Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1148

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:مَنْ تَوَضَّاَ فاَحْسَنَ الْوُضُوْ ءَثُمَّ اَتَى الْجُمُعَةَ فَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ اَيَّامٍ وَمَنْ مَسَّ الْحَصٰى فَقَدْ لَغَا.

عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:من توضا فاحسن الوضو ءثم اتى الجمعة فاستمع وانصت غفر له ما بينه وبين الجمعة وزيادة ثلاثة ايام ومن مس الحصى فقد لغا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے اچھی طرح وضو کیا پھر جمعہ کی نماز کے لیے گیا،کان لگاکر خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا تو اس نے فضول کام کیا۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں دس دن کے گناہوں کی بخشش کا ذکر ہے اور اس بخشش کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ اچھی طرح وضو کر کے نمازِ جمعہ کے لیے جانا اور غور سے خطبہ سننا اس طرح کہ خطبہ سنتے وقت بیچ میں کوئی فضول کام نہ کرے تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں ۔خطبہ توجہ سے سننا ضروری ہے:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(جس نے اچھی طرح وضو کیا )اس طرح کہ وضو کے فرائض،سنتیں،مستحبات سب ادا کرے۔اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا غسل واجب نہیں سنت ہے۔جو صرف وضو ہی کرے وہ گنہگار نہیں۔امام مالک کے ہاں یہ غسل واجب ہے،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔(پھر جمعہ کی نماز کے لیے گیا،کان لگاکر خطبہ سنا اور خاموش رہا) اس طرح کہ اگر دور ہو تو صرف خاموش رہے اور اگر امام سے قریب ہو کہ خطبہ کی آواز آرہی ہو تو کان لگا کر سنے۔(تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں)دوسرے جمعہ سے مراد آئندہ جمعہ ہے یا گذشتہ۔ دوسرے معنیٰ زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابنِ خُزیمہ بلکہ ابو داؤد کی روایا ت میں ہے۔معلوم ہو اکہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔(اور مزید تین دن کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں)یعنی دس دن کے گناہ کہ ایک نیکی کا ثواب دس گُنا ہوتا ہے۔جتنا خشوع زیادہ، اتنا ثواب زیادہ یا اولًا آٹھ دن کی بخشش کا وعدہ تھا پھر دس دن کا وعدہ ہوا۔( جس نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا تو اس نے فضول کام کیا)یعنی خطبہ کے وقت صرف زبان سے خاموشی کافی نہیں بلکہ سکون و اطمینان سے بیٹھنا بھی ضروری ہے،کنکر پتھروں سے کھیلنا بھی ممنوع ہے۔اسی لیے علما فرماتے ہیں کہ خطبہ کے وقت دامن یا پنکھے سے ہوا کرنا بھی منع ہے اگرچہ گرمی ہو۔اس وقت ہمہ تن خطبہ کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔( )شیخ عبد الحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’دورانِ خطبہ کنکریوں سے کھیلنا لغو و باطل ہے کیونکہ ان کی وجہ سے بندہ خطبہ سننے سے غافل ہو جاتا ہے جیسا کہ گفتگو غفلت کا باعث بنتی ہے۔ کنکریاں چھو نے سےمراد ان سے کھیلنا یا بِلا ضرورت انہیں زمین پر ہموار کرناہے۔بعض نے کہا ہے کہ اس سے مرادکنکریوں کو گھمانا بطور ِتسبیح استعمال کرنا ہےاور یہی زیادہ مناسب ہے کہ خطبہ کے وقت بولنا وبات چیت کرنا منع ہے۔‘‘
نوٹ:مذکورہ حدیثِ پاک کی تفصیلی شرح کے لیے فیضانِ ریاض الصالحین،جلددوم،حدیث نمبر 128 کا مطالعہ کیجئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1148