Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1210

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا تُوُ فِّيَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ،وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ،فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَقُوْلُوا لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ اِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى الله. فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لَاُ قَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّ كَاةِ،فَاِنَّ الزَّ كَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللهِ لَوْ مَنَعُوْ نِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّوْنَهُ اِلَى رَسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ.قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ فَوَاللهِ مَا هُوَ اِلَّا اَنْ رَاَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ اَبي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ اَنَّهُ الْحَقُّ.

عن ابی هر يرة رضی اﷲ عنہ قال: لما تو في رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم وكان ابو بكر رضی اﷲ عنہ،وكفر من كفر من العرب،فقال عمر رضی اﷲ عنہ كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: امرت ان اقاتل الناس حتی يقولوا لااله الا الله فمن قالها فقد عصم مني ماله ونفسه الا بحقه، وحسابه على الله. فقال ابو بكر: والله لا قاتلن من فرق بين الصلاة والز كاة،فان الز كاة حق المال والله لو منعو ني عقالا كانوا يؤدونه الى رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم لقاتلتهم علی منعه.قال عمر رضی اﷲ عنہ فوالله ما هو الا ان رايت الله قد شرح صدر ابي بكر للقتال فعرفت انه الحق.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ جب حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاوصال مبارک ہوا اورسیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُخلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ گروہ مرتد ہو گئے۔(سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےان سے جنگ کاارادہ کیاتو)سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:”آپ ان لوگوں سے کیسے جہاد کریں گے؟ جبکہرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتویہ فرمایا ہےکہ مجھےحکم دیا گیاہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک وہلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲنہ کہہ لیں ، توجو یہ کہہ لے گا اس نے اپنا مال اورخون مجھ سےمحفوظ کرلیا سوائے حقِ اسلام کےاوران کا حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّپرہے۔یہ سن کر امیر المؤمنین سیدناصدیقِ اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! جس نے نمازاورزکوٰۃ میں فرق کیا میں اس سے ضرور لڑوں گا یقیناً زکوٰۃ مال کا حق ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگروہ مجھ سےایک رسی بھی ایسی روکیں گےجسے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ میں بطورِ زکوٰۃ دیا کرتے تھے تو میں ضروران سےجہاد کروں گا۔“یہ سن کر حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہنے لگے:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں نے جان لیا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا سینہ جہاد کے لئے کھول دیا ہےاور یہی حق ہے۔“

شرح حدیث

اسلام میں زکوۃکی اہمیت :مفتی امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نِری کلمہ گوئی اسلام کیلئے کافی نہیں، جب تک تمام ضروریاتِ دین کا اقرار نہ کرے اور امیر المومنین فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا بحث کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کے علم میں پہلے یہ بات نہ تھی کہ وہ فرضیت کے منکر ہیں یہ خیال تھا کہ زکوٰۃ دیتے نہیں اس کی وجہ سے گنہگار ہوئے، کا فر تو نہ ہوئے کہ ان پر جہاد قائم کیا جائے، مگر جب معلوم ہوگیا تو فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ وہی حق ہے،جوصدیق نےسمجھااورکیا۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواکہ اسلام میں زکوٰۃ کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔اس کی فرضیت کاانکار کفر ہے اورجو اسے فرض تو مانے مگر شرائط پائی جانے کے باوجود ادا نہ کرے وہ سخت گناہ گار ہے ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بظاہر مال کچھ کم ہوتا نظرآتاہے مگر حقیقتاً مال بڑھتا ہے،جس طرح کنویں سے پانی نکلتا رہے تو وہ جاری رہتاہے اور پانی بڑھتا رہتاہے اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی سے بھی مال میں برکت ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں مال چوری و ڈاکہ زَنی اور دیگر آفات سے محفوظ رہتاہے۔فرمانِ مصطفےٰ
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”اپنے مالوں کی زکوٰۃ دے کر انہیں مضبوط قلعوں میں محفوظ کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقہ و خیرات سے کرو۔“ایک اور جگہ فرمایا:”صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا اور بندہ کسی کاقصور معاف کرے تواﷲ تعالٰیاس کی عزت ہی بڑھاتاہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’شعبان‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) سرکارِدوعالَم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو جب یمن کے لئے روانہ فرمایا تو انہیں غیب کی خبر دیتے ہوئے فرما دیا کہ جب تمہاری واپسی ہوگی تو ہمیں نہ پاؤ گے ۔
(2) درست عقائد کے ساتھ نمازروزے ودیگراعمال صالحہ کی پابندی کامل ایمان کی علامت ہے۔
(3) جوزکوٰۃ کی شرائط پائی جانے کے باوجود زکوٰۃ ادا نہ کرے تو سخت گناہ گار ہے ۔
(4) نِری کلمہ گوئی اسلام کیلئے کافی نہیں، بلکہ تمام ضروریاتِ دین کا اقراربھی ضروری ہے۔
(5) زکوٰۃ سے مال محفوظ رہتاہے اور صدقہ خیرات کرنے سے بیماریاں دور ہوتی ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں زکوٰۃ اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1210