Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1167

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ وَاَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيْضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ .

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:افضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل .

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:’’رمضان کے بعد سب سے افضل روزےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہینے محرم کے ہیں اور فرض نمازکے بعد سب سے افضل نمازرات میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں ایک یہ کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مہینے محرم کے ہیں، دوسری یہ کہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل رات میں پڑھی جانے والی نماز ہے ،دونوں باتوں کی وضاحت کرتے ہوئے مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ محرم سے مُراد عاشورہ کا دن ہے نہ کہ سارا ماہِ محرم ورنہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمشعبان کے روزے زیادہ رکھا کرتے۔(فرض نمازکے بعد سب سے افضل رات میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔)فرض سے مراد نماز پنج گانہ ہے مع سنن مؤکدہ اور وتر کےاور رات کی نماز سے مرادتہجد ہے یعنی فرائض وتر اورسُنَنِ مُؤکَّدہ کے بعد درجہ نمازِ تہجد کاہے کیوں نہ ہو کہ اس نماز میں مشقت بھی زیادہ ہے اور خصوصی حضور(حاضررہنا ومتوجہ ہونا) بھی غالب،یہ نماز حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر فرض تھی۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿ وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ ﴾(پ۱۵،بنی اسرائیل:۷۹)(ترجمۂ کنزالایمان:اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمہارے لئے زیادہ ہے۔)ربّ تعالیٰ نے تہجد پڑھنے والوں کے بڑے فضائل بیان فرمائے:﴿ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ﴾(پ۲۱،السجدہ:۱۶)(ترجمۂ کنز الایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خوابگاہوں سے)اورفرماتاہے:﴿ وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا ﴾(پ۱۹، الفرقان:۶۴)(ترجمۂکنزالایمان:اور وہ جو رات کاٹتے ہیں اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں۔)وغیرہ۔فقیر کی وصیت ہے کہ ہر مسلمان ہمیشہ تہجد پڑھے اور اس نماز کا ثواب حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بارگاہ میں ہدیہ کردیا کرے بلکہ انہی کی طرف سے ادا کیا جائےاِنْ شَآءَ اﷲ! وہاں سے بہت کچھ ملے گا۔مدنی گلدستہ’’فرض ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ عاشورہ (یعنی دس محرم)کا ہے۔
(2) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپرتہجدکی نمازفرض تھی۔
(3) فرض نمازکے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں فرائض، وتر اورسُنَنِ مُؤکَّدہ کی پابندی کے ساتھ ساتھ نمازِتہجد کی برکتیں حاصل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1167