Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1165

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قالَ:يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَاْسِ اَحَدِكُمْ اِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ:عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيْلٌ فَارْقُدْ فَاِنِ اسْتَيْقظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى اِنْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَاِنْ تَوَضَّاَ اِنْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَاِنْ صَلَّى اِنْحَلَّتْ عُقْدُهُ كُلُّهَا فَاَصْبَحَ نَشِيْطًا طَيِّبَ النَّفسِ وَاِلَّا اَصْبَحَ خَبِيْثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ.

عن ابي هريرةرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:يعقد الشيطان على قافية راس احدكم اذا هو نام ثلاث عقد يضرب على كل عقدة:عليك ليل طويل فارقد فان استيقظ فذكر الله تعالى انحلت عقدة فان توضا انحلت عقدة فان صلى انحلت عقده كلها فاصبح نشيطا طيب النفس والا اصبح خبيث النفس كسلان.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نُورِمُجسَّم،شہنشاہ ِبنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص سوجاتاہے تو شیطان اس کے سر کی گُدِّی پر تین گِرہیں لگا دیتا ہے،اور ہر گِرہ پر یہ پڑھ کر پھونک دیتا ہے:’’رات بہت لمبی ہے سو جا۔‘‘اگر وہ شخص بیدار ہوکراﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتاہے تو ایک گِرہ کُھل جاتی ہے پھر اگر وہ وضو کرے تو دوسری گِرہ کُھل جاتی ہے اور اگر نماز ادا کرے تو تیسری بھی کُھل جاتی ہے اور وہ شخص صبح کے وقت خوش اور ترو تازہ اٹھتا ہے ورنہ وہ صبح کے وقت بھاری طبیعت والا اور سُست ہوتا ہے ۔‘‘

شرح حدیث

گرہ لگانے سے مراد:حدیثِ پاک میں ہے کہ جب انسان سوتا ہے تو شیطان اس کی گدی میں تین گرہیں لگاتا ہے ۔اس گرہ لگانے سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئےاِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”گرہ لگانے کے بارے میں کئی قول ہیں :ایک یہ کہ یہ حقیقی گرہ ہے جو انسان کو سحر میں مبتلا کردیتی ہے کہ وہ رات کو نماز نہ پڑھ سکے۔دوسرا قول یہ ہے کہ شیطان گرہوں میں پھونکنے والا فعل کرتا ہے۔تیسرا قول یہ کہ دل پر گرہ لگاکر اس کو غافل کردیتا ہے گویا کہ اسے وسوسہ دیتا ہے کہ ابھی رات بہت باقی ہے سوجااور وہ رات کی نماز سے محروم رہ جاتا ہے۔چوتھا قول یہ کہ اس سے مراد شیطان کا شب بیداری سے روکنا ہے اور یہ مجازی معنیٰ ہے۔“شیطانی گِرہیں کھولنے کے تین عمل:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’ یہاں گِرہ کے ظاہری معنی ہی مراد ہیں بِلاوجہ تاویل کی ضرورت نہیں جادو گر دھاگے یا بالوں میں کچھ دم کرکے گِرہ لگا دیتے ہیں جس کا اثر مَسْحُور(جس پر جادو کیا جائے اس ) پر ہوجاتا ہے ایسے ہی شیطان انسان کے بالوں میں یا دھاگے میں صبح کے وقت غفلت کی تین گِرہیں لگا دیتا ہے، اسی لیے صبح کے وقت بڑے مزے کی نیند آتی ہے۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے ان تین گِرہوں کے کھولنے کے لیے تین عمل ارشاد فرمائے۔(اور ہر گِرہ پر یہ پڑھ کر پھونک دیتا ہے :رات بہت لمبی ہے سو جا۔) یعنی یہ لفظ کہہ کر دم کرتا ہے اور گِرہ لگا دیتا ہے جس کے اثر سے انسان پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔مشائخ ﷲکا ذکر کرکے دھاگے پر پھونکتے اور گِرہ لگاتے ہیں پھر مریض کے گلے میں ڈال دیتے ہیں اس کا ماخذ حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ فرمان ہے۔معلوم ہوا کہ گَنڈا حق ہے جس گَنڈے کی حدیث شریف میں بُرائی آئی ہے وہ وہ گَنڈا ہے جس پر شِرکیہ الفاظ پڑھ کر دم کیا جائے۔(اگر وہ شخص بیدار ہوکراﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتاہے تو ایک گِرہ کُھل جاتی ہے۔)یہاں ﷲ کے ذکر سے وہ ذکر مراد ہے جو اٹھتے ہی مومن کرتا ہے جن کا ذکر پہلے ہوچکا یہ ذکر اس جادو (یعنی شیطان کی طرف سے لگائی گئی گرہ )کا اُتار ہے۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ذکر اور آپ پر درود شریف بھی ﷲ کا ذکر ہے اگر درود پر آنکھ کُھلے تب بھی یہ ہی فائدہ ہوگا۔( پھر اگر وہ وضو کرے تو دوسری گِرہ کُھل جاتی ہے اور اگر نماز ادا کرے تو تیسری بھی کُھل جاتی ہے۔) ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز سے تہجد کی نماز مراد ہے اسی لیے صاحبِ مشکوٰۃ یہ حدیث تہجد کے باب میں لائے اور اگر کوئی نمازِ فجر کے لیے اٹھے اور یہ عمل کرے تب بھیاِنْ شَآءَ اﷲیہ فوائد ہوں گے۔بعض روایات میں ا سی جگہ عُقَدْ ہے عُقْدَہ کی جمع، معنیٰ یہ ہوئے کہ اگر نماز پڑھ لے تو ساری گِرہیں کُھل جاتی ہیں کیونکہ جب تیسری گِرہ کُھل گئی تو سب ہی کُھل گئیں یا چونکہ نمازی آدمی وضو بھی کرتا ہے ذکرُ ﷲبھی لہٰذا نماز میں وہ دونوں چیزیں آگئیں۔خیال رہے کہ جن عورتوں کی نماز معاف ہے وہ بھی معافی کے زمانہ میں جلد جاگیں، ﷲ کا ذکر کریں،وضو کرلیں تو بہت اچھا ورنہ تڑکے(یعنی صبح سویرے) ہی منہ ہاتھ دھولیں۔(اور وہ شخص صبح کے وقت خوش اور ترو تازہ اٹھتا ہے ورنہ وہ صبح کے وقت بھاری طبیعت اور سُست ہوتا ہے ۔) یعنی نمازِ تہجد کی برکت سے دل میں خوشی،نفس میں پاکی نصیب ہوتی ہے جو اس سے محروم ہے وہ ان دونوں کے کمال سے محروم ہے۔اور جو نمازِ فجر سے غافل رہا اسے سستی بہت ہی ہوتی ہے،صبح کا اٹھنا تندرستی کی اصل ہے صبح سوتے رہنا بیماریوں کی جڑ ہے اسی لیے سمجھ دار کفار بھی اندھیرے منہ جاگتے ہیں۔سر کی گُدی پر گرہیں لگانے کی وجہ:عمدۃ القاری میں ہے :’’اگر یہ سوال کیا جائے کہ شیطان سر کی گدی پر ہی گرہیں کیوں لگاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہم اور شیطان کے تَصَرُّف کا محل ہےجو شیطانی وسوسوں کو جلد قبول کرتا ہے۔حدیث میں ہے کہ جوسوتے وقت آیتُ الکرسی پڑھتا ہے شیطان اس کے قریب نہیں آتا تو پھر شیطان کو گدی پر گرہ لگانے کا موقع کیسے ملتا ہے؟اس کا جواب یہ ہے شیطان اس کی گدی پر گرہیں لگا تا ہےجو آیت الکرسی نہیں پڑھتا۔‘‘مدنی گلدستہ’’نمازی‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جب انسان سو جاتا ہے تو شیطان اس کی گُدی پر غفلت کی تین گِرہیں لگا دیتا ہے ،اگر انسان جاگ کر
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرے تو پہلی گِرہ کُھل جاتی ہے پھر وضو کرنے سے دوسری اور نماز پڑھنے سے تیسری گِرہ کُھل جاتی ہے ۔
(2) نماز تہجد کی برکت سے دل میں خوشی اور پاکی نصیب ہوتی ہے۔
(3) صبح کا اٹھنا تندرستی کی اصل ہے اورصبح سوتے رہنا بیماریوں کی جڑ ہے۔
(4) شیطان گُدی پر ہی گرہیں اس لئے لگاتا ہے کہ یہ وہم اور شیطان کے تصرف کا محل ہےجو جلدی وسوسوں کو قبول کرتا ہے۔
(5) جورات کو آیۃ الکرسی پڑھ کر سوئے اس کی گُدی پر شیطان گِرھیں نہیں لگا سکتا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شیطانی شکنجوں سےبچائے اور پانچ نمازوں پر پابندی کے ساتھ شب بیداری کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1165