Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1163

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بنِِ عَمْرِو بنِِ العَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ:كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ.

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله لا تكن مثل فلان:كان يقوم الليل فترك قيام الليل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے فرماتے ہیں رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اے عبداﷲ!فلاں کی طرح نہ ہو جانا کہ وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے رات کا قیام ترک کر دیا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کی مذمت کی گئی ہے کہ انسان کوئی نیک کام شروع کرے اور پھر چند دن بعد اس کام کو چھوڑ دے ،اسی وجہ سے فرمایا گیا کہ انسان کو وہ ہی نیکی اختیار کرنی چاہیےجو ہمیشگی کے ساتھ ہو سکے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:’’یعنی اس خصلت میں فلاں کی طرح نہ ہوجانا کہ وہ رات کے کسی حصے میں نمازتہجد پڑھتا تھا پھر بغیر کسی عذر کے اسے چھوڑ دیاتو جس چیز کو اس نے اپنے ذمہ لیا تھا وہ اس پر ثابت قدم نہ رہا۔حدیثِ پاک میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت کو چھوڑنا اوراپنی عادت کی طرف لوٹنا ایسا ہی ہے جیسے سفر سے الٹے پاؤں واپس لوٹنا اورزیادتی کے بجائے کمی کی طرف آنا۔‘‘نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنامستحب ہے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’رات میں قیام کرنا واجب نہیں ہےکیونکہ اگر واجب ہوتا توسرکارمدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمشب بیداری چھوڑنے والے کے لئے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ فرماتے بلکہ اس کی مذمت بھی فرماتے۔کمی بیشی کے بغیر کسی نیک کام پر ہمیشگی اختیار کرنا مستحب ہے۔حدیثِ مذکور میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو نفلی عبادت کا عادی ہو پھربلاعُذر اسے ترک کر دے تو یہ مکروہ ہے۔‘‘تہجد گزار کاتہجد چھوڑنا بُرا ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتےہیں:’’بِلا عذر محض سُستی کی وجہ سے تہجد گزار کوتہجد چھوڑنا بہت بُراہے۔اَشِعَّۃُاللَّمْعَاتمیں ہےکہ عبداﷲابنِ عَمْرورَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُتمام رات عبادت کرتے تھے ان کے والد اس سے منع کرتے تھے مگر نہ مانتے تھے چنانچہ ان کے والد نے بارگاہِ رسالت میں ان کی شکایت کی تب حضورِ انورصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنےیہ ارشادفرمایا۔مقصد یہ ہے کہ تم سے یہ عبادت نِبھ نہ سکے گی اور تم اصل تہجد بھی چھوڑ بیٹھو گے۔‘‘مدنی گلدستہ’’ عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہاور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نمازِ تہجد کی عظمت و فضیلت کے لئے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبذاتِ خود اپنی شہزادی حضرت سَیِّدَتُنَا فاطمہ زَہرا اور حضرت سَیِّدُنَا علیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو جگانے ان کے گھر تشریف لے گئے۔
(2) تہجد پڑھنے والا اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اچھا آدمی ہونے کی صفت سے موصوف کیا جائے۔
(3) کمی بیشی کے بغیر نیک کا م پر ہمیشگی اختیارکرنامستحب ہے۔
(4) نفلی عبادت کے عادی شخص کو بلاعذرنفلی عبادت چھوڑ دینا مکروہ ہے۔
(5) کسی عذرکی وجہ سے اگر کبھی نفلی عبادت ترک ہو جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نماز ِتہجد پابندی سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1163