Main Icon

باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1178

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجـُلٌ مُسْلِمٌ يَسْاَلُ اللَّهَ تَعَالٰى خَيْرًا مِنْ اَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرِةَ اِلَّا اَعْطَاهُ اِيَّاهُ وَذَالِكَ كَلَّ لَيْلَةٍ.

عن جابر رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:ان في الليل لساعة لا يوافقها رجـل مسلم يسال الله تعالى خيرا من امر الدنيا والآخرة الا اعطاه اياه وذالك كل ليلة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ میں نے نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتےسنا:بے شک رات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس میں مسلمان بندہ جباﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی طلب کرتاہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّا سے وہ بھلائی ضرور عطا فرماتاہے اوریہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے ۔

شرح حدیث

رات میں قبولیت کا وقت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں رات میں قبولیت کی گھڑی کا ذکر ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ رات میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں مسلمان بندہ جباﷲعَزَّ وَجَلَّسے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی طلب کرتاہے تواﷲعَزَّ وَجَلَّا سے وہ بھلائی ضرور عطا فرماتاہے اوریہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے۔ مرآۃ المناجیح میں ہے:بعض علما نے فرمایا کہ روزانہ شب کی یہ ساعتِ قبولیت پوشید ہ ہے جیسے جمعہ کی ساعت مگر حق یہ ہے کہ پوشیدہ نہیں گزشتہ حدیثوں میں بتادی گئی ہے یعنی رات کا آخری تہائی خصوصًا اس تہائی کا آخری حصہ جو ساری رات کا آخری چھٹا حصہ ہے جو صبحِ صادق سےمُتَّصِل ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اس وقت مومن کی دعا قبول ہوتی ہے نہ کہ کافر کی اگر قبولیت چاہتے ہو تو ایمان کامل کرو۔رات دن سے افضل ہے :دلیل الفالحین میں ہے:’’ رات دن سے افضل ہے کیونکہ تجلیاتِ الٰہیہ ہر رات میں ہوتی ہیں کسی ایک رات کے ساتھ خاص نہیں۔بخلاف دن کے کہ دن کی تجلیات جمعہ کے ساتھ خاص ہیں۔‘‘بخشش کے جھونکے:احیاء العلوم میں ہے:ایک شاگرد نے اپنے استاذ سے رات دیر تک جاگنے کی شکایت کی اور نیند لانے کی کوئی ترکیب پوچھی تو استاذ نے کہا:’’اے بیٹے!اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے پاس رات اور دن میں بخشش کے کچھ جھونکے ہیں جو بیدار دلوں کو پہنچتے ہیں اور سوئے ہوئے دلوں سے گزر جاتے ہیں ، تم ان جھونکوں کو حاصل کرنے کے در پے رہو۔‘‘شاگرد نے کہا:’’یا سیدی! آپ نے مجھے اس حال میں چھوڑ دیا ہے کہ میں نہ رات کو سو سکتا ہوں نہ دن کو۔‘‘جان لیجئے کہ رات کے وقت ان جھونکوں کی زیادہ امید ہوتی ہے کیونکہقِیَامُ اللَّیْلمیں دل کی صفائی ہوتی اور دنیاوی مشاغل دور ہوتے ہیں ۔رات میں قیام کرنے والوں کا مطلوب اس ساعت کا حصول ہوتا ہے۔یہ ساعت پوری رات میں اس طرح پوشیدہ ہوتی ہے جس طرحلَیْلَۃُالْقَدْرپورے ماہِ رمضان میں پوشیدہ ہوتی ہے یا جس طرح جمعہ کے دن کی ساعت ہے کہ یہ بھی ان بخشش کے جھونکوں میں سے ہے۔مدنی گلدستہ’’نفل‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) ہررات میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس ساعت میں مسلمان بندہ جب
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی طلب کرتاہے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّا سے وہ بھلائی ضرور عطا فرماتاہے۔
(2) رات میں قبوليت كا خاص وقت رات کا آخری چھٹا حصہ ہے جو صبحِ صادق سے ملا ہوتا ہے ۔
(3) رات دن سے افضل ہے کیونکہ تجلیاتِ الٰہیہ ہر رات میں ہوتی ہیں جبکہ دن کی تجلیات جمعہ کے ساتھ خاص ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنے نیک بندوں کے صدقے ہمیں بھی رات میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1178