باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کی نماز کے لئے جب کھڑے ہوتے تو پہلے دو مختصر رکعتیں ادا فرماتے۔

وَعَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيْفَتَيْنِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1180 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ اگرحضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی درد وغیرہ کی وجہ سے رات کی نماز رہ جاتی تو (اس کے بدلے )دن میں بارہ رکعات ادا فرماتے۔

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاقَالَتْ:كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنَ اللَّيْلِ مِنْ وَجْعٍ اَوْ غَيْرِهِ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنَتَي عَشَرَةَ رَكْعَةً.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1181 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُناعمر بن خطابرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جس شخص کا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ سو جانے کی وجہ سے رہ جائے اور وہ فجر اور ظہر کی نماز کے درمیان پڑھ لے تو اس کے لئے وہ ہی ثواب لکھا جاتا ہے جو رات میں پڑھنے کا ثواب ہے۔‘‘

عَنْ عُمَرَ بْنِِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ اَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَاَهُ فِيْمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَاَنَّما قَرَاَهُ مِنَ اللَّيْلِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1182 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر،صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو بیدار ہوکر نماز پڑھتا ہے اور اپنی زوجہ کو نماز کے لئے جگاتاہے اگروہ انکا ر کرتی ہے تو ا س کے چہرے پر پانی چھڑکتا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھتی ہے اور اپنے شوہر کو نماز کے لئے جگاتی ہے اگر وہ انکا ر کرتاہے تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکتی ہے ۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَاَيْقَظَ امْرَاَتَهُ فَاِنْ اَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ رَحِمَ اللَّهُ امَرَاَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَاَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَاِنْ اَبَي نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1183 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ اورحضرت سَیِّدُنا ابوسعیدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جب کوئی شخص رات میں اپنے گھر والوں کو جگائے اور وہ دونوں دورکعت نماز ادا کریں یا دونوں مل کر دو رکعتیں ادا کریں تو انہیں ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں شمار کیا جائے گا۔“

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ وَعَنْ اَبِي سَعِيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اِذَا اَيْقَظَ الرَّجُلُ اَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّيَا اَوْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَمِيْعًاكُتِبَ فِي الذَّاكِرِيْنَ وَالذَّكِرَاتِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1184 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اونگھ آ جائے تو وہ سو جائے یہاں تک کہ اس سے نیند (کااثر)ختم ہو جائے کیونکہ تم میں سے جب کوئی اونگھنے کی حالت میں نماز پڑھتا ہے تو ممکن ہے مغفرت طلب کرنے کی جگہ اپنے آپ کو بددعا دے لے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:اِذَا نَعَسَ اَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتّٰى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّومُ فَاِنَّ اَحَدَكُمْ اِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبَّ نَفْسَهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1185 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی رات کو قیام کے لئے اٹھے اور اس کی زبان پرقرآنِ پاک کی ادائیگی دشوار ہو اور اسے پتا نہ چلے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے لیٹ جانا چاہیے۔‘‘

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِذَا قَامَ اَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْاٰنُ عَلَى لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُوْلُ فَلْيضْطَجِعْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1186 ، باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان