Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1170

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَظُنَّ اَنْ لَّا يَصُوْمَ مِنْهُ وَيَصُوْمُ حَتَّى نَظُنَّ اَنْ لَّا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا تَشَاءُ اَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا اِلَّا رَاَيْتَهُ وَلَا نَائِمًا اِلَّا رَاَيْتَهُ.

عن انس رضي الله عنه قال:كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفطر من الشهر حتى نظن ان لا يصوم منه ويصوم حتى نظن ان لا يفطر منه شيئا وكان لا تشاء ان تراه من الليل مصليا الا رايته ولا نائما الا رايته.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناانسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی مہینے اس قدر روزے ترک فرما دیتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ شاید اب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس مہینے میں روزے نہیں رکھیں گے اور کبھی اس قدر(مسلسل)روزے رکھتے کہ ہمیں گمان ہوتا کہ اب آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمروزہ نہیں چھوڑیں گے اور تم رات کے وقت نماز پڑھتا دیکھنا چاہتے تو ایسے ہی پاتے اور آرام فرما دیکھنا چاہتے توایسے ہی پاتے ۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نفلی روزے اور رات کی نماز کے معمول کو بیان کیا گیا ہے کہ نفلی روزوں میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا معمول یہ تھا کہ رمضان کے علاوہ بقیہ ماہ میں کچھ دن روزے رکھتے اور کچھ دن ترک فرما دیتےیعنی مسلسل پورے پورے مہینے کا روزہ نہ رکھتے جبکہ رات کی نماز میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کے کسی بھی حصے میں نماز ادا فرماتے کوئی وقت مخصوص نہ تھا ۔فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مسلسل پورے مہینے کا سوائے رمضان کے کسی مہینے روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ کوئی مہینہ روزے سے خالی رہتا ۔یہی قیام لیل کا حال تھا نہ پوری رات قیام فرماتے اور نہ کوئی رات قیام سے خالی رہتی ، اس کا وقت مقرر نہ تھا۔‘‘مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمرمضان شریف کے سوا کسی مہینہ میں سارا ماہ روزے نہ رکھتے تھے بلکہ کچھ تاریخوں میں مسلسل روزے اور کچھ مسلسل افطار۔خیال رہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے روزۂ داؤدی کی تعریف فرمائی یعنی ہمیشہ ایک دن روزہ ایک دن افطار مگر خود اپنا یہ عمل ہے۔معلوم ہوا کہ روزۂ داؤ دی سنتِ قولی ہے اور اس طرح روزے سنتِ فعلی اس کا ثواب زیادہ اس عمل کا قرب زیادہ جیسے بعد وتر نفل کھڑے ہو کر پڑھنے کا ثواب زیادہ بیٹھ کر پڑھنے کا قرب زیادہ کہ یہ عملی ہے۔مزید فرماتے ہیں :عائشہ صدیقہ کی وہ روایت کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسارے شعبان کے روزے رکھتے تھے اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہاں سارے ماہ سے اکثر مراد ہےیعنی قریباً سارا مہینہ۔(تم رات کے وقت نماز پڑھتا دیکھنا چاہتے تو ایسے ہی پاتے اور آرام فرما دیکھنا چاہتے تو اسی صورت میں دیکھتے۔)یعنی نہ تمام رات سوتے تھے نہ تمام رات جاگتے تھے اول رات سوتے اور آخر رات جاگتے اور بعدِ تہجد پھر سوجاتے۔مدنی گلدستہ’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) تہجد کی کم سے کم دو رکعتیں اورحضورِ اقدس
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمسےآٹھ تک ثابت ہیں۔
(2) نفلی عبادت کرنے میں اپنی طاقت و ہمت کا لحاظ رکھنا چاہیے کہ جتنی عبادت آسانی سے ہو سکے اتنی ہی کی جائے ۔
(3) حضور نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا ماہ روزے نہ رکھتے بلکہ کچھ دن مسلسل روزے رکھتے اور کچھ دن مسلسل افطار۔
(4) نمازِتہجد کےلیے کوئی وقت مخصوص نہیں ہے رات کے کسی بھی حصے میں پڑھی جا سکتی ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہر ہر ادا پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1170