Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1157

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي بُرْدَةَ بْنِ اَبِي مُوْسَی الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: اَسَمِعْتَ اَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِي شَاْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ؟قَالَ:قُلْتُ:نَعَمْ سَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم يَقُوْلُ:هِيَ مَا بَيْنَ اَنْ يَجلِسَ الْاِمَامُ اِلَى اَنْ تُقْضَى الصَّلَاةُ.

عن ابي بردة بن ابي موسی الاشعري رضي الله عنه قال:قال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما: اسمعت اباك يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في شان ساعة الجمعة؟قال:قلت:نعم سمعته يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:هي ما بين ان يجلس الامام الى ان تقضى الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو بُردہ بن ابو موسیٰ اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ان سے پوچھا :کیا آپ نے اپنے والد ماجد کو رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جمعہ کی قبولیت والی گھڑی کے بارے میں کچھ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ؟فرماتے ہیں: میں نے کہا : ہاں میں نے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:”یہ گھڑی امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک کے درمیانے وقت میں ہے ۔ “

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیثِ مبارکہ میں جمعۃُ المبارک کے دن دعا کی قبولیت والی گھڑی کا ذکر ہے۔ پہلی حدیث پاک میں فرمایا کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو مسلمان اس میں نماز پڑھتے ہوئےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے سوال کرےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے وہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔پھر آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دستِ مبارکہ سے اس گھڑی کی مقدار کی کمی کی طر ف اشارہ فرمایا۔جبکہ دوسری حدیث پاک میں قبولیت کی اس گھڑی کو واضح طور پر اِرشاد فرمایا کہ یہ گھڑی امام کے خطبہ کے لیے بیٹھنے سے لے کر نماز کے اختتام تک کے درمیانے وقت میں ہے ۔ساعتِ جمعہ کی تعیین میں اختلاف:عَلَّامَہ حَافِظْ عَبْدُ الْمُؤْمِنْ بِنْ خَلَف دَمْیَاطی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیجمعہ کی اس ساعت(یعنی قبولیت والی گھڑی )کے بارے میں فرماتے ہیں:”اس ساعت کی تعیین میں علمائے کرام کا اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ یہ طلوعِ فجرسے طلوعِ شمس تک کا وقت ہے۔ ان کی دلیل میرے علم میں نہیں اور بعض کی رائے یہ ہے کہ اس ساعت سے مرادامام کے خطبہ کیلئے منبر پر بیٹھنے سے نمازِ جمعہ پڑھ لینے تک کا وقت ہے ۔ان کی دلیل مسلم شریف کی حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی یہ روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اس ساعت سے مراد امام کے منبر پربیٹھنے سے لے کر نمازِ جمعہ کی انتہا تک کا وقت ہے۔“جبکہ بعض کہتے ہیں کہ یہ عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت ہے۔ان کی دلیل ابن ماجہ میں حضرتِ سَیِّدُناعبداﷲبن سلا مرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی صحیح حدیث ہے کہ نبی اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرماتھے کہ میں نے عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب (توریت) میں جمعہ کے دن میں ایک ایسی سا عت کا تذکرہ پاتے ہیں جس میں کوئی مومن بندہ اس گھڑی میں نماز پڑھتے ہوئےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے کسی شے کا سوال کرے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاسے وہ شے ضرور عطا فرمائے گا۔تو سرورِکونینصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میری طر ف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:”یاساعت کا کچھ حصہ (یعنی تمہاری مراد ساعت کا کچھ حصہ تو نہیں ؟)“ میں نے عر ض کی:آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سچ فرمایا ،یہی میری مراد ہے۔ پھرمیں نے عر ض کی:یہ کونسی ساعت ہے؟فرمایا:”دن کی آخری ساعت۔“میں نے عرض کی:یہ نماز کاوقت تو نہیں ہے ؟فرمایا:”کیوں نہیں بندہ جب ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھتاہے تو وہ نماز ہی میں ہوتا ہے ۔“ساعتِ جمعہ کی تعیین میں دو راجح اَقوال:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 318صفحات پرمشتمل کتاب”فضائلِ دعا“صفحہ 116تا119پر ہے:”ساعتِ جمعہ کے بارے میں اگرچہ اَقوالِ علما چالیس سے مُتَجاوِز ہوئے(یعنی بڑھ گئے)مگر قَوِی وراجِح ومُختار اَ کابر مُحَقِّقین وجماعاتِ کثیرہ ائمۂ دِین دوقول ہیں(یعنی وہ قول جسے اکابرمحققین علما اورکثیر ائمۂ کرامرَحِمَہُمُ اﷲنے اختیار فرمایا دو ہیں):ایک وہ جس کی طرف حضرت مصنفقُدِّسَ سِرُّہ وَنُوِّرَ قبرُہنے اشارہ فرمایا یعنی ساعتِ اَخیرہ روز جمعہ غروبِ آفتاب سے کچھ ہی پہلے ایک لطیف وقت۔”اَشباہ“ میں فرمایا:”ہمارا یہی مذہب ہے عامہ مشائخِ حنفیہ اسی طرف گئے۔ یوں ہی ”تتارخانیہ“ میں اسےہمارے مشا ئخِ کرام کا مسلک ٹھہرایا۔ اور یہ مذہب ہےعالِمُ الکِتابَینسَیِّدُنا عبداﷲبن سلام وحضرت کعب احباررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاکااور اسی طرف رجوع فرمائی سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنےاور ایسا ہی منقول ہے حضرت بَتُول زَہراصَلَوَاتُ اﷲ وَسَلَامُہُ عَلٰی اَبِیْہَا وَعَلَیْھَاسے۔
اور سعید بن منصور بسند صحیح ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے راوی کہ کچھ صحابہ کرام نے جمع ہو کر ساعتِ جمعہ کا تذکرہ فرمایا، پھرسب اس قول پر متفق ہو کر متفرق ہوئے (یعنی سب اس قول پر اتفاق کرنے کے بعد جدا ہوئے)کہ وہ روزِ جمعہ کی پچھلی ساعت ہے۔ اور یہی مذہب ہے امام شافعی وامام محمد وامام اِسحاق بن رَاہْوَیْہ و
اِبنُ الزَّمْلَکانیاور ان کے تِلْمِیذ(شاگرد)عَلائی وغَیرہُم علما کا۔ امام ابو عَمرو بن عبد البر نے فرمایا:اس باب میں اس سے ثابت تر کوئی قول نہیں۔فاضل علی قاری نے کہا:یہ تمام اقوال سے زیادہ لائقِ اعتبار ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں: اکثر احادیث اسی پر ہیں۔ ولہٰذا حضرت مُصَنِّفقُدِّسَ سِرُّہنے اسی کو اختیار فرمایا۔
دوسرا قول جب امام منبر پر بیٹھے اس وقت سے فرضِ جمعہ کے سلام تک ساعتِ مَوعُودَہ ہے(یعنی یہ وہ ساعت ہے جس میں دعا کی قبولیت کا وعدہ ہے)۔یہ حدیثِ مَرفوع ابی موسٰی اشعری
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمیں مَنصُوص (یعنی بیان)ہوا۔امام مسلم نے فرمایا:یہ سب اَقوال سے اَصَح اور اَحسن ہے(یعنی یہ قول سب اقوال سے زیادہ اچھا اورصحیح تر ہے)۔ اور اسی کو امام بیہقی وامام ابنِ عربی وامام قُرطبی نے اختیار کیا۔ امام نووی نے فرمایا: یہی صحیح بلکہ صواب ہے(یعنی حق ہے)۔ اور اسی طرح ”روضہ“ و”دُرِّمختار“ میں اس کی تصحیح کی۔
دلائلِ طرفین ”فتح الباری“ وغیرہ میں مبسوط( )اور انصاف یہ ہے کہ دونوں جانب کافی قُوتیں ہیں طالبِ خیر کو چاہے کہ دونوں وقتِ دعا میں کوشش کرے۔ یہ طریقہ جمع کا امام احمد وغیرہ اکابر سے منقول، اور بیشک اس میں اُمیداَقویٰ واَتَم (یعنی اس میں زیادہ کامل وقوی امید ہے)اور مُصادَقتِ مطلوب کی توقُّع اعظم (یعنی مراد برآنے کی بہت توقع ہے)
وَاﷲ سُبْحَانَہُ وَتَعَالٰی اَعْلَم۔میں کہتا ہوں:اس دوسرے قول پر اس مابین (درمیان)میں دُعا دِل سے ہو گی۔یا زبان سے دعا کا موقع بعد اَلتحیات ودُرود کے ملے گا،خواہ جلسہ بَین السجدتَین میں جبکہ امام بھی وہاں قدرے تَوَقُّف کرے۔فَافْھَم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1157