باب: مِہمان نوازی کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرت سَیِّدُنا اَبُوہُرَیرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’جو شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت پراِیمان رکھتا ہے وہ مہمان کی تعظیم کرے اور جوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاورقِیامت پراِیمان رکھتاہےوہ صِلَہ رَحْمِی کرےاورجوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت پراِیمان رکھتا ہےوہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔‘‘

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَومِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَومِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَصْمُتْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 706 ، باب: مِہمان نوازی کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابوشُرَیْح خُوَیْلِد بِن عَمْرو خُزاعیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں: میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوفرماتے ہوئے سُنا کہ جوشخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاور قِیامت کے دن پراِیمان رکھتا ہےاسے چاہیے کہ وہ دستور کے مطابق اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے۔عرض کی گئی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! دستور کیاہے؟فرمایا:’’ایک دن اور ایک رات اور ضِیافت(مہمانی) تین دن ہےاورتین دن کے بعد صَدَقہ ہے۔‘‘اورمُسْلِم کی رِوایت میں ہے:کسی مسلمان کے لیے یہ حلال نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے یہاں اِتنا عرصہ ٹھہرے کہ اُسے گُناہ میں مبتلا کر دے۔صحابہ ٔکِرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عَرْض کی:یارسولَ اللّٰہ!وہ اُس کو کیسے گُناہ میں مبتلا کرے گا؟اِرشاد فرمایا:’’وہ اُس شخص کے یہاں اِتنے وقت تک ٹھہرے کہ اُس کے پاس مہمان نوازی کے لیے کچھ نہ رہے۔‘‘

عَنْ اَبِيْ شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْروالْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ قَالُوْا:وَمَاجَائِزَتُهُ يَارَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ: يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ اَيَّامٍ فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ:لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ اَنْ يُقِيمَ عِنْدَ اَخِيْهِ حَتّٰى يُؤْثِمَهُ قَالُوْا:يَارَسُوْلَ الله!وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ؟ قَالَ:يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيْهِ بِہٖ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 707 ، باب: مِہمان نوازی کا بیان