Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1207

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِالله رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُوْلُ حَتّٰی دَنَا مِنْ رَّسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِذا هُوَ يَسْئَلُ عَنِ الْاِسْلَام، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، قَالَ:هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَّوَّعَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ،قَالَ:هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ، فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ:وَاللهِ لَا اُزِيْدُ عَلٰی هَذَاوَلَا اَنْقُصُ مِنْهُ،فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ.

عن طلحة بن عبيدالله رضی اﷲ عنہ قال:جاء رجل الى رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم من اهل نجد ثائر الرأس نسمع دوي صوته ولا نفقه ما يقول حتی دنا من رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم فاذا هو يسئل عن الاسلام، فقال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: خمس صلوات فی اليوم والليلة، قال:هل علي غيرهن؟قال:لا،الا ان تطوع فقال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم وصيام شهر رمضان،قال:هل علي غيره؟قال:لا،الا ان تطوع، قال وذكر له رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم الزكاة، فقال: هل علي غيرها؟قال:لا،الا ان تطوع، فادبر الرجل وهو يقول:والله لا ازيد علی هذاولا انقص منه،فقال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: افلح ان صدق.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا طلحہ بنعُبَیدُاﷲ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نجد کا ایک شخص حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئےتھے، ہمیں اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنائی دیتی تھی مگرسمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کہہ رہاہے۔ پھر وہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب ہوا اوراسلام کے بارے میں پوچھا،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”دن اوررات میں پانچ نمازیں پڑھنا۔“عرض کی:” کیا ان کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر لازم ہے؟“ ارشاد ہوا:’’نہیں، ہاں! نفل پڑھنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے اور ماہ ِرمضان کے روزے رکھنا۔‘‘اس نے عرض کی:” کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پرکوئی روزہ ضروری ہے؟‘‘ فرمایا:”نہیں،مگرنفلی روزہ رکھنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے۔“ راوی کہتے ہیں:پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے زکوٰۃ کے بارے میں بتایا تو اس نے کہا: ”کیا زکوٰۃ کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ مال فرض ہے ؟“ فرمایا:”نہیں ،مگر نفلی صدقہ و خیرات کرنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے۔“پھر وہ یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم میں ان احکام میں کوئی کمی بیشی نہ کروں گا۔“حضورنبی رحمت، مالِک جنتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اگر یہ اپنی بات میں سچا رہا تو کامیاب ہوجائے گا۔“

شرح حدیث

روزے نجات کا ذریعہ ہیں:حدیثِ مذکورمیں نمازِ پنجگانہ،زکوۃاوررمضان کے روزوں کونجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے ان ارکان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔خیال رہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحسبِ موقع سائل کی حالت دیکھ کرجواب ارشاد فرمایا کرتے تھے، لہٰذایہاں ان تین چیزوں کے بیان سے بقیہ احکامِ شرعیہ کی نفی نہیں ہوتی۔شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلوی حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:اگر سوال ہو کہ حدیثِ مذکورمیں نہ تو تمام فرائض وواجبات اورسُنَن کا بیان ہے نہ ہی سب ممنوعات کا تو پھر یہ قول کیسے درست ہوا کہ”میں مذکورہ احکام پر کوئی کمی زیادتی نہ کروں گا؟‘‘اس سوال کے کئی جواب ہیں جن میں سے چند یہ ہیں: *اس وقت جو چیزیں فرض تھیں وہ بیان کر دی گئیں ان کےعلاوہ کوئی اور چیز فرض نہ تھی جسے بیان کیا جاتا۔*یا پھر کمی زیادتی نہ کرنے سے مرادیہ ہے کہ میں فرائض و واجبات تو ادا کروں گا مگرزائد چیزیں مثلاً نوافل وغیرہ نہ پڑھوں گااور بِلا شبہ ایسا بندہ نجات پانے والا ہے اگرچہ سنتوں (یعنی سنتِ مؤکدہ)کے ترک سے اِساءت کا مرتکب ہوگا۔*یاپھر یہاں مشروع چیزوں میں کمی بیشی مراد ہے جیسے نماز کی مقررہ رکعتوں کو کم یا زیادہ کرنا وغیرہ۔*یا پھر یہ شخص کسی قوم کا قاصد تھا اس لئے قسم کھائی کہ میں پیغام پہنچانے میں کوئی کمی بیشی نہ کروں گا۔*ایک جواب یہ ہےکہ یہ حدیث اورطرح بھی مروی ہے جیسا کہ بخاری شریف کی ایک روایت یوں ہےکہ”حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے شریعتِ اسلامیہ سکھائی تو وہ یہ کہتے ہوئے چلا گیاکہ:’’بخدا!جو چیزیںاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے مجھ پرفرض کی ہیں ان میں کمی زیادتی نہ کروں گا۔“تو اس صورت میں اصلاً کوئی اشکال وارد نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1207