Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1177

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِِ عَمْرِو بنِِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:اَحَبُّ الصَّلَاةِ اِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَاَحَبُّ الصِّيَامِ اِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَيُفطِرُ يَوْمًا.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:احب الصلاة الى الله صلاة داود واحب الصيام الى الله صيام داود كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه وينام سدسه ويصوم يوما ويفطر يوما.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبِن عَمروبن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:اﷲعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندید ہ نماز حضرت داؤ دعَلَیْہِ السَّلَامکی نماز ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسند ید ہ روزے حضرتِ داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے روزے ہیں۔حضرت داؤ دعَلَیْہِ السَّلَامآدھی رات آرام فرماتے،تہائی رات نماز پڑھتےاورپھر رات کے چھٹے حصے میں آرام فرماتےاور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔

شرح حدیث

صومِ داؤد اورصلوۃِ داؤد کے افضل ہونے کی وجہ :حضرت سَیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے روزے اور نماز کے پسندیدہ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئےفقیہ اعظم،حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’چونکہ انسان پر نماز اور روزے کے علاوہ اوربھی فرائض عائد ہیں،مثلاًاہل و عیال کی پرورش ،جہاد ،حج وغیرہ ،اور ہمیشہ رات بھر جاگنے اورمسلسل روزے رکھنے سے اِن چیزوں میں خلل واقع ہوگااور کمزوری کے باعث ان کی ادائیگی نہیں ہو پائے گی ،اس لئے صلوٰۃِ داؤد اور صومِ داؤد زیادہ محبوب ہوا۔پابندی کے ساتھ اَعمال زیادہ محبوب ہیں بہ نسبت شروع کر کے چھوڑ دینےیا ناغے کے ساتھ کرنے سےاور ہمیشہ رات بھر جاگنے اورمسلسل روزے رکھنے میں مُداوَمت نہیں ہو پائےگی اس لئے صومِ داؤد اور صلوٰۃِ داؤد افضل ہے ۔‘‘مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:’’یہاں (حدیثِ پاک میں)نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اور روزے سے نفلی روزے۔ جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دیگر انبیائے کرام (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)بھی تہجد اورنفلی روزے ادا کرتے تھے مگر ان کے طریقے اور تھے۔حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکا یہ طریقہ تھا جو یہاں مذکو رہے یعنی دو تہائی رات سوتے اور ایک تہائی رات جاگتے تھے اور اس جاگنے اور نماز کو دو نیندوں کے درمیان کرتے، اب بھی یہی چاہیے۔اسی طرح نوافلِ تہجد اور نفلی روزوں کی محبوبیت کی چند وجوہ ہیں:ایک یہ کہ اس میں روح کا حق بھی ادا ہوتا ہے اور نفس کا حق بھی،تمام رات سونے، ہمیشہ افطار کرنے سے روح کا حق رہ گیااور رات بھر جاگنےہمیشہ روزے میں نفس کا حق مارا گیا۔دوسرے یہ کہ اس طرح تہجدوروزے نفس پر بھاری ہیں۔ لہٰذا ربّ کو پیارے ہیں کیونکہ ہمیشہ روزے رکھنے میں روزہ عادت بن کر آسان معلوم ہونے لگتا ہے مگر اس طرح ہر روزے میں نئی لذّت محسوس ہوتی ہے۔تیسرےیہ کہ اس میں جسمانی طاقت بحال رہتی ہے، گھٹتی نہیں۔ طاقت ہی سے ساری عبادتیں ہوتی ہیں۔خیال رہےکہ ہمارےحضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صرف تیرھویں، چودھویں،پندرھویں کےروزے رکھے۔کبھی یہ بھی کیا ،کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے، کچھ میں مسلسل افطار تا کہ اُمَّت پر آسانی ہو۔نیز حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمابوالوقت ہیں، جو عمل کریں وہ افضل ہے۔رات کی ہر ساعت کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکےنفل سے شرف حاصل ہوا اور مہینہ کی ہر تاریخ کو حضورصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے روزے سے عزت ملی۔‘‘ایک اِشکال اور اُس کاجواب:شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی”اشعّۃ اللمعات “میں فرماتےہیں: ’’یہاں ایک اِشکال ہے کہ حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت داؤدعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکےاس فعل پر دائماً عمل پیرا نہ تھےتوپھریہ عملاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک سب سےمحبوب عمل کیسےبن گیا؟ اور آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحبوب ترین عمل کو کیسے ترک کرسکتےہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ فعلِ مذکور کامحبوب تر ہونا بعض اعتبارات سےہے، ہرلحاظ سے نہیں۔وہ بعض اعتبارات یہ ہیں:یہ عمل اِعتدال کےزیادہ قریب اورحفظِ صحت کےلحاظ سےزیادہ مفیدہے۔ایک وجہ یہ بھی ہےکہ رات کےآخری چھٹے حصے میں سونا
تھکاوٹ و مشقت دورکرتا ہے اور رنگ کی زردی وشکستگی کی صورت میں عبادت کااثرظاہرنہیں ہونے دیتا۔سرکار
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافعل اَحوال واَوقات کےتقاضوں کےمطابق مختلف ہوتاتھااور بے شمارحکمتوں اورمصلحتوں پرمبنی ہوتاجوآپ کی ذاتِ کریم اورآپ کی اُمَّتِ مرحومہ سےتعلق رکھتی ہیں کیونکہ آپ کی اُمَّت میں کمزور اورطاقتورہرقسم کےلوگ ہیں ۔‘‘صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’قیام‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) رات کی نماز میں لمبا قیام افضل ہے کیونکہ اس میں مشقت زیادہ ہے۔
(2) حضرت داؤد
عَلَیْہِ السَّلَامایک دن چھوڑ کر ایک دن روزہ رکھتے ۔
(3) حضرت داؤد
عَلَیْہِ السَّلَامکے نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا طریقہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔
(4) حضور نبی اکرم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافعل احوال واوقات کےتقاضوں کےمطابق مختلف ہوتا اوربے شمارحکمتوں اورمصلحتوں پرمبنی ہوتا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں رات میں طویل قیام اور صومِ داؤد اور صلوٰۃِ داؤد پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا کرے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1177