Main Icon

باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1087

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَوُّوْا صُفُوْفَكُمْ فَاِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ.( ) وَفِيْ رِوَايَةِ الْبُخَارِيْ: فَاِنَّ تَسْوِيَةَ الصُّفُوْفِ مِنْ اِقَامَةِ الصَّلَاةِ.

عن انس رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سووا صفوفكم فان تسوية الصف من تمام الصلاة.( ) وفي رواية البخاري: فان تسوية الصفوف من اقامة الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو کیونکہ صفوں کی درستگی میں نماز کی تکمیل ہے ۔“اور بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ” صفوں کو سیدھا رکھنا نماز قائم کرنا ہے ۔“

شرح حدیث

صف سیدھی کرنے کا معنی:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی ربّ تعالیٰ نے جو فرمایا:﴿ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ﴾(پ۱،البقرۃ:۳)(ترجمۂ کنزالایمان: نمازقائم رکھیں)یافرمایا:﴿ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ﴾(پ۱،البقرۃ:۴۳) (ترجمۂ کنزالایمان: نماز قائم رکھو)۔ اس سے مراد ہے نماز صحیح پڑھنا اور نماز صحیح پڑھنے میں صف کا سیدھا کرنا بھی داخل ہے کہ اس کے بغیر نماز ناقص ہوتی ہے۔“علامہ سید محموداحمدرضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”ظاہر ہے کہ تسویۂ صفوف ( صفیں سیدھی رکھنا)حقیقتِ نماز میں داخل نہیں کہ اگر صف سیدھی نہ ہو تو نماز بھی نہ ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ صفوں کو سیدھا رکھنا نماز کا حسن اور اس کے آداب سے ہے۔ اَحناف کے نزدیک صفوں کو سیدھا رکھنا واجب ہے۔“مدنی گلدستہ’’ بابِ جبریل ‘‘کے8حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہاور ان کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) صفِ اَوَّل کے حصول اور دینی کاموں میں سُستی کرنے والے کو کثیر ثواب، رب کی رحمت، بلند مقام اور فضلِ عظیم سے پیچھے کردیاجاتا ہے ۔
(2) صفوں کو سیدھا رکھنا نماز کے حسن اور اس کے آداب سے ہے۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے براہِ راست ظاہری و باطنی علوم سیکھے ان سے تابعین عظام نے سیکھے ان سے تبع تابعین نے ان سے بعد والوں نے اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔
(4) علما و مشائخ ہی ظاہری و باطنی علوم کا منبع ہوتے ہیں،انہیں سے اہلِ زمانہ علم کی خوشبو سے مُعَطَّر ہوتے ہیں۔
(5) ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جو دِین کی بات اسے معلوم ہو حسبِ حیثیت اسے دوسروں تک پہنچائے۔
(6) جماعت میں صاحبِ فضیلت افراد امام کے قریب کھڑیں ہوں کیونکہ وہ احترام کے زیادہ حق دار ہیں اسی طرح جماعت کے علاوہ بھی دیگرفضل والے کاموں میں اہلِ فضل ہی کو مُقَدَّم رکھنا چاہیے۔
(7) جو قوم اپنی صفیں درست نہیں رکھتی ان کے معاملات میں اختلاف ہوجاتاہے ،ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں ۔
(8) ائمہ کرام کو چاہیے کہ نماز شروع کرنے سے قبل صفیں درست کروانے والی سنت پر عمل کرتے ہوئے صفیں ضرور درست کرائیں کہ اس سے مسلمانوں میں باہمی محبت پیدا ہوتی ہے ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نمازمیں صفیں درست رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1087