Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1166

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن عَبْدِ اللَّهِ بْنِِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اَيُّهَا النَّاسُ اَفْشُوا السَّلَامَ وَاَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوْا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ .

عن عبد الله بن سلام رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:ايها الناس افشوا السلام واطعموا الطعام وصلوا بالليل والناس نيام تدخلوا الجنة بسلام .

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن سلامرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے لوگو!سلام کو عام کرو اور محتاجوں کو کھاناکھلاؤ اور صلۂ رحمی اختیا رکرو اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تونماز پڑھا کرو جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں چار کاموں کی بجا آوری پر جنت میں سلامتی کے ساتھ داخلے کی خوشخبری دی گئی ہے وہ چار باتیں یہ ہیں:(1)سلام عام کرنا (2)محتاجوں کو کھانا کھلانا (3) صلہ رحمی کرنا (4)شب بیداری کرنا۔پہلی تین چیزوں کاتعلق معاشرتی زندگی سے ہے جبکہ چوتھی کا تعلق اپنی نجی وذاتی زندگی سے ہےچونکہ یہ باب شب بیداری کے بارے میں ہے لہٰذا یہاں باب کی مناسبت سے مختصر شرح کی جائے گی مزید شرح کے لئے فیضان ریاض الصالحین، جلد6،باب نمبر131،حدیث نمبر 849 اور اس کی شرح کا مطالعہ کیجئے۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’یہاں نماز سے تہجد مراد ہے یا مُطلق رات میں نماز ادا کرناکیونکہ نمازی نرم بستر اور نیند کی لذت سے خود کو محروم کر کے اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہوتا ہے محضاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے اسے یہ انعام دیا گیا ہے کہ عذابِ قبر سے محفوظ کر کے جنت میں داخل کیا جائے گا ،مذکورہ چاروں کام کرنے والے کواِبتدا ءً ہی دخولِ جنت کی بشارت دی گئی ہے ۔‘‘لوگوں کے آرام کے وقت نماز پڑھنا:نبی مکرّم،نورِمُجسّم،شافعِ اُمَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’بے شک!جنت میں کچھ ایسے شاندار محلّات ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے وہ محلات ان کے لئےتیار فرمائے ہیں جومحتاجوں کو کھانا کھلاتے،سلام عام کرتے اور رات کولوگوں کے آرام کے وقت نماز پڑھتے ہیں۔‘‘
امیرالمومنین حضرتِ سَیِّدُنا علی المرتضیٰ شیرِِخدا
کَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’بے شک جنت میں ایک درخت ہے جس کی شاخوں سے کپڑوں کے نئے جوڑے نکلتے ہیں۔اس کی جڑوں سے زین پہنے ہوئے سونے کے ایسے گھوڑے نکلتے ہیں جن کی لگامیں موتی اوریاقوت کی ہوتی ہیں۔ وہ پیشاب وپاخانہ نہیں کرتے ،ان کے پَر ہوتے ہیں۔وہ حدِ نگا ہ پر قدم رکھتے ہیں اور اہلِ جنت جہاں چاہیں گے وہ ان کو لے کر اڑیں گے۔ نچلے درجے والے عرض کریں گے:اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!ان لوگوں کو یہ بلند درجہ کیسے ملا ؟ ارشاد ہوگا : یہ رات کو نماز پڑھا کرتے تھے جبکہ تم سو جایا کرتے تھے، یہ دن میں روزہ رکھتے تھے جبکہ تم کھایا کرتے تھے اوریہ راہِ خدا میں جہاد کرتے تھے جبکہ تم راہِ فرار اختیار کرتے تھے ۔“مدنی گلدستہ’’ جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوناچاہے اسے چاہیے کہ سلام عام کرے،لوگوں کو کھانا کھلائے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اوررات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو شب بیداری کرے ۔
(2)شب بیداری کرنے والے،دن میں روزہ رکھنے والے اور راہِ خدا میں جہاد کرنے والے جنت میں ایسے گھوڑوں پر سوار ہوں گے جن کی لگامیں موتی اور یاقوت کی ہوں گی وہ انہیں لے کر اُڑیں گے جہاں یہ چاہیں گے۔(3)جنت کے بلند وبالا محلات جن میں سے آرپار نظرآتاہے ان خوش نصیبوں کے لئے ہیں جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں ،سلام عام کرتے ہیں او ر نمازِ تہجد ادا کرتے ہیں ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں سلام عام کرنے،لوگوں کو کھانا کھلانے،صلہ رحمی اختیار کرنے اورشب بیداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1166