- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے،اس بات کی گواہی دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکےسوا کوئی معبودنہیں اورمحمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بندے اور اس کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا،بیتُ اﷲشریف کا حج کرنااوررمضان المبارک کے روزے رکھنا۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰى خَمْسٍ: شَهَادَ ةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ ،وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ،وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ،وَا ِيْتَآءِ الزَّ كٰوةِ،وَحَجِّ البَيْتِ،وَصَوْمِ رَمَضَانَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1206 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا طلحہ بنعُبَیدُاﷲ رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نجد کا ایک شخص حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئےتھے، ہمیں اس کی آواز کی گنگناہٹ تو سنائی دیتی تھی مگرسمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کہہ رہاہے۔ پھر وہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قریب ہوا اوراسلام کے بارے میں پوچھا،آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”دن اوررات میں پانچ نمازیں پڑھنا۔“عرض کی:” کیا ان کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر لازم ہے؟“ ارشاد ہوا:’’نہیں، ہاں! نفل پڑھنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے اور ماہ ِرمضان کے روزے رکھنا۔‘‘اس نے عرض کی:” کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پرکوئی روزہ ضروری ہے؟‘‘ فرمایا:”نہیں،مگرنفلی روزہ رکھنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے۔“ راوی کہتے ہیں:پھرآپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے زکوٰۃ کے بارے میں بتایا تو اس نے کہا: ”کیا زکوٰۃ کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ مال فرض ہے ؟“ فرمایا:”نہیں ،مگر نفلی صدقہ و خیرات کرنا چاہو تو تمہاری مرضی ہے۔“پھر وہ یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم میں ان احکام میں کوئی کمی بیشی نہ کروں گا۔“حضورنبی رحمت، مالِک جنتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اگر یہ اپنی بات میں سچا رہا تو کامیاب ہوجائے گا۔“
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِالله رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:جَاءَ رَجُلٌ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ اَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرُ الرَّأسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُوْلُ حَتّٰی دَنَا مِنْ رَّسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاِذا هُوَ يَسْئَلُ عَنِ الْاِسْلَام، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِی الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، قَالَ:هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَّوَّعَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ،قَالَ:هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ، قَالَ وَذَكَرَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟قَالَ:لَا،اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ، فَاَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ:وَاللهِ لَا اُزِيْدُ عَلٰی هَذَاوَلَا اَنْقُصُ مِنْهُ،فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَفْلَحَ اِنْ صَدَقَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1207 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا ابن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکو یمن بھیجاتوفرمایا:’’انہیں اس بات کی دعوت دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں توانہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگریہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پرزکوٰۃ فرض کی ہے ،جو ان کے مالداروں سے لے کر انہی کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًارَضِیَ اﷲ عَنْہُ اِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ:اُدْعُهُمْ اِلٰی شَهَادَةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنِّي رَسُوْلُ اللهِ، فَاِنْ هُمْ اَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَاَعْلِمْهُمْ اَنَّ اللهَ تَعَالٰی افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ في كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، َفاِنْ هُمْ اَطَاعُوا لِذٰلِكَ فَاَعْلِمْهُمْ اَنَّ اللهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلٰی فُقَرَائِهِمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1208 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ گواہی نہ دے دیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں،اورجب تک وہ نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ا دا نہ کریں ۔ اور جب وہ ایسا کرلیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ کرلیں گےمگراسلام کا حق معاف نہ ہوگااور(ان کے باطنی امور کا) حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے۔‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْااَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ،وَاَنَّ مُحَمَّدًا رّسُوْلُ الله وَيُقِيمُواالصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّ كَاةَ، فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوامِنِّي دِمَآءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَ حِسَابُهُم عَلَى اللهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1209 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ جب حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکاوصال مبارک ہوا اورسیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُخلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ گروہ مرتد ہو گئے۔(سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےان سے جنگ کاارادہ کیاتو)سیدناعمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:”آپ ان لوگوں سے کیسے جہاد کریں گے؟ جبکہرسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےتویہ فرمایا ہےکہ مجھےحکم دیا گیاہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک وہلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲنہ کہہ لیں ، توجو یہ کہہ لے گا اس نے اپنا مال اورخون مجھ سےمحفوظ کرلیا سوائے حقِ اسلام کےاوران کا حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّپرہے۔یہ سن کر امیر المؤمنین سیدناصدیقِ اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! جس نے نمازاورزکوٰۃ میں فرق کیا میں اس سے ضرور لڑوں گا یقیناً زکوٰۃ مال کا حق ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم! اگروہ مجھ سےایک رسی بھی ایسی روکیں گےجسے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانۂ مبارکہ میں بطورِ زکوٰۃ دیا کرتے تھے تو میں ضروران سےجہاد کروں گا۔“یہ سن کر حضرت سیدنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکہنے لگے:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں نے جان لیا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنےحضرت ابوبکرصدیقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا سینہ جہاد کے لئے کھول دیا ہےاور یہی حق ہے۔“
عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: لَمَّا تُوُ فِّيَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ،وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ،فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَقُوْلُوا لَااِلٰهَ اِلَّا اللهُ فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ اِلَّا بِحَقِّهِ، وَحِسَابُهُ عَلَى الله. فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ: وَاللهِ لَاُ قَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّ كَاةِ،فَاِنَّ الزَّ كَاةَ حَقُّ الْمَالِ وَاللهِ لَوْ مَنَعُوْ نِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّوْنَهُ اِلَى رَسُوْلِ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَی مَنْعِهِ.قَالَ عُمَرُ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ فَوَاللهِ مَا هُوَ اِلَّا اَنْ رَاَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ اَبي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ فَعَرَفْتُ اَنَّهُ الْحَقُّ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1210 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا ابوایوبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرعرض کی:’’آقا! کوئی ایساعمل بتائیے جو مجھےجنت میں داخل کر دے؟‘‘ارشادفرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا،نماز قائم کر،زکوٰۃ ادا کراور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کر۔‘‘
عَنْ اَبي ايُّوبَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبِرْ نِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: تَعْبُدُاللهَ وَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْ تِي الزَّ كَاةَ وَتَصِلُ الرَّ حِمَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1211 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ ایک اَعرابی نےبارگاہِ رسالت میں عرض کی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے کوئی ایساعمل بتائیےجس پرعمل پیرا ہوکرمیں جنت میں داخل ہوجاؤں؟“آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کر، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرا،نمازقائم کر،فرض زکوٰۃ ادا کراوررمضان کے روزے رکھ۔“یہ سن کر وہ یہ کہتا ہوا چلا گیا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!میں اِن اُمُور پر کوئی شے زیادہ نہ کروں گا۔“نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جو کسی جنّتی شخص کو دیکھنا چاہے وہ اسےدیکھ لے۔“
عَنْ اَبي هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ اَعْرَابِيًّا اَتَى النَّبيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ،دُلَّنِيْ عَلٰی عَمَلٍ اِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ:تَعْبُدُ اللهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ.قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا اَزيْدُ عَلَی هَذَا، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ اَنْ يَنْظُرَ اِلَى رَجُلٍ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُر اِلَی هَذَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1212 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا جریر بنعبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ”میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےنماز قائم کرنے، زکوٰۃ اداکرنے اور ہرمسلمان کے ساتھ بھلائی کرنےپر بیعت کی ۔“
عَنْ جَرِ يْرِ بن عَبْدِ الله رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَى اِقَامِ الصَّلَاةِ، وَ اِيْتَاءِ الزَّ كَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِـمٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1213 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس کے پاس سونا، چاندی ہو اور وہ اُن کا حق ادا نہ کرےتو قیامت کے دن سونے چاندی کے تختےبنا کر انہیں جہنم کی آگ میں گرم کرکے اس مالدار کے پہلو ،پیشانی اورپیٹھ کو داغا جائے گا جب وہ ٹھنڈے ہوں گے تو انہیں دوبارہ گرم کیاجائے گااور وہ دن پچاس ہزار سال کا ہوگا ، اسے یہ عذاب دیا جاتا رہے گاحتی کے بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا جنت کی طر ف یا دوزخ کی طرف۔‘‘عرض کی گئی:’’یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اور اونٹوں کا کیا معاملہ ہوگا؟‘‘ فرمایا: ’’جو اپنے اونٹوں کا حق ادا نہ کرے گا اور پانی پلانے کے دن ان کا دودھ نکال کر ضرورت مندوں کو دینا بھی ان کا حق ہے،توجب وہ قیامت کے دن آئے گا تو ایک چٹیل میدان میں اُسے لِٹا دیاجائے گا پھر اس کے سب اُونٹ لائے جائیں گے وہ اُن میں سے ایک بچہ بھی کم نہ پائے گا اور وہ خوب موٹے تازہ ہوں گے، پھر وہ اُسے اپنے قدموں سے روندیں گے اورمنہ سےکاٹیں گے جب اُس پر سے گزر جائیں گے تو دوبارہ لائے جائیں گے،ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی،اسے یہ عذاب دیا جاتا رہے گایہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیاجائے گا، پھر یہ جنت کی طرف جا ئے گایا جہنم کی طرف۔‘‘عرض کی گئی:” حضور! گائے بکریوں کا کیا معاملہ ہوگا؟“ فرمایا:”جس نے گائے بکریوں کا حق ادا نہ کیا اسے بروزِ قیامت کھلے میدان میں لِٹایا جائے گاپھر اُس کی گائے بکریاں لائی جائیں گی جن میں سے کوئی ایک بھی کم نہ ہوگی، نہ کوئی مڑے سینگ والی ہوگی، نہ بے سینگ والی، نہ ٹوٹے سینگ والی، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور پاؤ ں سے روندیں گی، جب بھی پہلا حصہ گزر جا ئے گا توآخری حصہ لوٹادیا جائے گا یہ معاملہ اس دن ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی حتی کہ بندو ں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے گا، پھر وہ اپنا راستہ دیکھے گا جنت کی طرف جائے گا یا جہنم کی طرف۔“عرض کی گئی:”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! گھوڑوں کے بارے میں کیاحکم ہے؟“ ارشاد فرمایا:” گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں،کسی کے لئے یہ گناہ کا باعِث ہیں کسی کے لئے آڑ اورکسی کے لئے ثواب،گناہ کا باعث تو وہ ہیں جنہیں ریا،تکبر اوراسلام کی مخالفت کے لئے باندھا گیاہو،آڑ وہ ہیں جنہیں راہِ خدا میں باندھا گیااور پھر ان کی پشتوں اور گردنوں میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے حق کو نہ بھولا گیا، اور باعثِ اجر ثواب وہ گھوڑے ہیں جنہیں اہلِ اسلام کے لئے کسی باغ یا چراہگاہ میں باندھا گیا وہ اس سے کچھ بھی کھائیں گے تو ان کے کھانے کے برابر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی اوران کے گوبر اور پیشاب کے برابر اسے نیکیاں دی جائیں گی اوراگر وہ اپنی رسی توڑکر بھاگیں یا ایک دوٹیلوں پرچڑھ جائیں تو ان کے قدموں اور گوبر کی تعداد کےبرابر ان کے مالک کو نیکیاں ملیں گی اور اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر کےپاس لے جائے اوروہ اس سے پانی پی لیں حالانکہ اس کا ارادہ پانی پلانے کا نہ تھا تو ان کے پینے کی مقدار مالک کو ثواب ملے گا۔“ عرض کی گئی :” گدھوں بارے میں کیا حکم ہے؟“ فرمایا:” گدھوں کے بارے میں کوئی خاص حکم مجھ پرنہیں اتارا گیا،سوائے اِس ایک جامع آیت کے:﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)﴾(پ۳۰،الزلزال:۷،۸)ترجمۂ کنزالایمان:’’توجوایک ذرّہ بھربھلائی کرےاسے دیکھے گا اورجو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔‘‘
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ،وَلَا فِضَّةٍ،لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَااِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَاُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوٰى بِهَاجَنْبُهُ،وَجَبِينُهُ،وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ اُعِيْدَتْ لَهُ فِی يَومٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتّٰی يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَ ى سَبِيْلَهُ،اِمَّا اِلَى الْجَنَّةِ وَ اِمَّا اِلَى النَّارِ. قِيْلَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ فَالْاِبِلُ؟ قَالَ: وَلَا صَاحِبُ اِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا وَمِنْ حَقِّهَا حَلْبُهَا يَومَ وِرْدِهَا اِلَّا اِذَا كَانَ يَومُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ اَوْفَرَ مَا كَانَتْ،لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصيلًا وَاحِدًا،تَطَؤُهُ بِاَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِاَفْوَاهِهَا كُلَّمَامَرَّ عَلَيْهِ اُوْلَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ اُخْرَاهَا، فِی يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرٰى سَبِيْلَهُ اِمَّا اِلَى الْجَنَّةِ وَاِمَّااِلَى النَّارِ،قِيلَ:يَا رَسُوْلَ اللهِ فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ:وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا اِلَّا اِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ لَايَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَاجَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ، تَنْطَحُهُ بقُرُوْنِهَا وَتَطَؤُهُ بِاَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مرَّ عَلَيْهِ اُوْلَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ اُخْرَاهَا فِی يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ اَلْفَ سَنَةٍ حَتَّى يُقْضٰى بَيْنَ الْعِبَادِ فَيَرَى سَبِیلَهُ اِمَّااِلَى الْجَنَّةِ وَاِمَّا اِلَى النَّارِ، قِيْلَ: يَارَسُوْلَ اللهِ فالْخَيْلُ؟ قَالَ: الْخَيْلُ ثَلاَثَةٌ:هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ،وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ،وَهِيَ لِرَجُلٍ اَجْرٌ،فَاَمَّا الَّتي هِیَ لَهُ وِزْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَارِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلٰی اَهْلِ الْاِسْلاَمِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَاَمَّا الَّتي هِیَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِی سَبِيْلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ في ظُهُورِهَا، وَلَارِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ، وَاَمَّا الَّتي هي لَهُ اَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا في سَبيلِ الله لِاَهْلِ الْاِسْلاَمِ في مَرْجٍ،اَوْرَوْضَةٍ فَمَا اَ كَلَتْ مِنْ ذٰلِكَ الْمَرْ جِ اَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ اِلَّا كُتِبَ لَهُ عَدَدَ مَا اَ كَلَتْ حَسَنَاتٌ وكُتِبَ لَهُ عَدَدَ اَرْوَاثِهَا وَاَبْوَالِهَا حَسَنَاتٌ،وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا اَوْ شَرَفَيْنِ اِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ اٰثَارِهَا وَاَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلٰی نَهْرٍ ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ، وَلَا يُرِ يدُ اَنْ يَّسْقِيهَا اِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ مَا شَرِبَتْ حَسَنَاتٍ،قِيْلَ:يَارَسُوْلَ اللهِ فالْحُمُرُ؟ قَالَ:مَااُنْزِلَ عَلَيَّ في الْحُمُرِ شَيْءٌ اِلَّا هٰذِهِ الْآيةُ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ:﴿فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)﴾
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1214 ، باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان