- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ نبی پاک صاحبِ لولاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو اٹھ کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔میں عرض کرتی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےسبب آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گنا ہ معاف فرمادیئے ہیں۔‘‘آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے:’’ کیا میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟‘‘
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ حَتّٰى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاه ُ فَقُلْتُ لَهُ:لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ! وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ؟ قَالَ:اَفَلَا اَكُوْنُ عَبْدًا شَكُوْرًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1160 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُناعلیکَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے روایت ہے کہ ایک رات نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے اور فاطمہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’کیا تم دونوں نماز نہیں پڑھتے ؟‘‘
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ لَيْلاًفَقَالَ:اَلَا تُصَلِّيَانِ؟
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1161 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا سالِم بن عبداﷲبن عمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْاپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:عبداﷲبہت اچھا آدمی ہے اگر رات کو نماز پڑھے۔حضرت سالِمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں اس کے بعد حضرت عبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُرات کو بہت کم سویا کرتے تھے ۔
عَنْ سَالمِ بنِِ عَبْدِ اللَّهِ بنِِ عُمَرَ بنِِ الْخَطَّابِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُمْ عَنْ اَبِيْهِ:اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:نِعْمَ الرَّجلُ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ قَالَ سَالِمٌ:فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدَ ذٰلِكَ لَا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ اِلَّاقَلِيْلًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1162 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے فرماتے ہیں رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے عبداﷲ!فلاں کی طرح نہ ہو جانا کہ وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے رات کا قیام ترک کر دیا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِِ عَمْرِو بنِِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ:كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1163 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُناابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا ہے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اس شخص کےدونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کیا ہے۔“ یا فرمایا:”اس کے ایک کان میں شیطان نے پیشاب کیا ہے۔“
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى اَصْبَحَ قَالَ:ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِيْ اُذُنَيْهِ ¬ اَوْ قَالَ:فِي اُذُنِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1164 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نُورِمُجسَّم،شہنشاہ ِبنی آدمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص سوجاتاہے تو شیطان اس کے سر کی گُدِّی پر تین گِرہیں لگا دیتا ہے،اور ہر گِرہ پر یہ پڑھ کر پھونک دیتا ہے:’’رات بہت لمبی ہے سو جا۔‘‘اگر وہ شخص بیدار ہوکراﷲ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کرتاہے تو ایک گِرہ کُھل جاتی ہے پھر اگر وہ وضو کرے تو دوسری گِرہ کُھل جاتی ہے اور اگر نماز ادا کرے تو تیسری بھی کُھل جاتی ہے اور وہ شخص صبح کے وقت خوش اور ترو تازہ اٹھتا ہے ورنہ وہ صبح کے وقت بھاری طبیعت والا اور سُست ہوتا ہے ۔‘‘
عَن اَبي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قالَ:يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَاْسِ اَحَدِكُمْ اِذَا هُوَ نَامَ ثَلَاثَ عُقَدٍ يَضْرِبُ عَلَى كُلِّ عُقْدَةٍ:عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيْلٌ فَارْقُدْ فَاِنِ اسْتَيْقظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى اِنْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَاِنْ تَوَضَّاَ اِنْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَاِنْ صَلَّى اِنْحَلَّتْ عُقْدُهُ كُلُّهَا فَاَصْبَحَ نَشِيْطًا طَيِّبَ النَّفسِ وَاِلَّا اَصْبَحَ خَبِيْثَ النَّفْسِ كَسْلَانَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1165 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن سلامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو!سلام کو عام کرو اور محتاجوں کو کھاناکھلاؤ اور صلۂ رحمی اختیا رکرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تونماز پڑھا کرو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔‘‘
عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَيُّهَا النَّاسُ اَفْشُوا السَّلَامَ وَاَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوْا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1166 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نمازکے بعد سب سے افضل نمازرات میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَاَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيْضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1167 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں اور جب صبح ہونے کا ڈر ہو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لو۔‘‘
عَنِِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَاِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَاَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1168 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں دو دو رکعات نماز پڑھتے تھےاورایک رکعت ملا کر(تین رکعات)وترادا فرماتے ۔
عَنِِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1169 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی مہینے اس قدر روزے ترک فرما دیتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ شاید اب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس مہینے میں روزے نہیں رکھیں گے اور کبھی اس قدر(مسلسل)روزے رکھتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ اب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزہ نہیں چھوڑیں گے اور تم رات کے وقت نماز پڑھتا دیکھنا چاہتے تو ایسے ہی پاتے اور آرام فرما دیکھنا چاہتے توایسے ہی پاتے ۔
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ اَنْ لَّا يَصُوْمَ مِنْهُ وَيَصُوْمُ حَتَّى نَظُنَّ اَنْ لَّا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا تَشَاءُ اَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا اِلَّا رَاَيْتَهُ وَلَا نَائِمًا اِلَّا رَاَيْتَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1170 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے وقت گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔اتنی دیر سجدہ فرماتے جتنی دیر تم میں سے کوئی(سجدے سے)اپنا سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیات پڑھ لےاورآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصبح کی نماز سے پہلے دو رکعت (سنت ) ادا فرماتے پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے،یہاں تک کہ مؤذن آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس آتا اور نماز کی اطلاع دیتا۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يُصَلِّي اِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً ¬ تَعْنِي فِي اللَّيْلِ ¬ يَسْجُدُ السَّجْدَةَ مِنْ ذٰلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَاُ اَحَدُكُمْ خَمْسِيْنَ آيَةً قَبْلَ اَنْ يَرْفَعَ رَاْسَهُ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْاَيْمَنِِ حَتّٰى يَاْتِيَهُ الْمُنَادِيْ لِلصَّلَاةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1171 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان میں یا اس کے علاوہ (رات میں)گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچار رکعات پڑھتے، تم ان کی عمدگی اور طوالت کا نہ پوچھو،پھر چار رکعات اور پڑھتے،تم ان کی عمدگی اور طوالت کے متعلق نہ پوچھو ۔پھر تین رکعتیں(وتر)ادا فرماتے۔میں نے عرض کیا: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ وتر ادا کرنے سے پہلے آرام فرما ہوتے ہیں؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا۔‘‘
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْھَا قَالَتْ:مَا كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَزِيْدُ ¬ فِيْ رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ ¬ عَلٰى اِحْدَى عَشَرَةَ رَكْعَةً:يُصَلِّي اَرْبَعًا فَلَا تَسْاَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي اَرْبَعًا فَلَا تَسْاَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّيْ ثَلاثاً.فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَتنَامُ قَبْلَ اَنْ تُوْتِرَ؟ فَقَالَ:يَا عَائِشَةُ اِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِيْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1172 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے پہلے حصہ میں آرام فرماتے اور آخری حصےمیں نماز کے لئےکھڑے ہوتے ۔
عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْھَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ يَنَامُ اَوَّلَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ آخِرَهُ فَيُصَلِّيْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1173 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھی آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسلسل کھڑے رہے ،یہاں تک کہ میں نے ایک نا مناسب بات کا اِرادہ کیا۔پوچھا گیا: آپ نے کیا ارادہ کیاتھا؟کہتے ہیں :میں نے چاہا کہ میں بیٹھ جاؤں اور آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ساتھ چھوڑ دوں۔
عَنِِ ابْنِِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَيْلَةً فَلَمْ يَزِلْ قَائِمًا حَتّٰى هَمَمْتُ بِاَمْرٍ سُوْ ءٍقِيْلَ:مَا هَمَمْتَ؟قَالَ:هَمَمْتُ اَنْ اَجْلِسَ وَاَدَعَهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1174 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ میں نے ایک راتاﷲعَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا، آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ بقرہشروع فرمائی،میں نے دل میں کہا کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو آیات پر رکوع فرمائیں گے مگر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ پوری سورت پڑھ کر رکوع میں جائیں گے لیکن آپ مسلسل پڑھتے رہے۔میں نے خیال کیا کہ اب آپ رکوع میں جائیں گے لیکن آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سورۂ نِساء شروع فرما دی اور اسے مکمل پڑھا پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سورۂ آلِ عمرانشروع فرما دی اور اسے بھی مکمل پڑھا۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمترتیل اور خوبی کے ساتھ پڑھ رہے تھے، جب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں تسبیح ہوتی تو آپ تسبیح پڑھتے (یعنیسُبْحَانَ اﷲکہتے)اور جب آپ کوئی ایسی آیت پڑھتے جس میں سوال(اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے مانگنے) کا ذکر ہوتا تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسوال فرماتے اور جب آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوئی ایسی آیت پڑھتے جس میںتَعَوُّذْ(یعنی پناہ مانگنے )کا ذکر ہوتا تو آپاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے پناہ مانگتے۔پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رکوع فرمایا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمپڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ کا رکوع بھی قیام کے برابر ہوگیا۔پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سَمِعَ اﷲ لِمَنْ حَمِدَہکہتے ہوئے کھڑے ہوئے اور تقریبًا اتنی دیر کھڑے رہے کہ آپ کا قومہ رکوع کے برابر ہوگیاپھر آپعَلَیْہِ السَّلَامنے سجدہ کیا اورسُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰیپڑھتے رہے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا سجدہ بھی تقریبًا قیام کے برابر تھا۔
عَنْ حُذَيْفَۃَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ:يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِئَةِ ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ:يُصَلِّيْ بِهَا فِيْ رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ:يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَراَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَاَهَا يَقْرَاُ مُتَرَسِّلًا اِذَا مَرَّ بِآيَةِ فِيْهَا تَسْبِيْحٌ سَبَّحَ وَاِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَاَلَ وَاِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍ تَعَوَّذَ ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَقُوْلُ:سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ فَكَانَ رُكُوْعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ:سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ طَوِيْلًا قَرِيْبًا مِمَّا رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ:سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلَى فَكَانَ سَجُوْدُهُ قَرِيْبًا مِنْ قِيَامِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1175 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی:کونسی نماز افضل ہے؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس کا قنوت لمبا ہو ۔‘‘
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سُئِلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَيُّ الصَّلاةِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:طُوْلُ الْقُنُوْتِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1176 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبِن عَمروبن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:اﷲعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسندید ہ نماز حضرت داؤ دعَلَیْہِ السَّلَامکی نماز ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک سب سے زیادہ پسند ید ہ روزے حضرتِ داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے روزے ہیں۔حضرت داؤ دعَلَیْہِ السَّلَامآدھی رات آرام فرماتے،تہائی رات نماز پڑھتےاورپھر رات کے چھٹے حصے میں آرام فرماتےاور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِِ عَمْرِو بنِِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:اَحَبُّ الصَّلَاةِ اِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ وَاَحَبُّ الصِّيَامِ اِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَيَصُوْمُ يَوْمًا وَيُفطِرُ يَوْمًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1177 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ میں نے نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتےسنا:بے شک رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں مسلمان بندہ جباﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی طلب کرتاہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّا سے وہ بھلائی ضرور عطا فرماتاہے اوریہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے ۔
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجـُلٌ مُسْلِمٌ يَسْاَلُ اللَّهَ تَعَالٰى خَيْرًا مِنْ اَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرِةَ اِلَّا اَعْطَاهُ اِيَّاهُ وَذَالِكَ كَلَّ لَيْلَةٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1178 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص رات میں نماز کے لئے کھڑا ہو تو پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھے۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَليَفْتَتِحِ الصَّلَاةَ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1179 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- 1
- 2