Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1209

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْااَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ،وَاَنَّ مُحَمَّدًا رّسُوْلُ الله وَيُقِيمُواالصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّ كَاةَ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوامِنِّي دِمَآءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَ حِسَابُهُم عَلَى اللهِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدواان لا اله الا الله،وان محمدا رسول الله ويقيمواالصلاة، ويؤتوا الز كاة، فاذا فعلوا ذلك عصموامني دماءهم و اموالهم الا بحق الاسلام و حسابهم على الله.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ گواہی نہ دے دیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں،اورجب تک وہ نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ا دا نہ کریں ۔ اور جب وہ ایسا کرلیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ کرلیں گےمگراسلام کا حق معاف نہ ہوگااور(ان کے باطنی امور کا) حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے۔‘‘

شرح حدیث

زکوٰۃ ایمان کی علامت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں جان و مال کی حفاظت کو تین امور پرموقوف رکھا گیا ہےچونکہ اس زمانۂ مبارکہ میں اسلام میں نئےفرقے نہ بنے تھے کلمہ ونماز اورزکوٰۃ ایمان کی علامت تھے جو ان کا پابند ہوتا اسے مسلمان سمجھا جاتا، اس دور میں کفارہی ان اعمال سے دور رہتے تھے ورنہ ہر مسلمان ان کا پابند تھا ۔اس لئےان تین اعمال کی ادائیگی پرجان و مال کی حفاظت کو موقوف رکھا گیا اور فرمایا گیا کہ جو یہ امور بجالائے گااس کا جان و مال محفوظ ہوجائے گا اس سے جہاد نہ کیا جائے گا چونکہ وہ اب مسلمان ہوگیا اس لئے اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کیا جائے گا،مگراسلام میں جرائم کی جو سزائیں مقررہیں وہ معاف نہ ہوں گی اگر کوئی اسلام لانے کے بعد کسی جرم کا مرتکب ہوا اور اس کا جرم ثابت ہوگیا تو اسے اس کے جرم کی سزادی جائے گی۔اگر کسی نے منافقانہ رَوِش اختیار کی اوراپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنےکے لئےکلمہ بھی پڑھ لیا، نماز وزکوۃ کا بھی پابند ہوگیا مگر دلی طورپر وہ کافرہی ہے تو اس کا معاملہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے خیال بھی جانتاہے ،ہمیں یہی حکم ہے کہ ظاہر پر عمل کرتے ہوئے اسے مسلمان ہی سمجھیں اور اس کے ساتھ مسلمانوں والا سلوک کریں ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1209