Main Icon

باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟ - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 983

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاسَافَرَ فَاَقْبَلَ اللَّيْلُ قَالَ: يَااَرْضُ!رَبِّي وَرَبُّكِ اللهُ اَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شَرِّكِ وَشَرِّ مَا فِيْكِ وَشَرِّ مَا خُلِقَ فِيْكِ وَشَرِّ مَا يَدِبُّ عَلَيْكِ اَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّ اَسَدٍ وَاَسْوَدٍ وَمِنَ الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ وَمِنْ سَا كِنِ الْبَلَدِ وَمِنْ وَالِدٍ وَمَا وَلَدَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:كان رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اذاسافر فاقبل الليل قال: ياارض!ربي وربك الله اعوذ بالله من شرك وشر ما فيك وشر ما خلق فيك وشر ما يدب عليك اعوذ باللہ من شر اسد واسود ومن الحية والعقرب ومن سا كن البلد ومن والد وما ولد.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ دورانِ سفر جب نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلمکو رات ہوجاتی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ فرماتے: اے زمین! میرا اور تیرا ربّاللّٰہ عَزَّوَجَلَّہے،میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں تیرے شرسےاور ان کے شر سے جوتجھ میں ہیں اور ان چیز وں کےشرسے جوتجھ میں پیدا کی گئیں اوران چیزوں کےشر سے جو تجھ پر چلتی ہیں۔میں شیر اور کالے سانپ کے شر سے اورعام سانپ و بچھو کے شرسے اورعلاقہ کے مکینوں کے شرسے اورجنم دینے والے اورپیدا ہونے والوں کے شر سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں ۔

شرح حدیث

(اِمَام نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں)علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا:سَاكِنُِ الْبَلَدِ(علاقہ کے مکینوں)سے مراد وہ جِنَّات ہیں جو زمین پر رہتے ہیں۔بَلَدزمین کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں حیوانات رہتے ہوں اگرچہ وہاں کوئی عمارت اور مکان نہ ہو۔ممکن ہےوَالِدسے مراد ابلیس اوروَمَا وَلَدَ(پیدا ہونے والے)سے مراد شیاطین ہوں۔زمین کو قوتِ سماعت عطا ہونا:دلیل الفالحین میں ہے:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زمین سےفرمایا: اے زمین! میرا اور تیرا رَبّ ایک ہےاورجن کارب ایک ہوانہیں ایک دوسرے کو تکلیف نہیں پہنچانی چاہیے۔زمین میں اگرچہ سننے کی قوت نہیں پھر بھی اسے مُخاطَب کر کے کلام کیا گیا کیونکہاللّٰہربُّ العزت نے اپنے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے شرف کی وجہ سے زمین کو قوتِ سماعت عطا فرمادی تھی یا پھر یہاں زمین کو عُقلاء کے مرتبے پر اتار کرکلام کیا گیا ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدزمین و آسمان کا اِطاعت کرنا:مرآۃ المناجیح میں ہے:حق یہ ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے تمام شجر و حجر کلام بھی کرتے ہیں اورآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نِداو کلام بھی سنتے ہیں۔ لہٰذاحضورِاَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا زمین کو یہ خطاب فرماناحقیقت پر مبنی ہے۔ربّ تعالیٰ نے زمین وآسمان سے یوں خطاب فرمایا:﴿یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ﴾(پ۱۲،ھود:۴۴)اےزمین!اپناپانی نِگل جااوراےآسمان!اپنا پانی روک لے۔حضورِ انورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنائبِ جنابِ کِبْریا ہیں، زمین وآسمان حضورعَلَیْہِ السَّلَامکاکلام سنتے اورآپ کی اطاعت کرتے ہیں۔ربّ تعالیٰ فرماتاہے:﴿فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ﴾(پ۲۳،صٓ:۳۶)ہم نے ہوا کو حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامکےلیےمُسَخَّروتابع کردیاکہ ہواآپ کےحکم سے چلتی تھی۔زمین سے متعلق شر:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:زمین کےشرسے مراد وہ شر ہےجواس سےمُتَّصِل ہوجیسے گہرےگڑھے میں گِرجانایا کسی بلند جگہ سے لڑھک جانا وغیرہ۔زمین کے اندرونی شر سے مرادمُوذِی اشیا کا شر ہے۔زمین میں پید ا کی ہوئی چیزوں کے شر سے مراد پہاڑوں،ٹیلوں ،درختوں، کھائیوں وغیرہ کا شر ہے کہ ان سے بھی انسان کو نقصان پہنچتا ہے۔زمین پر چلنے والوں کے شرسے مراد حشراتُ الارض کا شر ہے ۔اَسْوَداسمِ جنس ہے اس سے مراد بڑاسیا ہ سانپ ہے۔الفاظِ حدیث کے عموم میں سانپ و بچھوبھی شامل تھے مگر یہ زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اس لئے انہیں علیحدہ ذکر کیا گیا ۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:زمین کے شر سے مراد زلزلہ،دھنسنا،گرجانا راستہ بھول جانا وغیرہ ہیں اور زمین کے اندرونی شر سے مراد سیلاب،سخت گرمی،سخت ٹھنڈک وغیرہ ہے ۔ زمین کی مخلوقات کا شر اندرونی کیڑے مکوڑے وغیرہ ہیں کہ سفر میں انہی کی وجہ سے حادثات زیادہ پیش آتے ہیں۔مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5 مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دورانِ سفرجب رات ہوجاتی توآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزمین اوراس کے اندونی وبیرونی شر سے حفاظت کی دعا فرمایا کرتے تھے ۔
(2)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنےحضرت سَیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکےلئے ہواؤں کومُسَخَّروتابع کردیاتھا۔
(3) زلزلہ، زمین میں دھنسنا،گرجانا راستہ بھول جانا یہ سب زمین کے بیرونی شرہیں،ان سے بچنےکی دعا کرنی چاہیے۔
(4) حضورِانور
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنائبِ جنابِ کِبْریا ہیں،زمین وآسمان حضورعَلَیْہِ السَّلَامکاکلام سنتے اورآپ کی اطاعت کرتے ہیں۔
(5) تمام شجر و حجربھی ہمارے پیارےنبی
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے کلام کرتےاور آپ کی نِداو کلام سنتے ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّزمین کے اندرونی اور بیرونی شر سے ہماری حفاظت فرمائےاور اس سے بچنے کی دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 983