Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1154

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ اَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيْبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ اِذَا تَكَلَّمَ الْاِمَامُ اِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْاُخْرَى.

عن سلمان رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا يغتسل رجل يوم الجمعة ويتطهر ما استطاع من طهر ويدهن من دهنه او يمس من طيب بيته ثم يخرج فلا يفرق بين اثنين ثم يصلي ما كتب له ثم ينصت اذا تكلم الامام الا غفر له ما بينه وبين الجمعة الاخرى.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا سلمان فارسیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے اور جس قدر ممکن ہو پاکیزگی حاصل کرتا ہے ، اپنا تیل لگاتا ہےاور گھر سے خوشبو لگاتا ہے پھر (نماز ِجمعہ کے لیے )نکل جاتا ہے ۔دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہیں بیٹھتا پھر جو نماز مقدر میں ہے وہ پڑھتا ہے اور خطبہ کے وقت خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔‘‘

شرح حدیث

جمعہ کے دن کے آداب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں جمعہ کے دن کے کچھ آداب بیان کئے گئے ہیں اور ان آداب کا لحاظ رکھنے والے کے لیےایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کےدرمیان کےتمام گناہوں کی مغفرت کی بشارت دی گئی ہے وہ آداب یہ ہیں:جمعہ کے دن غسل کرنا،تیل اور خوشبو استعمال کرنا پھر نمازِ جمعہ کے لیے جانا اور مسجد میں پہنچ کر دو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہ بیٹھنا بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں ہی بیٹھ جانا،نماز جمعہ سے قبل سنن ونوافل ادا کرنا اورخطبہ کے وقت خاموش رہنا۔
علامہ ابن کمال پاشا حنفی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”پاکیزگی حاصل کرنے سے مراد مونچھیں چھوٹی کرنا،ناخن کاٹنا،بغل کے بال اور موئے زیرناف صاف کرنااور کپڑوں کی صفائی ہے۔“جمعہ کے دن تیل لگانے اور خوشبو لگانے کا استحباب:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جمعہ کے دن تیل لگانا خوشبو لگانے کی طرح مستحب ہےاور تمام علما ء اس کے استحباب پر متفق ہیں ۔( )مرآۃ المناجیح میں ہے: گھر میں خوشبو عطر وغیرہ رکھنا اورکبھی ملتے رہنا خصوصًا جمعہ کو ملنا سنت ہے،حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو خوشبو بہت پسند تھی۔خطبہ کے وقت خاموش رہنے کا حکم:حدیثِ پاک میں بیان ہوا:’’پھر (نمازِ جمعہ کے لیے )نکل جاتا ہے اوردو آدمیوں کے درمیان گھس کر نہیں بیٹھتا۔“اس کے تحت مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”اس طرح کہ نہ تو لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ساتھیوں کو چیرکر ان کے درمیان بیٹھے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے،بعض لوگ مسجد میں پیچھے پہنچتے ہیں او رپہلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ا س سے سبق لیں۔’’پھر جو نماز مقدر میں ہے وہ پڑھتا ہے‘‘تَحِیَّۃُ الْمَسْجِدکے نفل یا سنتِ جمعہ،پہلے معنیٰ زیادہ قوی ہیں کیونکہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔غرضکہ اس سے جمعہ کے فرض مراد نہیں کیونکہ آیندہ خطبہ سننے کا ذکر ہے فرضِ جمعہ خطبہ کے بعد ہوتے ہیں۔(اور خطبہ کے وقت خاموش رہتا ہے) اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہٰذا اس وقت نفل پڑھنا، بات کرنا، کھانا پینا سب حرام ہے۔دوسرے یہ کہ جس تک خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو وہ بھی خاموش رہے کیونکہ یہاں خاموشی کو سننے پر موقوف نہ فرمایا۔(تو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک درمیان کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں)دوسرے جمعہ سے مراد آیندہ جمعہ ہے یا گزشتہ،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں،معلوم ہوا کہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں،رب تعالیٰ فرماتا ہے:﴿اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-(پ۱۲، ھود:۱۱۴ )(ترجمۂ کنز الایمان: بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں۔)
امام طبری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:جس اجر کا نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیان فرمایا ہے وہ اس وقت ملے گا جب نمازی اس طرح جمعہ پڑھے جس طرح نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بیان فرمایا ہےاور خاموشی سے اپنے امام کا خطبہ اور نماز میں اس کی قراءت سنے اور جوشخص اس دوران خاموش نہیں رہا اس کو یہ اجر نہیں ملے گا۔اگر امام کی آواز اس تک نہ پہنچ رہی ہو اور اس کا سننا ممکن نہ ہو لیکن وہ اس دوران خاموش رہا ہوتوبھیاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے کرم سے یہی امید ہے کہ وہ اس کو یہ اجر عطا فرمائے گا۔مدنی گلدستہ’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جمعہ کے دن تیل لگانا اور خوشبو استعمال کرنا مستحب ہے۔
(2) جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
(3) خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہٰذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں جمعہ کے آداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1154