باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1155
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسَوُلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنِ اغْتَسَلَ يَـوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْاُوْلٰی فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا اَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ فَكَاَنَّما قَرَّبَ دَجَاجَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ فَكَاَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُوْنَ الذِّكْرَ.
عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من اغتسل يـوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح في الساعة الاولی فكانما قرب بدنة ومن راح في الساعة الثانية فكانما قرب بقرة ومن راح في الساعة الثالثة فكانما قرب كبشا اقرن ومن راح في الساعة الرابعة فكانما قرب دجاجة ومن راح في الساعة الخامسة فكانما قرب بيضة فاذا خرج الامام حضرت الملائكة يستمعون الذكر.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کیاپھر پہلی گھڑی میں نماز کے لئے چلا توگویا اس نے ایک اونٹ صدقہ کیا اور جو دوسری گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک گائے صدقہ کی اور جو تیسری گھڑی میں چلاتو گویا اس نے سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا توگویا اس نے ایک مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک انڈا صدقہ کیااور جب امام نکل آئے توفرشتے حاضر ہوکر اس کا خطبہ سنتے ہیں۔
شرح حدیث
نمازِجمعہ کے لیے جلدی نکلنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں دو باتیں بیان کی گئی ہیں: ایک یہ کہ نمازِ جمعہ کے لیے اچھی طرح غسل کرنا۔ دوسری یہ کہ نمازِ جمعہ کے لیے جلدی نکلنا کہ جتنا جلدی جمعہ کے لیے نکلیں گے ثواب بھی اتنا ہی زیادہ ملےگا۔بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ نبی پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب جمعہ کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو کرپہلے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک اونٹ صدقہ کیا۔اس کے بعد آنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے ایک گائے صدقہ کی ۔اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک مینڈھا صدقہ کرنے والے کی سی ہے۔اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک مرغی صدقہ کرنے والے کی سی ہے۔ اس کے بعد آنے والے کی مثال ایک انڈا صدقہ کرنے والے کی سی ہے اور جب امام منبر پر آجائے توفرشتے اپنے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔“غسلِ جنابت کی طرح غسل کرنا:”جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح غسل کیا“فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس سے مراد یہ ہے کہ جیسے جنابت کا غسل اچھی طرح کیاجاتا ہے اسی کے مطابق اچھی طرح غسل کرےاور حقیقی معنیٰ کابھی احتمال ہے یعنی وہ غسل جنابت ہی کرے۔اس کی مؤید ابوداؤد وغیرہ کی یہ حدیث ہے جو حضرت اوس ثقفیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو جمعے کے دن غسل کرے اور کرائے اور سویرے لیجائے اور جائے ،خطبے کا اول حصہ پائےاور پیدل چلے سوار ہوکر نہ جائےاور امام کے قریب رہے۔بغور خطبہ سنے اور کوئی لغو کام نہ کرے تو اسے ہر قدم پر سال بھر کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا۔“حدیث پاک میں فرشتوں کا ذکر ہوا۔
مُفَسِّرِشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہ فرشتے مخصوص ہیں جن کی ڈیوٹی جمعہ کو لگتی ہے ،اعمال لکھنے والے نہیں۔بعض عُلما نے فرمایا کہ ملائکہ جمعہ کی طلوعِ فجر سے کھڑے ہوتے ہیں،بعض کے نزدیک آفتاب چمکنے سے،مگر حق یہ ہے کہ سورج ڈھلنے(یعنی ابتدائے وقتِ ظہر ) سے شروع ہوتے ہیں کیونکہ اسی وقت سے وقت جمعہ شروع ہوتا ہے،معلوم ہوا کہ وہ فرشتے سب آنے والوں کے نام جانتے ہیں،خیال رہے کہ اگر اوَّلاً سو آدمی ایک ساتھ مسجد میں آئیں تو وہ سب اوَّل ہیں۔‘‘حدیثِ پاک سے ماخوذمسائل:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیمذکورہ حدیثِ پاک سے ماخوذ مسائل ذکرکرتے ہوئے فرماتے ہیں:7جمعہ کے دن غسل کرنا اور نمازِ جمعہ کےلئے جلدی جانا یہ دونوں باتیں مستحب ہیں۔7 فضیلت میں لوگوں کے مَراتب اُن کے اَعمال کے مطابق ہوتے ہیں7حدیث میں اونٹ،گائے، مینڈھے، مرغی اور انڈہ صدقہ کرنے کا ذِکر کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ قربانی اورصدقہ قلیل اور کثیر چیز میں بھی ہوتا ہے۔“پہلی صدی میں جمعہ کا جذبہ:حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں :پہلی صدی ہجری میں سحری کے وقت اور فجر کے بعد راستے لوگوں سے بھرے ہوئے دیکھے جاتے تھے،وہ چراغ لیے ہوئے (نمازِ جمعہ کے لیے)جامع مسجد کی طرف جاتے گویا عید کا دن ہو حتّٰی کہ یہ (یعنی نمازِ جمعہ کے لیے جلدی جانے کا )سلسلہ ختم ہو گیا۔ پس کہا گیا کہ اسلام میں جو پہلی بدعت ظاہر ہوئی وہ جامع مسجد کی طرف جلدی جانا چھوڑنا ہے۔ افسوس!مسلمانوں کو کسی طرح یہودیوں سے حیا نہیں آتی کہ وہ لوگ اپنی عبادت گاہوں کی طرف ہفتے اور اتوار کے دن صبح سویرے جاتے ہیں نیز طلبگارانِ دنیا خرید و فروخت اور حصولِ نفعِ دُنیوی کے لیے سویرے سویرے بازاروں کی طرف چل پڑتے ہیں تو آخرت طلب کرنے والے ان سے مقابلہ کیوں نہیں کرتے۔مدنی گلدستہ’’صدقہ ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) جمعہ کے دن اچھی طرح غسل کر کے نمازِ جمعہ کے لئےپہلی گھڑی میں جانے والے کو ایک اونٹ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔
(2) نمازِ جمعہ کے لئے پہلی گھڑی میں جانے سے مراد ابتدائے وقتِ ظہر ہےیعنی زوال کا وقت ختم ہوتے ہی مسجد میں پہنچ جانا،اس کے بعد جو شخص جتنی تاخیر سے جائےگا ثواب میں اتنی ہی کمی ہوگی ۔
(3) خطبہ شروع ہونے سے پہلے تک فرشتے نمازِ جمعہ کے لئے آنے والوں کے نام لکھتے رہتے ہیں اور جب خطبہ شروع ہوتا ہے تو فرشتے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔
(4) قربانی اور صدقہ قلیل وکثیردونوں چیزوں میں ہوتاہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نماز ِجمعہ کے لئے جلدی جانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1155