Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1164

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى اَصْبَحَ قَالَ:ذَاكَ رَجُلٌ بَالَ الشَّيْطَانُ فِيْ اُذُنَيْهِ ¬ اَوْ قَالَ:فِي اُذُنِهِ.

عن ابن مسعود رضي الله عنه قال:ذكر عند النبي صلى الله عليه وسلم رجل نام ليلة حتى اصبح قال:ذاك رجل بال الشيطان في اذنيه ¬ او قال:في اذنه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابنِ مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو رات بھر سوتا ہے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے ۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اس شخص کےدونوں کانوں میں شیطان نے پیشاب کیا ہے۔“ یا فرمایا:”اس کے ایک کان میں شیطان نے پیشاب کیا ہے۔“

شرح حدیث

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’وہ رات بھر سوتا رہتاہے‘‘کی شرح میں فرماتے ہیں:’’ پہلے معنیٰ زیادہ مناسب ہیں کیونکہ صحابہ کرام فجر ہرگز قضا نہ کرتے تھے اور ممکن ہے کسی منافق کا واقعہ ہو جو فجر میں نہ آتا تھا۔معلوم ہوا کہ نمازِ فجر میں نہ جاگنا بڑی نحوست ہے،نیز کوتاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے، غیبت نہیں۔(آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:اس شخص کےکان میں شیطان نے پیشاب کیا ہے ۔)حدیث بالکل ظاہری معنیٰ پر ہے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں۔شیطان کھاتا بھی ہے،پیتا بھی ہے،قے بھی کرتا ہے گوز بھی مارتا ہے لہٰذا پیشاب بھی کرتا ہے چونکہ کان ہی سے اذان کی آواز سنی جاتی ہے اس لیے وہ خبیث غافل کے کان ہی میں موتتا ہے یعنی اسے ذلیل بھی کرتا ہے اور غافل بھی۔خیال رہے کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی کوتاہی کی وجہ سے صبح کو نہ جاگیں۔حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّماور آپ کے صحابہ کا تعریس(یعنی غزوۂ خیبرسے واپسی) کی رات صبح کو نہ جاگنا رب کی طرف سے تھا تاکہ امت کو نمازِ فجر قضا پڑھنے کے احکام معلوم ہوں۔شیطان کے پیشاب کرنے کی حقیقت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:شیطان کے پیشاب کرنے کے معنیٰ میں اختلاف ہے ۔ کہا گیا ہے کہ وہ حقیقت میں ایسا کرتا ہے ۔علامہ قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: شیطان کے پیشاب کرنے کی حقیقت سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کیو نکہ ایسا ہونا ناممکن نہیں اورجب یہ بات ثابت ہے کہ شیطان کھاتا پیتا اور نکاح کرتا ہےتو اس کے پیشاب کرنے سے بھی کوئی چیز مانع نہیں ہے ۔علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں :شیطان کا پیشاب کرنا یہ مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ جس شخص کی نیند گہری ہو اور وہ نماز سے غافل ہو ایسے شخص کے حال کو اُس شخص کے حال سے تشبیہ دی گئی ہے جس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہوجس سے اُس کا سننا دشوار ہو جاتا ہے ۔ امام طحاویرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: شیطان کا اس کے کان میں پیشاب کرنا یہ اس سے اِستعارہ ہے کہ شیطان اس پر حکومت کرتا ہے اور وہ شخص شیطان کی اطاعت کرتا ہے۔
علامہ تورپشتی
رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :یہ بھی احتمال ہوسکتا ہے کہ پیشاب کرنے سے مراد یہ ہو کہ شیطان اس کے کانوں میں باطل باتوں کو بھر دیتا ہے اور حق بات(یعنی اذان) سننے سے اس کے کانوں میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے ۔بعض علما کہتے ہیں :اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسے بے نمازی کی توہین کرتا ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کانوں ہی کو کیوں خاص کیا گیا ہے حالانکہ آنکھوں کا ذکر زیادہ مناسب تھا۔ جواب:کانوں کو اس لئے خاص کیا گیا کیونکہ یہ سننے کی جگہ ہیں جب یہ مشغول ہوں گے تو جلد بیداری نہ ہوسکے گی۔مدنی گلدستہ’’فجر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) فجر کی نماز سے غافل ہوکر رات سے صبح تک سونے والے کے کان میں شیطان پیشاب کر دیتا ہے۔
(2)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے حقوق میں سُستی کا نتیجہ یہ ہے کہ شیطان کو انسان پر پورا قابو مل جاتا ہے ۔
(3) کو تاہی کرنے والوں کی شکایت اصلاح کی غرض سے کرنا جائز ہے اور یہ غیبت نہیں کہلائے گی ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے والے نیک لوگوں میں شامل فرمائے اور صبح جلدی اٹھنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1164