ہے جیسا کہ نفل نماز کی جماعت کا بیان،سورتوں کی ترتیب کا مسئلہ،پھرنماز کے درمیان تسبیح،حمد اورتعوذ کا بیان۔حضرت سَیِّدُناحذیفہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اقتدا میں جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نمازتھی۔چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پیچھے جو نماز پڑھی وہ تہجد کی نماز تھی۔نفل کی جماعت کا حکم:نوافل کی جماعت میں اگر امام کے سوا تین آدمی ہوں تو بلا اختلاف جائز ہے ا ورتین سے زیادہ ہوں تو مکروہِ تنزیہی ،خلافِ اَولیٰ ہے یعنی نہ کرنا بہتر ہے لیکن کی جائے تو کوئی ناجائز و گناہ نہیں اور بعض کے نزدیک مطلقاً جائز ہے بلکہ بہت سے اَ کابرِ دین سے نوافل کی جماعت ثابت ہے اور متأخرین فُقہا نے لوگوں کی نیکیوں کی طرف رغبت کم ہونے کی وجہ سے نوافل کی جماعت کے جواز ہی کا فتویٰ دیا ہے کہ عوام کو نمازسے دُور کرنے سے زیادہ بہتریہ ہے کہ انہیں نمازکی طرف راغب رکھاجائے اور اس سے بالکل منع نہ کیا جائے۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنارشاد فرماتے ہیں:’’نفل غیرِتراویح میں امام کے سواتین آدمیوں تک تواجازت ہے ہی، چارکی نسبت کتبِ فقہیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہتِ تنزیہ جس کاحاصل خلافِ اَولیٰ ہے نہ کہ گناہ حرام۔مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اوربہت اکابرِدِین سے جماعتِ نوافل بِالتَّدَاعِی(یعنی لوگوں کو بلا کر جماعت قائم کرنا) ثابت ہے اورعوام فعلِ خیرسے منع نہ کیے جائیں گے۔ علمائے اُمَّت وحکمائے مِلَّت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایاہے۔ دُرِّمختارمیں ہے:عوام کو تکبیرات اورنوافل سےکبھی بھی منع نہ کیاجائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔خلافِ ترتیب قراءت کا مسئلہ:مذکورہ حدیثِ پاک میں ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےپہلے سورۂ بقرہ تلاوت فرمائی پھر سورۂ نساء اور اس کے بعد سورۂ آلِ عمران جبکہ سورتوں کی ترتیب کے لحاظ سے سورۂ بقرہ کے بعد سورۂ آل عمران ہے اور پھر سورۂ نساء،اس سے معلوم ہوا کہ نوافل میں خلافِ ترتیب قراء ت جیسےسورۃ الناس پھر سورۃ الفلق پڑھنا جائز ہے جبکہ فرائض میں سورتوں کی ترتیب کالحاظ رکھنا واجب ہے ۔صدر الشریعہ،بدرالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفر ماتے ہیں:ترتیب کے ساتھ قرآنِ مجید پڑھنا واجب ہے اور خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے یہ حکم فرائض کا ہے اور نوافل میں خلافِ ترتیب پڑھنے کی اجازت ہے۔دورانِ نماز تسبیح،تحمید اور تَعَوُّذ کا حکم:حدیثِ پاک میں اِس بات کا بھی ذِکر ہے کہ جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی ایسی آیت کی تلاوت فرماتے جس میں تسبیح کا ذِکر ہوتا توآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماﷲعَزَّوَجَلَّکی تسبیح بیان کرتے، سوال کا مقام ہوتا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کرتے،تَعَوُّذہوتا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے۔اسی طرح بعض اَحادیث میں اس بات کا بھی بیان ہے کہ جس آیت میں جنت یا دیگر نعمتوں کا تذکرہ ہوتاتو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبارگاہِ الٰہی سےجنت اور نعمت کا سوال کرتے اور جب آیتِ عذاب پڑھتے یا جہنم کا ذِکر ہویا پھر وعید کا ذِکر ہوتا تواﷲ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ طلب کرتے۔
واضح رہے کہ امام شافعی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیکے نزدیک فرائض ونوافل میں دورانِ تلاوت تسبیح، تحمید اور تَعَوُّذ کرنا مطلق جائز ہے جبکہ اَحناف کے نزدیک فرائض میں دورانِ قراءت، تسبیح، تحمید، سوال کرنا وغیرہ جائزہے مگر خلافِ اولیٰ ہے البتہ نوافل میں مطلق جائز ہے۔نیز حدیثِ پاک میں جس نماز کا ذِکر ہے وہ بھی نفل نمازتھی۔چنانچہمُفَسِّرِشَہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہاں نفل نماز مراد ہے فرائض میں دَورانِ قراءت ٹھہرنا اور مانگنا مستحب کے خلاف ہے اگرچہ جائز ہے۔‘‘تسبیحاتِ رکوع و سجودکی قرآن سے مُوافقت:حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب رکوع میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم“ پڑھتے اور جب سجدے میں جاتے تو”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی“پڑھتے۔ رکوع و سجود کی یہ تسبیحات بھی قرآنِ کریم کی موافقت میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی اُمَّت کو عطا فرمائیں۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عُقبہ بن عامررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ’’جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ ﴾(پ۲۷، الواقعہ:۷۴) تو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں شامل کرلو اور جب یہ آیت نازل ہوئی:﴿ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى ﴾(پ۳۰، الاعلی:۱) تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں شامل کر لو۔‘‘ایک لطیف نکتہ:یہاں ایک لطیف نکتہ قابل ذکر ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمرکوع کے ساتھ اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیکو سجدے کے ساتھ خاص فرمایا۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی توجیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لفظ ’’اعلیٰ‘‘ لفظ’’عظیم‘‘سے زیادہ بلیغ یعنی کمال وانتہا کو پہنچا ہواہے اور رکوع کے مقابلے میں سجدے میں زیادہ تواضع و انکساری ہے۔ اس ‏لیے عاجزی میں جو لفظ زیادہ بلیغ ہے اُسےآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسجدے کے ‏لیے مُعَیَّن فرمادیا اور سجدے میں بندہ اپنے ربّ کا زیادہ قرب پاتا ہے اس لیے اس میں اعلیٰ تسبیح پڑھنا مستحب ہے۔
نوٹ:مذکورہ حدیثِ پاک کی تفصیلی شرح کے لیے فیضان ریاض الصالحین،جلددوم،باب11، حدیث نمبر102اور اس کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔
مدنی گلدستہ’’نوافل ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازِ تہجد کی ادائیگی حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظیم سنت ہے۔
(2) نوافل میں اقتدا کرنا اور نمازِ تہجد کو طویل کرنا دونوں سنت سے ثابت ہیں۔
(3) نوافل میں خلافِ ترتیب قراءت کرنا جیسے سورۃ الناس پھر سورۃ الفلق پڑھنا جائز ہے۔
(4) فرائض میں دورانِ قراءت تسبیح، تحمید، سوال کرنا وغیرہ جائزہے مگر خلافِ اولیٰ ہے البتہ نوافل میں مطلق جائز ہے۔
(5) رکوع میں
سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْماور سجدے میںسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھنا سنت ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی کثرت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائےاور نمازِ تہجد جیسی عظیم سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1175