Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1181

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاقَالَتْ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجْعٍ اَوْ غَيْرِهِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنَتَي عَشَرَةَ رَكْعَةً.

عن عائشۃ رضي الله عنهاقالت:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا فاتته الصلاة من الليل من وجع او غيره صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ اگرحضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی درد وغیرہ کی وجہ سے رات کی نماز رہ جاتی تو (اس کے بدلے )دن میں بارہ رکعات ادا فرماتے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر رات میں کسی عُذر کی وجہ سے نمازِتہجد رہ جاتی تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے بدلے دن میں بارہ رکعات ادا فرماتے۔اس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں ہے:زوال سے پہلے پہلے (یہ بارہ رکعتیں پڑھتے)یا اس لئے پڑھتے کہ آپ پر نمازِتہجد فرض تھی اور فرض کی قضا ضروری ہےتب تویہ قضا آ پ کی خصوصیت ہے۔ یہ (دن میں بارہ رکعتیں پڑھنا)اس لئے کہ جس کی تہجد رہ جائے اور وہ زوال سے پہلے بارہ رکعتیں پڑھ لے تو تہجد کا ثوا ب پائے گا۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1181