باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرتِ سَیِّدُناابو سعید اورحضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ رسولُاللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشادفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی بھی نبی کونہ بھیجا اور نہ ہی کسی کو خلیفہ بنایا مگر یہ کہ اُس کے ساتھ دو مشیر مقرر کیے گئے۔ایک مشیر اسے اچھی باتوں کا حکم دیتا ہے اور اس کی ترغیب دلاتا ہے جبکہ دوسرا مشیر اسےبُرائی کا حکم دیتا اور اس کی ترغیب دلا تا ہے تو محفوظ وہی ہے جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمحفوظ رکھے ۔‘‘

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ وَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَا بَعَثَ اللهُ مِنْ نَبِيٍّ وَلَا اِسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيْفَةٍ اِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَاْمُرُهُ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَاْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُوْمُ مَنْ عَصَمَ اللهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 678 ، باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی امیر کے بارے میں خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک سچا وزیر مقرر فرمادیتا ہے اگر امیر بھول جائے تو وہ اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے اور جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی امیر سے اس کے علاوہ کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک بُرا وزیر مقرر کرتا ہے اگر امیر کوئی شے بھول جائے تو وہ اسے یاد نہیں دلاتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔“

عَنْ عَائِشَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَاقَالَتْ: قَالَ:رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اللهُ بِالْاَمِيْرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ صِدْقٍ اِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَاِنْ ذَكَرَاَعَانَهُ وَاِذَااَرَادَ اللهُ بِه غَيْرَ ذٰلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ سُوْ ءٍاِنْ نَسِيَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 679 ، باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان