Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1150

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اَنَّهُمَا سَمِعَا رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ عَلَى اَعْوَادِ مِنْبَرِهِ:لَيَنْتَهِيَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ اَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهمْ ثُمَّ لَيَكُوْنُنَّ مِنَ الْغَافِلِيْنَ.

عن ابی ھریرۃ وعن ابن عمر رضي الله عنهم انهما سمعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول على اعواد منبره:لينتهين اقوام عن ودعهم الجمعات او ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ اورحضرت سَیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو لکڑی کے منبرپر تشریف فرما ہو کر یہ فرماتے سنا:”لوگوں کو جمعہ چھوڑنےسے بچنا ہوگا ورنہاﷲ عَزَّ وَجَلَّان کے دِلوں پر مُہر لگا دےگا پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جمعہ فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیّت ظہر سے زیادہ مُؤکَّد ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔( )مذکورہ حدیث پاک میں نمازِ جمعہ چھوڑنے والوں کے بارے میں فرمایا گیا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّایسے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافل لوگوں میں سے ہو جائیں گے۔مرآۃ المناجیح میں ہے: یعنی جوسُستی سے جمعہ ادا نہ کرے اس کے دل پر غفلت کی مہر لگ جائے گی جس کی وجہ سے ان کے دل گناہ پر دلیر ہوں گے اور نیکیوں میں سست۔خیال رہے کہ یہاں رُوئے سخن(یعنی اس فرمانِ عالی کا اشارہ) یا تو ان منافقوں کی طرف ہے جو جمعہ میں حاضر نہ ہوتے تھے یا آیندہ آنے والے مسلمانوں کی طرف ہے ورنہ کوئی صحابی تارکِ جمعہ نہ تھے۔دِلوں پر مہر لگنے سے مراد:علامہ ابنِ کمال پاشال حنفیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:امام قاضی عیاضرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنےفرمایا کہ بعض متکلمین کے نزدیک دلوں پر مہر لگنے سے مراد لُطف وکرم نہ فرمانااوربھلائی کے اَسباب مہیا نہ کرنا ہے۔اکثر اہلِ سنت کےمتکلمین کا مذہب یہ ہے کہ اس سے مراد دِلوں میں کُفر پیدا کرنا ہے۔بعض نے کہا: اس سے مراد ان کے خلاف گواہی ہے۔یہ بھی کہا گیا ہےکہ اس سے مراداﷲعَزَّوَجَلَّکا دلوں میں ایسی علامت کا پیدا کرنا ہے جسے پہچان کر فرشتے یہ جان لیتے ہیں کہ کس کی تعریف کرنی ہے اورکس کی مذمت۔نمازِ جمعہ چھوڑنے کا وبال :حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُارشاد فرماتے ہيں کہ صاحِبِ مُعَطَّر پسینہ، باعِثِ نُزولِ سکینہ،فیضِ گنجینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہميں خطبہ ديتے ہوئے ارشاد فرمايا:”اے لوگو! مرنے سے پہلے اپنے ربعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ ميں توبہ کر لو۔مشغوليت سے پہلے نيک اعمال میں جلدی کر لو۔اﷲعَزَّ وَجَلَّکو کثرت سے ياد کر کے اور ظاہرو پوشيدہ کثرت سے صدقہ کرکے اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّسے ناطہ جوڑ لو کہ تمہیں رزق ديا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری پريشانياں دور کر دی جائيں گی اور جان لو!ميری اس جگہ،اس دن، اس مہينے اور اس سال میںاﷲعَزَّ وَجَلَّنے قيامت تک کے لئے تم پرجمعہ فرض فرما ديا ہے لہٰذا جو ميری حياتِ ظاہری میں يا ميرے بعد حاکمِ اسلام کی موجودگی ميں خواہ وہ عادل ہو يا ظالِم، اسے ہلکا جان کریابطورِ انکار چھوڑے گااﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے بکھرے ہوئے کام جمع نہ فرمائے گا اور نہ ہی اس کے کام میں برکت دے گا۔ سن لو! نہ اس کی کوئی نماز ہے نہ زکوٰۃ، نہ حج نہ روزہ اور نہ ہی کوئی نيک عمل جب تک کہ توبہ نہ کرلے اور جوتوبہ کرلے تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی توبہ قبول فرما ليتاہے ۔ترکِ جمعہ کےمتعلق تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :(1)حُضورِ اَنورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نمازِ جمعہ سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارےمیں ارشاد فرمایا:میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو جماعت کروانےکا حکم دوں پھر جو لوگ نمازِ جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ان کے گھروں کواُن کے ساتھ جلادوں۔( )(2)جس نے تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیئےاﷲعَزَّ وَجَلَّاس کے دل پر مہر لگا دےگا۔( )(3)جس نے کسی عذر کے بغير تین جمعے چھوڑ دئيے وہ منافق ہے۔نماز ِجمعہ نہ پڑھنے کا کفارہ:نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَرصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے :جس نے کسی عُذر کے بغير نمازِ جمعہ چھوڑ دی وہ ایک دینار صدقہ کرے پس اگر نہ پائے تونصف دینار صدقہ کرے۔صَدْرُالشَّرِیْعَہحضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجدعلی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ دینار تَصَدُّق کرنا شاید اس لئے ہو کہ قبولِ توبہ کے لئے معین(یعنی مددگار)ہو ورنہ حقیقتاً تو توبہ کرنافرض ہے۔ايک روايت میں ہے:ايک درہم يا نصف درہم صدقہ کرے يا ايک صاع يا ايک مُد صدقہ کر دے۔مدنی گلدستہ’’فرض‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جمعہ فرضِ عین ہے اور اس کی فرضیّت ظہر سے زیادہ مُؤکَّد ہے اور اس کا منکر کافر ہے۔
(2) جان بوجھ کر نمازِ جمعہ چھوڑنے والےکا کوئی نیک عمل قبول نہیں جب تک کہ وہ توبہ نہ کر لے ۔
(3) سُستی کی وجہ سےنمازِ جمعہ ادا نہ کرنے والے کے دل پر غفلت کی مہر لگادی جاتی ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نمازِ جمعہ پا بندی سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1150