Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1171

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يُصَلِّي اِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ¬ تَعْنِي فِي اللَّيْلِ ¬ يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذٰلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَاُ اَحَدُكُمْ خَمْسِيْنَ آيَةً قَبْلَ اَنْ يَرْفَعَ رَاْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْاَيْمَنِِ حَتّٰى يَاْتِيَهُ الْمُنَادِيْ لِلصَّلَاةِ.

عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي احدى عشرة ركعة ¬ تعني في الليل ¬ يسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرا احدكم خمسين آية قبل ان يرفع راسه ويركع ركعتين قبل صلاة الفجر ثم يضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه المنادي للصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے وقت گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔اتنی دیر سجدہ فرماتے جتنی دیر تم میں سے کوئی(سجدے سے)اپنا سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیات پڑھ لےاورآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصبح کی نماز سے پہلے دو رکعت (سنت ) ادا فرماتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے،یہاں تک کہ مؤذن آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آتا اور نماز کی اطلاع دیتا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں بھی آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رات کے معمولات کا ذکر ہے کہ رات میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگیارہ رکعات نماز ادا فرماتے اور ان رکعات میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سجدہ پچاس آیات پڑھنے کے برابر طویل ہوتا پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسنتِ فجر ادا فرمانے کے بعد کچھ دیر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آتا اور نماز کی اطلاع دیتا۔گیارہ رکعات کی وضاحت کرتے ہوئے فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’چھ(تہجد کے)نفل،تین وتردو فجر کی سنت۔‘‘طویل سجدہ کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتہجد کی نماز میں طویل سجدہ اس لئے کرتے تھے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس سجدہ میں دعا کی بہت کوشش فرماتےاوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے گِڑ گڑا تےاور سجدہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے تواضع اور عاجزی کرنے کا بہت انتہا وکمال کو پہنچا ہوا حال ہے۔ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تھاجس کی وجہ سے وہ قیامت تک لعنت کا مستحق ہو گیا اس کے بعد ہمیشہ کے لئے دوزخ کے عذاب میں ڈال دیا جائے گا اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخَلوَت میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اپنے ربعَزَّ وَجَلَّسےمناجات کرنے کے لئے طویل سجدہ کرتے تھے۔مسلمانوں کے لئے اس میں اُسوۂ حسنہ ہے ان کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز میں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےفعل کی اقتدا کریں اورجس کو تہجد کی نماز مُیَسَّر ہو وہ سجدہ میں گر کراﷲعَزَّ وَجَلَّسے معافی اور مغفرت کا سوال کرے۔سلف صالحین بھی ایسا کیا کرتے تھے۔حضرت ابو اسحاقرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں:میں نے حضرت سَیِّدُنا ابنِ زبیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے زیادہ کسی کو طویل سجدہ کرتے نہیں دیکھا۔ حضرت یحییٰ بن وثابرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے کہا:حضرت سَیِّدُنا ابنِ زبیررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسجدہ میں پڑے رہتے تھے اور چڑیاں آکر ان کی کمر پر بیٹھ جاتیں اور سمجھتیں یہ کوئی دیوار کا حصہ ہے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1171