Main Icon

باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1213

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِ يْرِ بن عَبْدِ الله رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَى اِقَامِ الصَّلَاةِ، وَ اِيْتَاءِ الزَّ كَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِـمٍ.

عن جر ير بن عبد الله رضی اﷲ عنہ قال:بايعت النبي صلی اﷲ علیہ وسلم على اقام الصلاة، و ايتاء الز كاة، والنصح لكل مسلـم.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جریر بنعبداﷲرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتےہیں کہ”میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسےنماز قائم کرنے، زکوٰۃ اداکرنے اور ہرمسلمان کے ساتھ بھلائی کرنےپر بیعت کی ۔“

شرح حدیث

حدیث نمبر:1211، 1212میں جن چیزوں کی ادائیگی پر جنت کی بشارت دی گئی ان میں سے ایک زکوٰۃ بھی ہے۔ اسی طرح حدیث نمبر1213میں حضرت سیدنا جریررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے جن تین باتوں پر بیعت کی ان میں سے ایک زکوٰۃ ہے۔ ان احادیث سے زکوٰۃ کی اہمیت وفضلیت خوب واضح ہوتی ہے ۔زکوٰۃادا کرنےکےفوائد:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! زکوٰۃ ایک اہم دینی فریضہ ہے۔زکوٰۃسے بے شمار دِینی ودُنیوی فوائد وابستہ ہیں۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے مالداروں اور غریبوں کے درمیان دوریاں ختم ہوتی ہیں ، باہمی تعاون ، ہمدردی، مساوات اور اخوت و بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہے۔ غریبوں، مسکینوں پر مال خرچ کرنے سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا نصیب ہوتی ہے۔ حُبّ دنیا، حرص ، غرور و تکبر، سرکشی اور فسق و فجور جیسے مہلک امراض سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ زکوۃ دینے والے پر رحمتِ الٰہی کی برسات ہوتی ہے۔ زکوٰۃ دینے سے تقویٰ و پرہیز گاری نصیب ہوتی ہے۔ قرآنِ پاک میں زکوٰۃ کی ادائیگی کو پرہیز گاروں کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ زکوٰۃ دینے والا کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی مددفرماتاہے۔زکوٰۃ ادا کرنا مساجدآبادکرنے والوں کی صفت ہے۔زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریبوں کی ضروریات پوری ہوتیں اور ان کے دل میں خوشی داخل ہوتی ہے۔ زکوٰۃ دینے سے لالچ و بخل جیسی بُری صفت سےچھٹکارا ملتاہے اور سخاوت جیسا محبوب وصف پیدا ہوتا ہے۔زکوٰۃ دینے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے اوردنیا وآخرت میں اس کا فائدہ بھی بڑھ جاتاہے۔مال میں اضافہ:مُفسّرِشہیرحکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”زکوٰۃدینے والے کی زکوٰۃ ہرسال بڑھتی ہی رَہتی ہے۔تجربہ ہے کہ جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہِر بوریاں خالی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے۔ گھر کی رکھی بوریاں چوہےوغیرہ آفات سے ہلاک ہو جاتی ہیں۔جس مال میں سے صَدَقہ نکلتا رہے اُس میں سے خرچ کرتے رہو ،اِنْ شَاءَاﷲبڑھتا ہی رہے گا، کُنویں کا پانی بھرے جاؤ ،تو بڑھے ہی جائے گا۔“نوٹ :حدیث نمبر1213کی مزید وضاحت کیلئے فیضانِ ریاض الصالحین جلد3، باب نمبر22، حدیث نمبر182اور اس کی شرح کا مطالعہ کیجئے ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1213