Main Icon

باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 679

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَاقَالَتْ: قَالَ:رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اللهُ بِالْاَمِيْرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ صِدْقٍ اِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَاِنْ ذَكَرَاَعَانَهُ وَاِذَااَرَادَ اللهُ بِه غَيْرَ ذٰلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ سُوْ ءٍاِنْ نَسِيَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ.

عن عائشةرضی اللہ عنہاقالت: قال:رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد الله بالامير خيرا جعل له وزير صدق ان نسي ذكره وان ذكراعانه واذااراد الله به غير ذلك جعل له وزير سو ءان نسي لم یذکرہ وان ذكر لم يعنه.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی امیر کے بارے میں خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک سچا وزیر مقرر فرمادیتا ہے اگر امیر بھول جائے تو وہ اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے اور جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی امیر سے اس کے علاوہ کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک بُرا وزیر مقرر کرتا ہے اگر امیر کوئی شے بھول جائے تو وہ اسے یاد نہیں دلاتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔“

شرح حدیث

اچھا وزیر ربّ تعالیٰ کی رحمت ہے :اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جباللّٰہتعالیٰ کسی بادشاہ کی بھلائی چاہتا ہے کہ دِین و دنیا اس کی درست رہے تو اسے اچھے وزیرومشیر عطا فرماتا ہے۔اگر بادشاہ کسی معاملہ میں حکم شرعی بھول جائےتو اسے وزیر بتادے، یادشدہ حکم کے جاری کرنے میں بادشاہ کا معاون و مددگار ہو۔سُبْحَانَ ا اللّٰہ!اچھا وزیر رب تعالیٰ کی رحمت ہے۔کسی خوشامدی ملحد نے حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُسے پوچھا کہ گزشتہ خلافتوں میں فتوحات وخیر بہت ہوئی،آپ کی خلافت میں فتنے زیادہ ہوئے اسکی کیا وجہ ہے؟آپ نے فورًا جواب دیا کہ ان خُلَفَا کے ہم وزیر تھے اور ہم کو وزیرملے تم۔تورایخ کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکو آپ کے مشیروں وزیروں نے بہت ہی پریشان کیا۔‘‘دارَین کی بھلائیاں پانے والا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسےایسا سچا وزیر عطا فرماتا ہے جو قول وفعل اور ظاہر وباطن میں سچا ہوتا ہے۔خَيْرًاکو نکرہ ذکر کرنا تعظیم کے لئے ہے تاکہ یہ خاص وعام سب کوشامل ہو کیونکہ جس کو یہ بھلائی کی دولت نصیب ہوگئی اُسےدارَین کی بھلائی مل گئی اور وہ بھلائی جنت ہے۔یہ سچا وزیر ایسا ہوتا ہےکہ اگر بادشاہ کوئی ضرورت کی چیز بھول جائےیا کسی حکم شرعی سے ہٹ جائے یا کسی مظلوم کا کوئی معاملہ اسے یاد نہ رہے یا رعایا کی کوئی مصلحت بھول جائے تو یہ وزیر اسے یاد دلاتا ہے اور اگر بادشاہ کو یاد ہوتو اپنی رائے اور قول وفعل کے ذریعہ اس کی اعانت کرتا ہے۔جس کے ساتھاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھلائی کے علاوہ کا ارادہ یعنی شرکا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایسا بُرا وزیر مقرر کرتا ہے جو قول وفعل میں بُرا ہوتا ہے۔اگر بادشاہ کوئی ضروری چیز بھول جاتا ہےتو وزیر اسے یاد نہیں دلاتا کیونکہ اس کے پاس نورِ قلبی نہیں ہوتا جو اسےبھلائی پر اُبھارےاور اگربادشاہ کو یاد ہوتا ہے تو وزیر اس کی مدد نہیں کرتا بلکہ اُلٹا وزیراپنی بُری طبیعت اور بُری خصلت کی وجہ سے اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ بادشاہ وہ کام نہ کرے۔وزارت کے آداب اور اس کے بارے میں معلومات کے لئے امام ماوردیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی ”اَحکام السلطانیہ“اورامام طرطوشیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی کتابسراج الملوکوغیرہ کا مطالعہ کریں۔ “
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!ان احادیث میں سلطنت و حکومت پر قائم اَفراد کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے کہ وہ اپنے لیے نیک لوگوں کا انتخاب کریں۔یاد رہے کہ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکااپنے کسی بندے کو جُہَلَا کی صحبت سے بچانا اور عُلَما و صُلَحا کی صحبت عطا فرمانا اُس کا بہت بڑا اِحسان اور اِنعام ہے کہ یہ حضرات بندے سے گناہوں کے بوجھ اتارنے میں معاون و مددگار اور نیک اَعمال کی راہ پر آسانی سے چلنے میں ہادی و راہنما ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو علماء اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور عُلَما و نیک لوگوں کو ہی اپنا ہم نشین بنانا چاہیے۔مدنی گلدستہ’’اِحسان‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ دنیا وآخرت کی بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے قول وفعل، ظاہروباطن والاسچا وزیر ومشیر عطا فرمادیتا ہے۔
(2) اچھا وزیر
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے۔
(3) حاکم کے ساتھ ایسا وزیر ہو نا چاہیے جو اچھے کاموں میں اس کی معاونت کرے اور بُرے کاموں سے اُسے روکے، کسی معاملے میں حکم شرعی بھول جائے تو اسے یاد دلادے۔
(4) سلطنت وحکومت والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے نیک لوگوں کا انتخاب کریں۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتمام مسلمان حکمرانوں کو اچھے وزیراورمشیرعطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 679