Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1172

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْھَا قَالَتْ:مَا كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَزِيْدُ ¬ فِيْ رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ ¬ عَلٰى اِحْدَى عَشَرَةَ رَكْعَةً:يُصَلِّي اَرْبَعًا فَلَا تَسْاَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي اَرْبَعًا فَلَا تَسْاَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُوْلِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّيْ ثَلاثاً.فَقُلْتُ:يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَتنَامُ قَبْلَ اَنْ تُوْتِرَ؟ فَقَالَ:يَا عَائِشَةُ اِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلَا يَنَامُ قَلْبِيْ.

عن عائشۃ رضی اﷲ عنھا قالت:ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد ¬ في رمضان ولا في غيره ¬ على احدى عشرة ركعة:يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن ثم يصلي ثلاثا.فقلت:يا رسول الله اتنام قبل ان توتر؟ فقال:يا عائشة ان عيني تنامان ولا ينام قلبي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:حضورنبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان میں یا اس کے علاوہ (رات میں)گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھا کرتے تھے،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچار رکعات پڑھتے، تم ان کی عمدگی اور طوالت کا نہ پوچھو،پھر چار رکعات اور پڑھتے،تم ان کی عمدگی اور طوالت کے متعلق نہ پوچھو ۔پھر تین رکعتیں(وتر)ادا فرماتے۔میں نے عرض کیا: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ وتر ادا کرنے سے پہلے آرام فرما ہوتے ہیں؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’اے عائشہ ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل نہیں سوتا۔‘‘

شرح حدیث

نمازِتہجد کی رکعات :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتہجد کی نماز کو طوالت اور عمدگی کے ساتھ چار چار رکعات میں ادا فرماتے جبکہ اسی باب کی حدیث نمبر1168اور1169میں گزرا ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتہجد کی نماز دو دو رکعات میں ادا فرماتے۔عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تہجد کی نماز کی رکعات میں اختلاف ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکتنی رکعات ادا فرماتے اور کس طرح ادا فرماتے حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمچار رکعات پڑھتے تھے ،یہ حدیث مجمل ہے اور ابواب الوتر میں حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکی حدیث میں اس کی تفصیل ہے۔ وہ حدیث یہ ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات میں گیارہ رکعات وتر کے ساتھ ادا فرماتے اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے(گویا چار رکعات نماز دو سلام کے ساتھ ادا فرماتے)۔نیز اسی حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’میری آنکھ سوتی ہے دل نہیں سوتا‘‘یہ انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ اسی لئے حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکا خواب وحی ہوتا ہے کیونکہ وہ دل کے سونے میں تمام لوگوں سے ممتاز ہوتے ہیں اور آنکھوں کے سونے میں تمام لوگوں کے برابر۔حضرت سَیِّدُنا ابنِ عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا:نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسو گئے حتّٰی کہ انہوں نے آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خراٹوں کی آوازسنی ،پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔حضرت عکرمہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممحفوظ تھے۔اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنیند سے اٹھ کر وضو فرمایا کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہر نماز کے لیے وضو فرماتے تھے اور یہ بعید نہیں کہ جب نیند آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قلب پرغالب آ جائے تو آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّموضو فرمائیں اور یہ بہت نادر ہے جیسا کہ ایک سفر میں فجر کی نماز کے وقت آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قلب پر نیند غالب آگئی(اور اس میں حکمت یہ تھی ) کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی امت کو سکھائیں کہ نماز کا وقت نکلنے کی وجہ سے نماز ساقط نہیں ہوتی(اس نماز کی قضا پڑھی جاتی ہے ) خواہ نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو یا بھولنے کی وجہ سے۔مدنی گلدستہ’’سجدہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخلوت میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کا شکر ادا کرنے اور اپنے رب تعالیٰ سےمُناجات کرنے کے لئے طویل سجدہ کرتے تھے۔
(2) حضرت سَیِّدُنا ابنِ زبیر
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُدیر تک سجدہ میں پڑے رہتے تھےحتّٰی کہ چڑیاں آکر ان کی کمر پر بیٹھ جاتیں۔
(3) سجدہ
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سامنے عاجزی واِنکساری کرنے کا بہت بلیغ حال ہے۔
(4) انبیائے کرام کی آنکھیں سوتی ہیں، دل نہیں سوتا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں عمدگی اور طوالت کے ساتھ شب بیداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1172