- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- حدیث نمبر 1214
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ،وَلَا فِضَّةٍ،لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَااِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَاُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوٰى بِهَاجَنْبُهُ،وَجَبِينُهُ،وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ اُعِيْدَتْ لَهُ فِی يَومٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتّٰی يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَ ى سَبِيْلَهُ،اِمَّا اِلَى الْجَنَّةِ وَ اِمَّا اِلَى النَّارِ. قِيْلَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ فَالْاِبِلُ؟ قَالَ: وَلَا صَاحِبُ اِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَومَ وِرْدِهَا اِلَّا اِذَا كَانَ يَومُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ اَوْفَرَ مَا كَانَتْ،لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصيلًا وَاحِدًا،تَطَؤُهُ بِاَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِاَفْوَاهِهَا كُلَّمَامَرَّ عَلَيْهِ اُوْلَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ اُخْرَاهَا، فِی يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرٰى سَبِيْلَهُ اِمَّا اِلَى الْجَنَّةِ وَاِمَّااِلَى النَّارِ،قِيلَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ:وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا اِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَايَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَاجَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بقُرُوْنِهَا وَتَطَؤُهُ بِاَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مرَّ عَلَيْهِ اُوْلَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ اُخْرَاهَا فِی يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَى سَبِیلَهُ اِمَّااِلَى الْجَنَّةِ وَاِمَّا اِلَى النَّارِ، قِيْلَ: يَارَسُوْلَ اللهِ فالْخَيْلُ؟ قَالَ: الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ:هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ،وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ،وَهِيَ لِرَجُلٍ اَجْرٌ،فَاَمَّا الَّتي هِیَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَارِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلٰی اَهْلِ الْاِسْلاَمِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَاَمَّا الَّتي هِیَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِی سَبِيْلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ في ظُهُورِهَا، وَلَارِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَاَمَّا الَّتي هي لَهُ اَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا في سَبيلِ الله لِاَهْلِ الْاِسْلاَمِ في مَرْجٍ،اَوْرَوْضَةٍ فَمَا اَ كَلَتْ مِنْ ذٰلِكَ الْمَرْ جِ اَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا اَ كَلَتْ حَسَنَاتٌ وكُتِبَ لَهُ عَدَدَ اَرْوَاثِهَا وَاَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ،وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا اَوْ شَرَفَيْنِ اِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ اٰثَارِهَا وَاَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلٰی نَهْرٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَا يُرِ يدُ اَنْ يَّسْقِيهَا اِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ،قِيْلَ:يَارَسُوْلَ اللهِ فالْحُمُرُ؟ قَالَ:مَااُنْزِلَ عَلَيَّ في الْحُمُرِ شَيْءٌ اِلَّا هٰذِهِ الْآيةُ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ:﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)﴾
عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ قال، قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:ما من صاحب ذهب،ولا فضة،لا يؤدي منها حقهاالا اذا كان يوم القيامة صفحت له صفائح من نار، فاحمي عليها في نار جهنم، فيكوى بهاجنبه،وجبينه،وظهره، كلما بردت اعيدت له فی يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتی يقضى بين العباد فير ى سبيله،اما الى الجنة و اما الى النار. قيل:يا رسول الله فالابل؟ قال: ولا صاحب ابل لا يؤدي منها حقها ومن حقها حلبها يوم وردها الا اذا كان يوم القيامة بطح لها بقاع قرقر اوفر ما كانت،لا يفقد منها فصيلا واحدا،تطؤه باخفافها وتعضه بافواهها كلمامر عليه اولاها رد عليه اخراها، فی يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبيله اما الى الجنة واماالى النار،قيل:يا رسول الله فالبقر والغنم؟ قال:ولا صاحب بقر ولا غنم لا يؤدي منها حقها الا اذا كان يوم القيامة، بطح لها بقاع قرقر لايفقد منها شيئا ليس فيها عقصاء، ولاجلحاء، ولا عضباء، تنطحه بقرونها وتطؤه باظلافها، كلما مر عليه اولاها رد عليه اخراها فی يوم كان مقداره خمسين الف سنة حتى يقضى بين العباد فيرى سبیله اماالى الجنة واما الى النار، قيل: يارسول الله فالخيل؟ قال: الخيل ثلاثة:هي لرجل وزر،وهي لرجل ستر،وهي لرجل اجر،فاما التي هی له وزر فرجل ربطهارياء وفخرا ونواء علی اهل الاسلام، فهي له وزر، واما التي هی له ستر، فرجل ربطها فی سبيل الله، ثم لم ينس حق الله في ظهورها، ولارقابها، فهي له ستر، واما التي هي له اجر، فرجل ربطها في سبيل الله لاهل الاسلام في مرج،اوروضة فما ا كلت من ذلك المر ج او الروضة من شيء الا كتب له عدد ما ا كلت حسنات وكتب له عدد ارواثها وابوالها حسنات،ولا تقطع طولها فاستنت شرفا او شرفين الا كتب الله له عدد اثارها وارواثها حسنات، ولا مر بها صاحبها علی نهر ، فشربت منه، ولا ير يد ان يسقيها الا كتب الله له عدد ما شربت حسنات،قيل:يارسول الله فالحمر؟ قال:ماانزل علي في الحمر شيء الا هذه الاية الفاذة الجامعة:﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یره(۷) و من یعمل مثقال ذرة شرا یره(۸)﴾
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس کے پاس سونا، چاندی ہو اور وہ اُن کا حق ادا نہ کرےتو قیامت کے دن سونے چاندی کے تختےبنا کر انہیں جہنم کی آگ میں گرم کرکے اس مالدار کے پہلو ،پیشانی اورپیٹھ کو داغا جائے گا جب وہ ٹھنڈے ہوں گے تو انہیں دوبارہ گرم کیاجائے گااور وہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا ، اسے یہ عذاب دیا جاتا رہے گاحتی کے بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا جنت کی طر ف یا دوزخ کی طرف۔‘‘عرض کی گئی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اور اونٹوں کا کیا معاملہ ہوگا؟‘‘ فرمایا: ’’جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے گا اور پانی پلانے کے دن ان کا دودھ نکال کر ضرورت مندوں کو دینا بھی ان کا حق ہے،توجب وہ قیامت کے دن آئے گا تو ایک چٹیل میدان میں اُسے لِٹا دیاجائے گا پھر اس کے سب اُونٹ لائے جائیں گے وہ اُن میں سے ایک بچہ بھی کم نہ پائے گا اور وہ خوب موٹے تازہ ہوں گے، پھر وہ اُسے اپنے قدموں سے روندیں گے اورمنہ سےکاٹیں گے جب اُس پر سے گزر جائیں گے تو دوبارہ لائے جائیں گے،ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی،اسے یہ عذاب دیا جاتا رہے گایہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیاجائے گا، پھر یہ جنت کی طرف جا ئے گایا جہنم کی طرف۔‘‘عرض کی گئی:” حضور! گائے بکریوں کا کیا معاملہ ہوگا؟“ فرمایا:”جس نے گائے بکریوں کا حق ادا نہ کیا اسے بروزِ قیامت کھلے میدان میں لِٹایا جائے گاپھر اُس کی گائے بکریاں لائی جائیں گی جن میں سے کوئی ایک بھی کم نہ ہوگی، نہ کوئی مڑے سینگ والی ہوگی، نہ بے سینگ والی، نہ ٹوٹے سینگ والی، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور پاؤ ں سے روندیں گی، جب بھی پہلا حصہ گزر جا ئے گا توآخری حصہ لوٹادیا جائے گا یہ معاملہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی حتی کہ بندو ں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا، پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا جنت کی طرف جائے گا یا جہنم کی طرف۔“عرض کی گئی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! گھوڑوں کے بارے میں کیاحکم ہے؟“ ارشاد فرمایا:” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں،کسی کے لئے یہ گناہ کا باعِث ہیں کسی کے لئے آڑ اورکسی کے لئے ثواب،گناہ کا باعث تو وہ ہیں جنہیں ریا،تکبر اوراسلام کی مخالفت کے لئے باندھا گیاہو،آڑ وہ ہیں جنہیں راہِ خدا میں باندھا گیااور پھر ان کی پشتوں اور گردنوں میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے حق کو نہ بھولا گیا، اور باعثِ اجر ثواب وہ گھوڑے ہیں جنہیں اہلِ اسلام کے لئے کسی باغ یا چراہگاہ میں باندھا گیا وہ اس سے کچھ بھی کھائیں گے تو ان کے کھانے کے برابر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی اوران کے گوبر اور پیشاب کے برابر اسے نیکیاں دی جائیں گی اوراگر وہ اپنی رسی توڑکر بھاگیں یا ایک دوٹیلوں پرچڑھ جائیں تو ان کے قدموں اور گوبر کی تعداد کےبرابر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی اور اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر کےپاس لے جائے اوروہ اس سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تو ان کے پینے کی مقدار مالک کو ثواب ملے گا۔“ عرض کی گئی :” گدھوں بارے میں کیا حکم ہے؟“ فرمایا:” گدھوں کے بارے میں کوئی خاص حکم مجھ پرنہیں اتارا گیا،سوائے اِس ایک جامع آیت کے:﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)﴾(پ۳۰،الزلزال:۷،۸)ترجمۂ کنزالایمان:’’توجوایک ذرّہ بھربھلائی کرےاسے دیکھے گا اورجو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔‘‘
شرح حدیث
جہنم کاعذاب بہت سخت ہے:اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمدرضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”اے عزیز ! کیا خدا ورسولعَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان کو یونہی ہنسی ٹَھٹّھا سمجھتا ہے یا پچاس ہزار برس کی مدّت میں یہ جانکاہ مُصیبتیں جھیلنی سہل (آسان)جانتا ہے، ذرا یہیں کی آگ میں ایک آدھ روپیہ گرم کر کے بدن پر رکھ کر دیکھ،پھر کہاں یہ خفیف ( ہلکی ) گرمی، کہاں وہ قہر ِآگ، کہاں یہ ایک ہی روپیہ ،کہاں وہ ساری عمر کا جوڑا ہوا مال، کہاں یہ منٹ بھر کی دیر کہاں وہ ہزاردن برس کی آفت ، کہاں یہ ہلکا سا چہکا ( معمولی سا داغ) کہاں وہ ہڈّیاں توڑ کر پار ہونے ولا غضب۔اﷲتعالیٰ مسلمان کو ہدایت بخشے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ جو مالدار اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا بروزِ قیامت اسے بہت سخت عذاب دیا جائے گا، اس کا جمع کیا ہوا مال وہاں کچھ کام نہ آئے گا بلکہ یہی مال اس کےلئے وبالِ جان بن جائے گا، اسی مال سے اسی کوسزا دی جائے گی ، جی ہاں !جس نے سونے چاندی کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہوگی اس کے پہلو، پیٹھ اور پیشانی کو سونے چاندی سے داغا جائے گا وہ بھی جہنم کی آگ میں گرم کر کے۔ اسی طرح جس نے اپنے جانوروں کی زکوٰۃ ادا نہ کی ہوگی اسے کھلے میدان میں لٹا دیا جائے گا اور وہی جانور اسے اپنے کُھروں سے کچلیں گے اور منہ سےکاٹیں گے ،سارا دن وہ اس درد ناک عذاب میں مبتلا رہے گا،وہ دن کوئی عام دن نہ ہوگابلکہ پچاس ہزار سال کے برابر ہوگا۔پھر اس کے بعد کا معاملہ علیحدہ ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھے اور اپنے غضب سے بچائے۔آمینپیشانی ، پہلو اور پیٹھ کی تخصیص:حدیثِ مذکورمیں بیان ہوا کہ زکوٰۃ نہ دینے والے کےپہلو،پیشانی اور پیٹھ کو جہنمی آگ میں گرم کئے ہوئے سونے چاندی سے داغا جائے گا۔حضرت سیدناابو عبداﷲمحمد بن احمد ابوبکر قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ان تین اعضاءکوخصوصیت سےبیان کرنے کی ایک وجہ تویہ ہے کہ داغنے سے چہرہ بدنما و بدصورت ہو جائے گا اس طرح زکوٰۃ نہ دینے والے کی خوب تشہیر ہوگی اور وہ ذلیل و خوار ہوگا۔پہلو اورپیٹھ میں باقی اعضاء کے مقابلے میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے اس لئے انہیں داغا جائے گا ۔ یہ بھی کہاگیا ہےکہ دنیا میں سائل کو دیکھ کر منہ بگاڑنے اور اس سے چہرہ پھیر لینے کی وجہ سے چہرہ داغا جائے گااور سائل سےپہلو تہی کرنے کی وجہ سےپشت وپہلو کوداغا جائے گا۔ایک قول یہ ہےکہ مال وجاہ طلب کرنے کے جرم میں چہرے کو،فقیروں اورناداروں سے اعراض کرنے کے جرم میں پہلو کواوراﷲ عَزَّ وَجَلَّپر توکل کرنے کے بجائے مال واسباب پر بھروسہ کرنے کے جرم میں پُشت کو داغا جائے گا ۔“زکوٰۃ نہ دینے کے نقصانات:یادرہےکہ جس طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کے بے شمار دینی ودنیوی فوائد وثمرات ہیں اسی طرح زکوۃ ادا نہ کرنے کےبےشمار دِینی ودُنیوی نقصانات اورسخت عذاب کی وعیدیں بھی ہیں۔اِس ضمن میں چندفرامینِ مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمملاحظہ فرمائیے:
(1)”خشکی و تری میں جو مال بھی ضائع ہوا وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے ضائع ہوا۔“(2)”جوقوم زکوٰۃ نہ دےگیاﷲعَزَّ وَجَلَّاسے قحط میں مبتلا فرمائے گا۔“(3)”جب لوگ زکوٰۃ کی ادا ئیگی چھوڑ دیتے ہیں تواﷲ عَزَّ وَجَلَّبارش روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپا ئے نہ ہوں تو آسمان سے پا نی کا ایک قطرہ بھی نہ گرے۔“ (4)”زکوۃ نہ دینے والے پر رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے لعنت فرمائی ہے۔“ (5)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنگنوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی ایک خاتون سے فرمایا:” کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ قیامت کے دناﷲتعالیٰ تمہیں ان کنگنوں کے بدلے آگ کے کنگن پہنا ئے؟“یہ سنتے ہی اس نیک خاتون نے فوراً وہ کنگن اتار دئیے اوررسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے آگےرکھتے ہوئے عرض کی:”آقا!یہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لئے ہیں۔“(6)”جس مال کی زکوٰۃ نہ دی جائے گی بروزِ قِیامت وہ پُرانا خبیث خونخوا ر اَژدہا بن کر اُس کے پیچھے دوڑے گا ، یہ ہاتھ سے روکے گا، وہ ہاتھ چبالے گا، پھر گلے میں طوق بن کر پڑے گا، اس کا مُنہ اپنے مُنہ میں لے کر چبا ئے گا (اور کہے گا)کہ میں ہوں تیرا مال، میں ہُوں تیرا خزانہ پھر اس کاسارا بدن چبا ڈالے گا۔“والْعِیاذُبِاﷲ رَبِّ العٰلَمِیْنمدنی گلدستہ’’زکوٰۃ ادا کرو‘‘کے10حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) زکوٰۃ ادا نہ کرنا سخت کبیرہ گناہ ہے اور زکوٰۃ کا انکار کفر ہے۔
(2) قیامت کا دن مجرموں کے لئے بہت طویل ہوگااورنیکوں کے لئے بہت مختصر۔
(3) زکوٰۃ اور دیگر حقوقِ مالیہ ادا کرنے والا بخل جیسی مذموم صفت سے محفوظ رہتاہے۔
(4) جو قوم زکوٰۃ ادا نہیں کرتی اسے قحط سالی میں مبتلا کردیا جاتاہے اور ان پر برسات روک دی جاتی ہے۔
(5) جانوروں کی زکوٰۃ نہ دینے والوں کو بروزِ قیامت ان کے جانور اپنے کُھروں سے کچلیں گے اورسینگوں سے ماریں گے۔
(6) جس مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی بروزِ قیامت وہ مال خونخوار اژدہا بن کر اپنے مالک کو ڈَسے گا۔
(7) زکوٰۃ نہ دینےوالا ایسا بد نصیب ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس پرلعنت فرمائی ہے۔
(8) زکوٰۃ ادا کرنے والے پر رحمتِ الٰہی کی برسات ہوتی ہے۔
(9) زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریبوں کی مدد ہوتی اورغریب و امیر کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں۔
(10) زکوٰۃ ادا کرنے والے کا مال بڑھتا رہتاہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوش دِلی سےزکوٰۃ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، زکوۃ ادا نہ کرنے کے وبال اور اس کی وعیدوں وعذابات سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1214