Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1208

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًارَضِیَ اﷲ عَنْہُ اِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ:اُدْعُهُمْ اِلٰی شَهَادَةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُوْلُ اللهِ، فَاِنْ هُمْ اَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَاَعْلِمْهُمْ اَنَّ اللهَ تَعَالٰی افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ في كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، َفاِنْ هُمْ اَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَاَعْلِمْهُمْ اَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِهِمْ.

عن ابن عباس رضی اﷲ عنہ ان النبي صلی اﷲ علیہ وسلم بعث معاذارضی اﷲ عنہ الى اليمن فقال:ادعهم الی شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله، فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله تعالی افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة ، فان هم اطاعوا لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم صدقة تؤخذ من اغنيائهم وترد علی فقرائهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو یمن بھیجاتوفرمایا:’’انہیں اس بات کی دعوت دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں توانہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگریہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پرزکوٰۃ فرض کی ہے ،جو ان کے مالداروں سے لے کر انہی کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی۔ ‘‘

شرح حدیث

زکوٰۃ کاعلیحدہ حکم:حدیثِ مذکورمیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےغیر مسلموں کو اسلام کی طرف بلانے کے لئے تین چیزوں کا حکم دیا،توحیدورسالت کااقرار،نمازِ پنجگانہ اورزکوٰۃ۔ توحیدورسالت کے اقرار سے مرادتمام احکامِ اسلامیہ کومانناہے، اگرچہ توحید و رسالت کےضمن میں نمازوزکوٰۃ کا اقرار بھی موجود ہے مگر نماز و زکوٰۃ کی اہمیت وفضیلت کے پیشِ نظر انہیں علیحدہ سے بیان کیا گیا۔ معلوم ہوا کہ اسلام میں نماز و زکوٰۃ کی بہت اہمیت ہے۔
مرآۃ المناجیح میں ہے:حضورِانور
صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَنےحضرت مُعاذکویمن کاگورنربناکربھیجا اور خود بنفسِ نفیس انہیں”ثَنِیَّۃُ الْوَداع“تک پہنچانے گئے،حضرت معاذبحکم سرکار سواری پر تھے اورحضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَپیدل،ان سے جدا ہوتے وقت فرمایا کہ”اب تم میری قبر پر آؤ گے اور مجھے نہ پاؤ گے۔“جس پر حضرت معاذ بہت روئے۔ خیال رہے کہ حضرت معاذ یمن پر جہاد کرنے نہیں جارہے تھے وہ تو پہلے ہی قبضہ میں آچکا تھا بلکہ وہاں کے حاکم بن کر جارہے تھے ۔( اے معاذ!اگراہلِ کتاب توحیدورسالت کا اقرار کرلیں)یعنی جب وہ مسلمان ہوجائیں توانہیں نماز کے احکام سناؤ سکھاؤ،چونکہ اسلام میں سارے احکام سے پہلے نماز کا حکم آیا،نیز یہ عبادتِ بدنی ہے،نیز یہ ہرمسلمان پر فرض ہے اس لئے کلمہ پڑھانے کے بعدہی اس کا ذِکر فرمایا۔(اگر نماز کا بھی اقرار کرلیں تو زکوٰۃکے بارے میں بتاناکہ یہ مالداروں سے لے کرتمہارے ہی فقرا میں تقسیم کی جائے گی )یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوٰۃ وصول کرکے مدینۂ منورہ نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گے کہ تم یہ سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھانے کمانے کے لئے ہے، بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر تمہارے ہی فقرا کو دے دی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1208