Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1186

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْاٰنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُوْلُ فَلْيضْطَجِعْ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذا قام احدكم من الليل فاستعجم القران على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی رات کو قیام کے لئے اٹھے اور اس کی زبان پرقرآنِ پاک کی ادائیگی دشوار ہو اور اسے پتا نہ چلے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔‘‘

شرح حدیث

اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیث مبارکہ میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اگر رات میں نیند کا غلبہ ہو اور قرآنِ پاک کی ادائیگی زبان پر دشوار ہو تو ایسی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے اس کی وجہ حدیثِ پاک میں یہ بتائی گئی کہ ممکن ہے غلبہ نیند کی وجہ سے انسان کو پتا نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور بجائے اپنے لئے استغفار طلب کرنے کے اپنے لئے بد دعا کر بیٹھے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’معلوم ہوا کہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے کہ جس کی وجہ آگے آرہی ہے۔مثلًا اونگھتے ہوئے بجائےاِغْفِرْلِیْکےاِعْفِرْلِیْکہہ جائے غفر کے معنیٰ ہیں بخشا،عفر کے معنی ہیں مٹی میں ملانا ،ذلیل و خوار کرنا اور بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں کہ جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے اس لئے بہت احتیاط چاہیے۔خیال رہے کہ بعض دفعہ مقتدی امام کے پیچھے اونگھ جاتے ہیں انہیں منہ دھو کر کھڑا ہونا چاہیے مگر ا س اونگھ کی وجہ سے نماز باجماعت نہ چھوڑنی چاہیے،یہاں تہجد وغیرہ نوافل کے احکام بیان ہورہے ہیں۔‘‘مدنی گلدستہ’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اونگھتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ و ممنوع ہے۔
(2) اونگھتے ہوئے اور نیند کے غلبہ کی حالت میں نماز پڑھنا اس لئے ممنوع ہے کہ ممکن ہے غلبۂ نیند کی وجہ سے انسان کو پتا نہ چلے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور بجائے اپنے لئے استغفار طلب کرنے کے اپنے لئے بد دعا کر بیٹھے۔
(3) بعض ساعتیں قبولیت کی ہوتی ہیں کہ جو زبان سے نکلے وہ ہوجاتا ہے اس لئے خود کو اور دوسروں کو بددعائیں دینے سے بچے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں تہجد گزار بنائے اور شب بیداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1186