Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1176

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:سُئِلَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اَيُّ الصَّلاةِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:طُوْلُ الْقُنُوْتِ.

عن جابر رضي الله عنه قال:سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم:اي الصلاة افضل؟ قال:طول القنوت.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی:کونسی نماز افضل ہے؟آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس کا قنوت لمبا ہو ۔‘‘

شرح حدیث

کثرتِ رکوع و سجود افضل ہیں یا طویل قیام؟’’کون سی نماز افضل ہے؟‘‘اس کے تحتمُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی نماز کا کون سا رکن یا کون سی صفت افضل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ارکانِ نماز آپس میں یکساں نہیں۔(آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جس کاقنوت لمبا ہو۔)قنوت کے معنیٰ اطاعت، عاجزی، نماز،دعا، خاموشی اور قیام ہے۔یہاں یا عاجزی یا خشوع مراد ہے یا قیام۔ دوسرے معنیٰ (یعنی قیام)زیادہ ظاہر ہیں۔خیال رہے کہ بعض کے نزدیک سجدہ افضل ہے اور بعض کے ہاں قیام افضل، بعض کے خیال میں رات کی نماز میں لمبا قیام افضل اور دن کی نماز میں زیادہ سجدے بہترمگرامام صاحب (امام اعظم ابو حنیفہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ)کے یہاں لمبا قیام بہتر ہے کیونکہ اس میں مشقت اور خدمت زیادہ ہے یعنی اگر ایک گھنٹہ نوافل پڑھنے ہیں تو بجائے چھوٹی بیس رکعتوں کےلمبی چار رکعتیں پڑھے۔یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے جن روایتوں میں زیادتیٔ سجدہ کو افضل کہا گیا ہے وہاں کوئی خاص سبب ہے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1176