Main Icon

باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1121

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: اَنَّ النَبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ.

عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: ان النبي صلى الله عليه وسلم کان يصلي قبل العصر رکعتین.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا علی المرتضٰیکَرَّمَ اﷲ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:”حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعصر سےپہلے دو رکعت نماز پڑھتے۔“

شرح حدیث

عصر کی سنتیں دو ہیں یا چار؟شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”عصر کی سنتوں کے بارے میں دو طرح کی راویتیں ہیں،بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعصرسے پہلے دو رکعت سنت پڑھا کرتے اور بعض سے چار رکعت کا ثبوت ملتا ہے لہٰذا نمازی کو اختیار ہے کہ دو پڑھے یا چار مگر چار کعت پڑھنا افضل ہے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”عصر کی سنتوں کے بارے میں دو طرح کی روایات ہیں،چار وں سنتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھے خواہ دو سلاموں کے ساتھ دونوں طرح جائز ہے۔“مدنی گلدستہعصرکی چارسنتوں کی نسبت سے اَحادیثِ مَذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) عصرکی سنتیں ادا کرتے رہناچاہیے کہ اَحادیث میں اِن کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔
(2) عصر کی سنتیں اد ا کرنا حضورنبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعائیں لینے کا ذریعہ ہیں ۔
(3) عصر کی سنتیں غیرمُؤکدہ ہیں ۔
(4) عصرسے پہلے چاررکعت پڑھنا افضل ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسےدعا ہے کہ وہ ہمیں نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، بالخصوص نمازِعصرکی سنتِ قبلیہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1121