- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- حدیث نمبر 679
باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 679
جلد 5
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہَاقَالَتْ: قَالَ:رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَرَادَ اللهُ بِالْاَمِيْرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ صِدْقٍ اِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ وَاِنْ ذَكَرَاَعَانَهُ وَاِذَااَرَادَ اللهُ بِه غَيْرَ ذٰلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيْرَ سُوْ ءٍاِنْ نَسِيَ لَمْ یُذَکِّرْہُ وَاِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ.
عن عائشةرضی اللہ عنہاقالت: قال:رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد الله بالامير خيرا جعل له وزير صدق ان نسي ذكره وان ذكراعانه واذااراد الله به غير ذلك جعل له وزير سو ءان نسي لم یذکرہ وان ذكر لم يعنه.
حدیث ترجمہ
اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہِافرماتی ہیں کہ رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی امیر کے بارے میں خیر اور بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک سچا وزیر مقرر فرمادیتا ہے اگر امیر بھول جائے تو وہ اسے یاد کرا دیتا ہے اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد کرتا ہے اور جباللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکسی امیر سے اس کے علاوہ کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایک بُرا وزیر مقرر کرتا ہے اگر امیر کوئی شے بھول جائے تو وہ اسے یاد نہیں دلاتا اور اگر اسے یاد ہو تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔“
شرح حدیث
اچھا وزیر ربّ تعالیٰ کی رحمت ہے :اس حدیثِ پاک کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جباللّٰہتعالیٰ کسی بادشاہ کی بھلائی چاہتا ہے کہ دِین و دنیا اس کی درست رہے تو اسے اچھے وزیرومشیر عطا فرماتا ہے۔اگر بادشاہ کسی معاملہ میں حکم شرعی بھول جائےتو اسے وزیر بتادے، یادشدہ حکم کے جاری کرنے میں بادشاہ کا معاون و مددگار ہو۔سُبْحَانَ ا اللّٰہ!اچھا وزیر رب تعالیٰ کی رحمت ہے۔کسی خوشامدی ملحد نے حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُسے پوچھا کہ گزشتہ خلافتوں میں فتوحات وخیر بہت ہوئی،آپ کی خلافت میں فتنے زیادہ ہوئے اسکی کیا وجہ ہے؟آپ نے فورًا جواب دیا کہ ان خُلَفَا کے ہم وزیر تھے اور ہم کو وزیرملے تم۔تورایخ کے مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علیرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکو آپ کے مشیروں وزیروں نے بہت ہی پریشان کیا۔‘‘دارَین کی بھلائیاں پانے والا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیمذکورہ حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّجس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسےایسا سچا وزیر عطا فرماتا ہے جو قول وفعل اور ظاہر وباطن میں سچا ہوتا ہے۔خَيْرًاکو نکرہ ذکر کرنا تعظیم کے لئے ہے تاکہ یہ خاص وعام سب کوشامل ہو کیونکہ جس کو یہ بھلائی کی دولت نصیب ہوگئی اُسےدارَین کی بھلائی مل گئی اور وہ بھلائی جنت ہے۔یہ سچا وزیر ایسا ہوتا ہےکہ اگر بادشاہ کوئی ضرورت کی چیز بھول جائےیا کسی حکم شرعی سے ہٹ جائے یا کسی مظلوم کا کوئی معاملہ اسے یاد نہ رہے یا رعایا کی کوئی مصلحت بھول جائے تو یہ وزیر اسے یاد دلاتا ہے اور اگر بادشاہ کو یاد ہوتو اپنی رائے اور قول وفعل کے ذریعہ اس کی اعانت کرتا ہے۔جس کے ساتھاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبھلائی کے علاوہ کا ارادہ یعنی شرکا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لئے ایسا بُرا وزیر مقرر کرتا ہے جو قول وفعل میں بُرا ہوتا ہے۔اگر بادشاہ کوئی ضروری چیز بھول جاتا ہےتو وزیر اسے یاد نہیں دلاتا کیونکہ اس کے پاس نورِ قلبی نہیں ہوتا جو اسےبھلائی پر اُبھارےاور اگربادشاہ کو یاد ہوتا ہے تو وزیر اس کی مدد نہیں کرتا بلکہ اُلٹا وزیراپنی بُری طبیعت اور بُری خصلت کی وجہ سے اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ بادشاہ وہ کام نہ کرے۔وزارت کے آداب اور اس کے بارے میں معلومات کے لئے امام ماوردیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی ”اَحکام السلطانیہ“اورامام طرطوشیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی کتابسراج الملوکوغیرہ کا مطالعہ کریں۔ “
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!ان احادیث میں سلطنت و حکومت پر قائم اَفراد کے لئے بھی بڑی نصیحت ہے کہ وہ اپنے لیے نیک لوگوں کا انتخاب کریں۔یاد رہے کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکااپنے کسی بندے کو جُہَلَا کی صحبت سے بچانا اور عُلَما و صُلَحا کی صحبت عطا فرمانا اُس کا بہت بڑا اِحسان اور اِنعام ہے کہ یہ حضرات بندے سے گناہوں کے بوجھ اتارنے میں معاون و مددگار اور نیک اَعمال کی راہ پر آسانی سے چلنے میں ہادی و راہنما ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو علماء اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے اور عُلَما و نیک لوگوں کو ہی اپنا ہم نشین بنانا چاہیے۔مدنی گلدستہ’’اِحسان‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجس کے ساتھ دنیا وآخرت کی بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے اسے قول وفعل، ظاہروباطن والاسچا وزیر ومشیر عطا فرمادیتا ہے۔
(2) اچھا وزیراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے۔
(3) حاکم کے ساتھ ایسا وزیر ہو نا چاہیے جو اچھے کاموں میں اس کی معاونت کرے اور بُرے کاموں سے اُسے روکے، کسی معاملے میں حکم شرعی بھول جائے تو اسے یاد دلادے۔
(4) سلطنت وحکومت والے افراد کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے نیک لوگوں کا انتخاب کریں۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتمام مسلمان حکمرانوں کو اچھے وزیراورمشیرعطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 679