Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1184

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ اَبِي سَعِيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِذَا اَيْقَظَ الرَّجُلُ اَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا اَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيْعًاكُتِبَ فِي الذَّاكِرِيْنَ وَالذَّكِرَاتِ.

عن ابي هريرة وعن ابي سعيد رضي الله عنهما قالا:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا ايقظ الرجل اهله من الليل فصليا او صلى ركعتين جميعاكتب في الذاكرين والذكرات.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ اورحضرت سَیِّدُنا ابوسعیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جب کوئی شخص رات میں اپنے گھر والوں کو جگائے اور وہ دونوں دورکعت نماز ادا کریں یا دونوں مل کر دو رکعتیں ادا کریں تو انہیں ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں شمار کیا جائے گا۔“

شرح حدیث

مصطفےٰ کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی دعا:مذکورہ دونوں احادیث میں رات میں نماز کے لئے خود بھی اٹھنے اور گھر والوں کو بھی اٹھانے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور فرمایا کہ ایسے شوہر و زوجہ پراﷲ عَزَّ وَجَلَّرحم فرماتا ہے جو خود بھی رات میں نماز کے لئے اٹھے اور دوسرے کو بھی جگائے۔ حدیثِ پاک میں بیوی کا شوہر کے منہ پر پانی چھڑک کر اٹھانے کا ذِکر ہے۔ اس بارے میںمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: بیوی کا یہ پانی چھڑکنا خاوند کی نافرمانی یا اس کی بے ادبی نہیں بلکہ اسے نیکی کی رغبت دینا اور اس پر امداد کرنا ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪- ﴾(پ۶،المائدہ:۲)(ترجمۂ کنزالایمان:اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔)اس سے معلوم ہوا کہ کسی سے جبرًا نیکی کرانا ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے۔خیال رہے کہ لوگ عوام کی بزرگوں کی مشائخ کی دعا لینے کے لیے بڑے بڑے پاپڑ بیلتے ہیں۔دوستو اگر جنابِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی دعا لینی ہے تو خود بھی تہجد پڑھو اور اپنی بیویوں کو بھی پڑھاؤ۔بعض روایات میں ہے کہ حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا:اﷲاس جوڑے کو ہرا بھرا رکھے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کو نماز کیلئے جگانے میں پانی چھڑکنے کا ذِکر ہے، واضح رہے کہ میاں بیوی یہ عمل کرنے سے پہلے ایک دوسرے کی طبیعت کا بھی لحاظ رکھیں کہ طبیعتوں کے فرق کی وجہ سے میاں بیوی میں اس عمل کے سبب جھگڑے کا بھی اندیشہ ہے۔
تہجد کی برکت سے پوری رات عبادت کا ثواب!دوسری حدیثِ پاک میں فرمایاگیا:جب کوئی شخص رات میں اپنے گھر والوں کو جگائے اور وہ دونوں دو رکعت نماز ادا کریں،یا دونوں مل کر دو رکعتیں ادا کریں تو انہیں ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں شمار کیا جائےگا۔یعنی تہجد کی دورکعتیں پڑھنے کی برکت سے تمام رات کی عبادت کا ثواب ملتا ہےاوراس وقت تھوڑے ذکر کی برکت سے انسان ہمیشہ ذکر کرنے والوں کے زُمرے میں آجاتا ہے۔ حدیث شریف میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے :﴿ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(۳۵) ﴾(پ۲۲،الاحزاب:۳۵)”ترجمۂ کنزالایمان:اوراﷲکو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لئےاﷲنے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔“مدنی گلدستہ’’نماز ‘‘کے4حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس میاں بیوی پررحم فرماتا ہے جو رات میں ایک دوسرے کو نماز کے لئے جگاتے ہیں۔
(2) شوہر و زوجہ کا ایک دوسرے کو نماز کے لئے جگانے کی نیت سے منہ پر پانی چِھڑکنا بے ادبی نہیں بلکہ نیکی پر مدد ہےالبتہ اس عمل میں دونوں ایک دوسرے کی طبیعت کا بھی لحاظ رکھیں ۔
(3) نمازِتہجد پڑھنے والے کو پوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
(4) رات کے وقت تھوڑے ذکر کی برکت سے انسان ہمیشہ ذکر کرنے والوں کے زُمرے میں آجاتا ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں خود نمازِتہجد پڑھنے اور گھر والوں کوبھی اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1184