باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1157
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي بُرْدَةَ بْنِ اَبِي مُوْسَی الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: اَسَمِعْتَ اَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِي شَاْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ؟قَالَ:قُلْتُ:نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:هِيَ مَا بَيْنَ اَنْ يَجلِسَ الْاِمَامُ اِلَى اَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ.
عن ابي بردة بن ابي موسی الاشعري رضي الله عنه قال:قال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: اسمعت اباك يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في شان ساعة الجمعة؟قال:قلت:نعم سمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:هي ما بين ان يجلس الامام الى ان تقضى الصلاة.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو بُردہ بن ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ان سے پوچھا :کیا آپ نے اپنے والد ماجد کو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جمعہ کی قبولیت والی گھڑی کے بارے میں کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ؟فرماتے ہیں: میں نے کہا : ہاں میں نے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”یہ گھڑی امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک کے درمیانے وقت میں ہے ۔ “
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیثِ مبارکہ میں جمعۃُ المبارک کے دن دعا کی قبولیت والی گھڑی کا ذکر ہے۔ پہلی حدیث پاک میں فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں نماز پڑھتے ہوئےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کرےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے وہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دستِ مبارکہ سے اس گھڑی کی مقدار کی کمی کی طر ف اشارہ فرمایا۔جبکہ دوسری حدیث پاک میں قبولیت کی اس گھڑی کو واضح طور پر اِرشاد فرمایا کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک کے درمیانے وقت میں ہے ۔ساعتِ جمعہ کی تعیین میں اختلاف:عَلَّامَہ حَافِظْ عَبْدُ الْمُؤْمِنْ بِنْ خَلَف دَمْیَاطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیجمعہ کی اس ساعت(یعنی قبولیت والی گھڑی )کے بارے میں فرماتے ہیں:”اس ساعت کی تعیین میں علمائے کرام کا اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ یہ طلوعِ فجرسے طلوعِ شمس تک کا وقت ہے۔ ان کی دلیل میرے علم میں نہیں اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس ساعت سے مرادامام کے خطبہ کیلئے منبر پر بیٹھنے سے نمازِ جمعہ پڑھ لینے تک کا وقت ہے ۔ان کی دلیل مسلم شریف کی حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اس ساعت سے مراد امام کے منبر پربیٹھنے سے لے کر نمازِ جمعہ کی انتہا تک کا وقت ہے۔“جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت ہے۔ان کی دلیل ابن ماجہ میں حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبن سلا مرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی صحیح حدیث ہے کہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرماتھے کہ میں نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب (توریت) میں جمعہ کے دن میں ایک ایسی سا عت کا تذکرہ پاتے ہیں جس میں کوئی مومن بندہ اس گھڑی میں نماز پڑھتے ہوئےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کسی شے کا سوال کرے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے وہ شے ضرور عطا فرمائے گا۔تو سرورِکونینصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری طر ف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:”یاساعت کا کچھ حصہ (یعنی تمہاری مراد ساعت کا کچھ حصہ تو نہیں ؟)“ میں نے عر ض کی:آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سچ فرمایا ،یہی میری مراد ہے۔ پھرمیں نے عر ض کی:یہ کونسی ساعت ہے؟فرمایا:”دن کی آخری ساعت۔“میں نے عرض کی:یہ نماز کاوقت تو نہیں ہے ؟فرمایا:”کیوں نہیں بندہ جب ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھتاہے تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔“ساعتِ جمعہ کی تعیین میں دو راجح اَقوال:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 318صفحات پرمشتمل کتاب”فضائلِ دعا“صفحہ 116تا119پر ہے:”ساعتِ جمعہ کے بارے میں اگرچہ اَقوالِ علما چالیس سے مُتَجاوِز ہوئے(یعنی بڑھ گئے)مگر قَوِی وراجِح ومُختار اَ کابر مُحَقِّقین وجماعاتِ کثیرہ ائمۂ دِین دوقول ہیں(یعنی وہ قول جسے اکابرمحققین علما اورکثیر ائمۂ کرامرَحِمَہُمُ اﷲنے اختیار فرمایا دو ہیں):ایک وہ جس کی طرف حضرت مصنفقُدِّسَ سِرُّہ وَنُوِّرَ قبرُہنے اشارہ فرمایا یعنی ساعتِ اَخیرہ روز جمعہ غروبِ آفتاب سے کچھ ہی پہلے ایک لطیف وقت۔”اَشباہ“ میں فرمایا:”ہمارا یہی مذہب ہے عامہ مشائخِ حنفیہ اسی طرف گئے۔ یوں ہی ”تتارخانیہ“ میں اسےہمارے مشا ئخِ کرام کا مسلک ٹھہرایا۔ اور یہ مذہب ہےعالِمُ الکِتابَینسَیِّدُنا عبداﷲبن سلام وحضرت کعب احباررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاکااور اسی طرف رجوع فرمائی سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاور ایسا ہی منقول ہے حضرت بَتُول زَہراصَلَوَاتُ اﷲ وَسَلَامُہُ عَلٰی اَبِیْہَا وَعَلَیْھَاسے۔
اور سعید بن منصور بسند صحیح ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے راوی کہ کچھ صحابہ کرام نے جمع ہو کر ساعتِ جمعہ کا تذکرہ فرمایا، پھرسب اس قول پر متفق ہو کر متفرق ہوئے (یعنی سب اس قول پر اتفاق کرنے کے بعد جدا ہوئے)کہ وہ روزِ جمعہ کی پچھلی ساعت ہے۔ اور یہی مذہب ہے امام شافعی وامام محمد وامام اِسحاق بن رَاہْوَیْہ واِبنُ الزَّمْلَکانیاور ان کے تِلْمِیذ(شاگرد)عَلائی وغَیرہُم علما کا۔ امام ابو عَمرو بن عبد البر نے فرمایا:اس باب میں اس سے ثابت تر کوئی قول نہیں۔فاضل علی قاری نے کہا:یہ تمام اقوال سے زیادہ لائقِ اعتبار ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں: اکثر احادیث اسی پر ہیں۔ ولہٰذا حضرت مُصَنِّفقُدِّسَ سِرُّہنے اسی کو اختیار فرمایا۔
دوسرا قول جب امام منبر پر بیٹھے اس وقت سے فرضِ جمعہ کے سلام تک ساعتِ مَوعُودَہ ہے(یعنی یہ وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے)۔یہ حدیثِ مَرفوع ابی موسٰی اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمیں مَنصُوص (یعنی بیان)ہوا۔امام مسلم نے فرمایا:یہ سب اَقوال سے اَصَح اور اَحسن ہے(یعنی یہ قول سب اقوال سے زیادہ اچھا اورصحیح تر ہے)۔ اور اسی کو امام بیہقی وامام ابنِ عربی وامام قُرطبی نے اختیار کیا۔ امام نووی نے فرمایا: یہی صحیح بلکہ صواب ہے(یعنی حق ہے)۔ اور اسی طرح ”روضہ“ و”دُرِّمختار“ میں اس کی تصحیح کی۔
دلائلِ طرفین ”فتح الباری“ وغیرہ میں مبسوط( )اور انصاف یہ ہے کہ دونوں جانب کافی قُوتیں ہیں طالبِ خیر کو چاہے کہ دونوں وقتِ دعا میں کوشش کرے۔ یہ طریقہ جمع کا امام احمد وغیرہ اکابر سے منقول، اور بیشک اس میں اُمیداَقویٰ واَتَم (یعنی اس میں زیادہ کامل وقوی امید ہے)اور مُصادَقتِ مطلوب کی توقُّع اعظم (یعنی مراد برآنے کی بہت توقع ہے)وَاﷲ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَم۔میں کہتا ہوں:اس دوسرے قول پر اس مابین (درمیان)میں دُعا دِل سے ہو گی۔یا زبان سے دعا کا موقع بعد اَلتحیات ودُرود کے ملے گا،خواہ جلسہ بَین السجدتَین میں جبکہ امام بھی وہاں قدرے تَوَقُّف کرے۔فَافْھَم
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1157