Main Icon

باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1155

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسَوُلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنِ اغْتَسَلَ يَـوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْاُوْلٰی فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا اَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَاَنَّما قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُوْنَ الذِّكْرَ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من اغتسل يـوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح في الساعة الاولی فكانما قرب بدنة ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة فاذا خرج الامام حضرت الملائكة يستمعون الذكر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کیاپھر پہلی گھڑی میں نماز کے لئے چلا توگویا اس نے ایک اونٹ صدقہ کیا اور جو دوسری گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسری گھڑی میں چلاتو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا توگویا اس نے ایک مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک انڈا صدقہ کیااور جب امام نکل آئے توفرشتے حاضر ہوکر اس کا خطبہ سنتے ہیں۔

شرح حدیث

نمازِجمعہ کے لیے جلدی نکلنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں: ایک یہ کہ نمازِ جمعہ کے لیے اچھی طرح غسل کرنا۔ دوسری یہ کہ نمازِ جمعہ کے لیے جلدی نکلنا کہ جتنا جلدی جمعہ کے لیے نکلیں گے ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ملےگا۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کرپہلے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک اونٹ صدقہ کیا۔اس کے بعد آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گائے صدقہ کی ۔اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک مینڈھا صدقہ کرنے والے کی سی ہے۔اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک مرغی صدقہ کرنے والے کی سی ہے۔ اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک انڈا صدقہ کرنے والے کی سی ہے اور جب امام منبر پر آجائے توفرشتے اپنے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔“غسلِ جنابت کی طرح غسل کرنا:”جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کیا“فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے جنابت کا غسل اچھی طرح کیاجاتا ہے اسی کے مطابق اچھی طرح غسل کرےاور حقیقی معنیٰ کابھی احتمال ہے یعنی وہ غسل جنابت ہی کرے۔اس کی مؤید ابوداؤد وغیرہ کی یہ حدیث ہے جو حضرت اوس ثقفیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو جمعے کے دن غسل کرے اور کرائے اور سویرے لیجائے اور جائے ،خطبے کا اول حصہ پائےاور پیدل چلے سوار ہوکر نہ جائےاور امام کے قریب رہے۔بغور خطبہ سنے اور کوئی لغو کام نہ کرے تو اسے ہر قدم پر سال بھر کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا۔“حدیث پاک میں فرشتوں کا ذکر ہوا۔
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہ فرشتے مخصوص ہیں جن کی ڈیوٹی جمعہ کو لگتی ہے ،اعمال لکھنے والے نہیں۔بعض عُلما نے فرمایا کہ ملائکہ جمعہ کی طلوعِ فجر سے کھڑے ہوتے ہیں،بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے،مگر حق یہ ہے کہ سورج ڈھلنے(یعنی ابتدائے وقتِ ظہر ) سے شروع ہوتے ہیں کیونکہ اسی وقت سے وقت جمعہ شروع ہوتا ہے،معلوم ہوا کہ وہ فرشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں،خیال رہے کہ اگر اوَّلاً سو آدمی ایک ساتھ مسجد میں آئیں تو وہ سب اوَّل ہیں۔‘‘حدیثِ پاک سے ماخوذمسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیمذکورہ حدیثِ پاک سے ماخوذ مسائل ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:7جمعہ کے دن غسل کرنا اور نمازِ جمعہ کےلئے جلدی جانا یہ دونوں باتیں مستحب ہیں۔7 فضیلت میں لوگوں کے مَراتب اُن کے اَعمال کے مطابق ہوتے ہیں7حدیث میں اونٹ،گائے، مینڈھے، مرغی اور انڈہ صدقہ کرنے کا ذِکر کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ قربانی اورصدقہ قلیل اور کثیر چیز میں بھی ہوتا ہے۔“پہلی صدی میں جمعہ کا جذبہ:حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں :پہلی صدی ہجری میں سحری کے وقت اور فجر کے بعد راستے لوگوں سے بھرے ہوئے دیکھے جاتے تھے،وہ چراغ لیے ہوئے (نمازِ جمعہ کے لیے)جامع مسجد کی طرف جاتے گویا عید کا دن ہو حتّٰی کہ یہ (یعنی نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانے کا )سلسلہ ختم ہو گیا۔ پس کہا گیا کہ اسلام میں جو پہلی بدعت ظاہر ہوئی وہ جامع مسجد کی طرف جلدی جانا چھوڑنا ہے۔ افسوس!مسلمانوں کو کسی طرح یہودیوں سے حیا نہیں آتی کہ وہ لوگ اپنی عبادت گاہوں کی طرف ہفتے اور اتوار کے دن صبح سویرے جاتے ہیں نیز طلبگارانِ دنیا خرید و فروخت اور حصولِ نفعِ دُنیوی کے لیے سویرے سویرے بازاروں کی طرف چل پڑتے ہیں تو آخرت طلب کرنے والے ان سے مقابلہ کیوں نہیں کرتے۔مدنی گلدستہ’’صدقہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کر کے نمازِ جمعہ کے لئےپہلی گھڑی میں جانے والے کو ایک اونٹ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
(2) نمازِ جمعہ کے لئے پہلی گھڑی میں جانے سے مراد ابتدائے وقتِ ظہر ہےیعنی زوال کا وقت ختم ہوتے ہی مسجد میں پہنچ جانا،اس کے بعد جو شخص جتنی تاخیر سے جائےگا ثواب میں اتنی ہی کمی ہوگی ۔
(3) خطبہ شروع ہونے سے پہلے تک فرشتے نمازِ جمعہ کے لئے آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب خطبہ شروع ہوتا ہے تو فرشتے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
(4) قربانی اور صدقہ قلیل وکثیردونوں چیزوں میں ہوتاہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نماز ِجمعہ کے لئے جلدی جانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1155